تحریر۔۔۔۔ واجد علی تونسوی
عربی زبان میں لفظ” ختم “کئی معنی میں استعمال ہوتا ہے :مہر لگانا ،بند کرنا ، کسی چیز کو تمام کرنا،مثلا ؛”ختم الکتاب “کے معنی ہیں” پوری کتاب پڑھ لی “ پس ختم نبوت کے معنی ہوئے” سلسلہ نبوت ختم ہو گیا اور اس پر مہر لگ گئی“ ۔
لفظ ”خاتم“ کا معنی ہے آخر ۔یہ لفظ مہر کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے کیونکہ مہر کسی چیز پر اس کے بند کرنے کے لیے آخر میں ہی لگائی جاتی ہے، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس میں مہر لگا دی گئی ہے ؛اب نہ کوئی چیز اس میں سے نکل سکتی ہے اور نہ کچھ اس کے اندر داخل ہوسکتی ہے۔حضرت آدم ؑ سے انبیاء ؑ کا اللہ نے جو سلسلہ شروع فرمایا تھا ،اس کی آخری کڑی نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ ہیں، اب آپ ﷺ کے بعد کوئی بھی شخص نبی نہیں بن سکتا حتی کہ حضرت عیسیٰ ؑ نازل ہونے کے بعد شریعت محمدیہ کی پابندی کریں گے، اسلام کا یہی عقیدہ” عقیدہ ختم نبوت “کے نام سے مشہور ہے ۔
قرآن مجید کی سینکڑوں آیات ایسی ہیں جو اس بات کو بیان کرتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔چنانچہ قرآن مجید میں آیا ہے:
ترجمہ: ” (مسلمانو!)محمد (ﷺ) تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں۔ ‘‘
اس آیت میں صراحت کے ساتھ بتا دیا گیا ہے کہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں اور ان کے بعد سلسلہ نبوت ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے۔بے شمار احادیث مبارکہ بھی ختم نبوت پر واضح دلالت کرتی ہیں،ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
”اے لوگو! بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں“۔
”اور بے شک میری اُمت میں تیس کذاب ہوں گے، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے۔ اور میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں“۔
” رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جس نے بہت اچھے طریقے سے ایک گھر بنایا اور اسے ہر طرح سے مزین کیا، سوائے اس کے کہ ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ (چھوڑ دی) پھر لوگ اس کے چاروں طرف گھومتے ہیں اور (خوشی کے ساتھ) تعجب کرتے ہیں اور کہتے ہیں: یہ اینٹ یہاں کیوں نہیں رکھی گئی؟ آپ (ﷺ) نے فرمایا: پس میں وہ (نبیوں کے سلسلے کی) آخری اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں“۔
” رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”مجھے انبیاء پر چھ فضیلتیں عطا کی گئی ہیں:مجھے جوامع الکلم (جامع کلام ) عطا کیا گیا،رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی،میرے لئے مالِ غنیمت حلال کیا گیا،میرے لیے زمین کو پاک کرنے والی اور مسجد بنایا گیا،مجھے ساری مخلوق (تمام انسانوں اور جنوں) کے لیے رسول بنا کر بھیجا گیااور میرے ساتھ نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔‘‘
یہ ارشادات نبوی اس بات کو بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ آخری نبی ہیں ۔
پہلی صدی سے لے کر آج تک تمام امت کا اجماع ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا اور جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے اور جو لوگ بھی اس کی تصدیق کریں تو وہ تمام کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ چنانچہ امام ابو حنیفہ ؒمدعی نبوت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جو شخص مدعی نبوت سے نبوت کی علامت طلب کرے گاتو وہ بھی کافر ہو جائے گا کیونکہ رسول اللہ ﷺ فرما چکے ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔علامہ بیضاوی ؒفرماتے ہیں کہ آپ ﷺ انبیاء میں سب سے آخری نبی ہیں ،آپ ﷺ کے بعد کوئی شخص نبی نہیں ہوسکتا۔
سیکڑوں صحابۂ کرامؓ نے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے جام شہادت نوش کیا اور مدعی نبوت مسیلمہ کذاب اور اس کے متبعین اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئے۔برصغیر میں جب مرزا قادیانی فتنہ نمودار ہوا اور نبوت کا دعویٰ کیا تو علمائے کرام نے مرزا قادیانی کے خلاف کفر و ارتداد کے فتاویٰ جاری کیے۔ مرزا قادیانی کی نہ صرف تکفیر کی ،بلکہ اس کا تعاقب کر کے مناظرے اور مباہلے کے چیلنج بھی دئیے اور قبول کئے ،اور ہر سطح پر مرزا کو جھوٹا و کذاب اور کافر و مرتد ثابت کیا۔امیر شریعت سید عطاء اﷲ شاہ بخاریؒ نے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفّظ کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا اور قید و بند کی صعوبتوں کا مردانہ وار مقابلہ کرکے نسل نو کے ایمان کی حفاظت میں اہم کردار ادا کیا۔اب دنیا و آخرت میں سرخ رُو ہونے کے لیے عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔ امام العصر حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ فرماتے تھے: ’’جو شخص قیامت کے دن رسول اﷲ ﷺ کے دامن شفاعت سے وابستہ ہونا چاہتا ہے،وہ قادیانیت سے ناموس رسالتؐ کو بچائے۔“
‘‘ علامہ انورشاہ کشمیری ؒ کا وہ تاریخی جملہ بھی ہمیں یادرکھنا چاہیے ’’اگر ہم تحفظ ختم نبوت نہ کرسکیں ، تو گلی کا کتابھی ہم سے بہتر ہے ‘‘۔
امت مسلمہ پر درج ذیل اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں:
امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس فتنے کا علمی، فکری اور سماجی سطح پر مقابلہ کریں اور ان لوگوں کو بے نقاب کریں جو عقیدہ ختم نبوت کو چیلنج کرتے ہیں۔امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو رسول اللہ ﷺ کا مکمل تعارف کرائیں ۔ آپ ﷺ کی سیرت بار بار پڑھائیں۔ ان کو بتائیں کہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں ، ان کے بعد کسی نبی کا قیامت تک آنا ممکن نہیں ہے۔ ان میں حب رسول اللہ ﷺ بیدار کریں۔علماء کو ختم نبوت کے عقیدے کی حفاظت کے ساتھ ساتھ امت کو جدید دور کے فتنوں سے بھی آگاہ کرنا چاہیے۔مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ آپس میں اختلافات کو کم کریں اور دین کے بنیادی عقائد پر مضبوطی سے قائم رہیں۔ ختم نبوت کے عقیدے پر یکسوئی اور اتحاد امت مسلمہ کے لیے فلاح و بہبود کا ذریعہ بن سکتا ہے۔امت مسلمہ پر لازم ہے کہ وہ اس فتنے کا ردّ کرے اور اس کے باطل عقائد کو بے نقاب کرے،اور وہ اپنے معاشرے میں شعور پیدا کریں تاکہ لوگ ختم نبوت کے عقیدے سے اچھی طرح واقف ہوں اور اس فتنے کا شکار نہ ہوں۔
آرٹیکل 260 (۳) اے میں ہے: ’’مسلم‘‘ سے مراد کوئی ایسا شخص جو وحدت اور توحید قادر مطلق اللہ تبارک و تعالیٰ، خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط طور پر ایمان رکھتا ہو اور پیغمبر یا مذہبی مصلح کے طور پر کسی ایسے شخص پر نہ ایمان رکھتا ہو نہ اسے مانتا ہو، جس نے حضرت محمد ﷺ کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا ہو یا جو دعویٰ کرے۔
260 (ب) میں قادیانی اور لاہور گروپ یا پھر کوئی بھی ایسا گروپ جو خود کو احمدی کہلواتا ہے، اسے غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ ان آئینی شقوں کی مکمل پاسداری کرے۔عقیدہ ختم نبوت اسلام کی اساس ہے اور اس کی حفاظت امت مسلمہ کی اولین ذمہ داری ہے۔لہٰذا مسلمانوں کو ہر سطح پر اس عقیدے کی حفاظت کرنی چاہیے اور اپنے ایمان کو مضبوط رکھنا چاہیے۔نبی کریم ﷺ کی سیرت اور آپ ﷺکے پیغام کو دنیا بھر میں پھیلانے کی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے امت مسلمہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کر سکتی ہے۔
؎امیرِ کاروانِ زیست ، امام الانبیاء تم ہو
خدا کے خاص پیغمبر محمد مصطفیٰﷺ تم ہو
Latest Posts
