تحریر۔۔۔۔ آمنہ صابر حسین شاہ،سیالکوٹ
یوں تو انسان کچھ لمحات کو لفظوں میں ڈھالنے سے قاصر ہوتا ہے پر کبھی کبھی زندگی میں ایک ایسا لمحہ آتا ہے جب روح کا خالی پن ، دل کی گہرائیوں میں چھپے دکھ ، مایوسی اور بے یقینی کی گہری دھند چھٹنے لگتی ہے جب زندگی کا ایک نیا سفر شروع کرنے کی شدید خواہش پروان چڑ ھتی ہے۔ آج سے تین برس پہلے کی زندگی کا فرق فقط،وقت، حالات خواہشات، جذبات ، احساسات کا نہیں بلکہ طمانیت کا فرق ہے اور یہ فرق صرف اک حرف میں سمویا ہے۔ اور وہ حرف ہے ،”قرآن“۔
تین سال، زندگی کا سب سے خوبصورت اور قیمتی سفر “مصباح القرآن” قرآن کا سفر آج الحمد اللہ نئے عزم، نئے ارادے ، نئے جوش نئی لگن اور نئے عہد کے ساتھ تکمیل کو پہنچا۔قرآن کے بغیر زندگی ایک انجان راہ کی مانند تھی جہاں نہ منزل تھی نہ راستہ تھا۔ کبھی یہ محسوس ہی نہیں ہوتا تھا کہ زندگی کا کوئی اصل مقصد ہے بس ایک دن گزر رہا تھا دوسرے دن کے پیچھے دنیا کی چمک، لوگ ، خوشیاں ، اور غم سب کچھ لمحاتی تھا اور اس سے آگے کچھ نہیں تھا زندگی کا اصل سکون ، اس کی اصل حقیقت سب کچھ میرے لیے غیر معلوم تھا۔زندگی کے نئے سفر، نئے موڑ پر قرآن کا ہر صفحہ، ہر آیت، ہر حرف میرے لیے ایک آئینہ کی مانند تھا جو مجھے میرے اندر چھپی خامیاں دکھا رہا تھا، میری غفلتوں کو بے نقاب کر رہا تھا اور میرے دل کو جھنجھوڑ رہا تھا لیکن دل میں خوف کے ساتھ ساتھ ایک عجیب سکون تھا۔ جیسے روح اپنی اصل کو پہنچانے لگی تھی رب سے تعلق مضبوط اور پڑوان چڑھنے لگا تھا۔ دنیا سے بے رغبتی کا احساس دل میں اترنے لگا تھا۔قرآن زندگی کا حصہ بننے لگا قرآن سے دل لبریز ہونے لگا۔ لب قرآن کی خوشبو بکھیرنے لگے روح رب کائنات کے قریب ہونے لگی۔ دل قرآن کی روشنی سے منور ہونے لگا ہر دن ایک نیا چیلنج، ایک نئی امید، ایک نیا سبق تھا۔ رفتہ رفتہ یہ سلسلہ چلتا رہا روح اپنی اصل کی طرف لوٹنے لگی اور رب کی رحمت سے یہ سفر تکمیل کی جانب بڑھنے لگا۔تکمیلِ قرآن و دعا کے اس روح پرور اور خوبصورت موقع پر استاذہ نگہت ہاشمی جیسی عظیم اور باوقار شخصیت سے ملاقات کا شرف نصیب ہوا۔ ان کی شخصیت سراپا علم، عاجزی، اور خلوص کا ایک کامل نمونہ ہے۔ ان کے چہرے پر چھائی ہوئی سکینت اور ان کی آنکھوں میں جھلکتا ہوا قرآن کا نور دیکھ کر دل پر ایک عجیب سا سکون طاری ہو جاتا ہے۔ ان کے الفاظ، جیسے دلوں کو چھوتے ہیں، ویسے ہی عمل کی طرف راغب کرتے ہیں۔ ان کی باتوں میں چھپی سچائی اور ان کے انداز میں موجود عاجزی نے یہ سکھایا کہ حقیقی کامیابی صرف قرآن سے جڑنے اور اس پر عمل کرنے میں ہے۔یہ شاندار تقریب، جہاں علم کی خوشبو فضاؤں میں بکھری ہوئی تھی، ایک ایسا لمحہ تھا جو ہمیشہ کے لیے دل میں نقش ہو گیا۔ ہر طرف سکینت اور اللہ کے کلام کی برکت محسوس ہو رہی تھی۔ استاذہ جی کی رہنمائی میں قرآن کی تکمیل کا یہ لمحہ ایک خواب کی تعبیر جیسا تھا۔ ان کی دعاؤں اور محبت نے دلوں میں ایک نئی روشنی پیدا کی، اور یہ یاد دلایا کہ یہ سفر محض ایک ابتدا ہے، ابھی قرآن کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہے، اس کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانا ہے، ابھی قرآن کو عمل میں لانا ہے، ابھی قرآن گھر گھر تک دنیا بھر تک پہنچانا ہے، ان شاء اللہ !
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ قرآن کی راہوں کا مسافر بنائے رکھے اس کی روشنی سے ہماری زندگیاں منور کریں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیں اپنے چنے ہوئے خاص بندوں میں سے رکھیں۔رب العزت سے دعا ہے کہ ہماری جوانیاں،ہماری زندگی اپنے دین کی سر بلندی کے لیے وقف کروالیں اللہ تعالی ہم سب سے راضى ہو جائے۔ آمین یا رب العالمین !
Latest Posts
