غزل

شاعر۔۔۔۔ذوالفقار ہمدم اعوان
بسر جو  قرب میں تیرے یہ زندگی نہ ہوئی
اسی وجہ سے مرے درد میں کمی نہ ہوئی
دلِ خراب نے چاہی تھی بندگی لیکن
خلوصِ دل سے کسی سے بھی بندگی نہ ہوئی
چراغِ زیست جلایا تھا روشنی کے لیے
مرے نصیب سے غائب یہ تیرگی نہ ہوئی
وفا کے خواب جو آنکھوں میں ہم نے پالے تھے  
کسی کے خون میں شامل وہ دوستی نہ ہوئی
ہزار بار ہری شاخ دل نے پکڑی مگر
بہار آئی بھی تو شاخِ  دل ہری نہ ہوئی
تمہارے وعدے پہ ہم نے بھروسہ کر تو لیا
مگر یہ بات کبھی باعثِ خوشی نہ ہوئی
ستم کی دھوپ میں جلتے رہے سدا دونوں
کسی بھی بادلِ رحمت کی یہ گھڑی نہ ہوئی
گماں یہی تھا کہ بدلے گا یہ جہاں اک دن
مگر یہ بات حقیقت میں دوسری نہ ہوئی
ہم اپنے زخم چھپاتے رہے زمانے سے
خوشی کی رات تو جیون میں پر کبھی نہ ہوئی
دلِ شکستہ میں باقی رہی خلش کی چبھن
مرے سکوں کا سبب تیری دلبری نہ ہوئی
ہر ایک شخص سے پوچھا ہے تیرے گھر کا پتا
جب اپنے عشق کی شہرت گلی گلی نہ ہوئی
محبتوں کی زباں مجھ کو راس آتی ہے
کسی بھی اور حوالے سے شاعری نہ ہوئی

About dailypehchan epakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow