عنوان: دعا اور ایمان کی طاقت

تحریر۔۔۔ سیدہ فاطمہ
دعا عبادت کا مغز ہے۔دعا ایک ایسی عبادت ہے کہ جس سے تقدیر بھی بدل سکتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ہماری دعا خالص نیت کے ساتھ ہو اور ہمیں اللہ تعالیٰ پر کامل یقین ہونا چاہیے۔ایمان کی طاقت بہت بڑی طاقت ہوتی ہے ۔ ہمارا ایمان مضبوط ہو۔ ایمان خالص ا س وقت ہو گا ،جب ہم اللہ سے دعا سچے دل سے مانگیں ، یہ سوچیں کہ ہماری دعا ضرور قبول ہو گی۔ ہمارے حق میں بہتر ہو گی تو ہمیں اللہ تعالیٰ ہمیں بہترین دیتے ہیں اور جو دعائیں دنیا میں قبول نہیں ہوتی وہ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے آخرت کے لیے ہمیں عمدہ نعمتیں عطا فرماتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ہر حال میں شکر ادا کرتے رہیں۔
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ایمان کی طاقت بھی ہے۔ ایمان کی ایک الگ لذت ہوتی ہے۔صحابہ کرام علیہم السلام کے ایمان کی پختگی مثالی تھی کیونکہ ہمارے صحابہ کرام علیہم السلام کے ایمان مضبوط اور نیت خالص ہوتی تھی ، ان کے اخلاق اعلیٰ اور کردار عمدہ تھے۔ہمارے معاشرے میں انصاف نہیں ہے کیونکہ لوگوں کا ایمان خالص نہیں اس کے علاوہ ہر قدم پر بے ایمانی ، ناانصافی ،بد اخلاقی ، بے حیائی عام ہوچکی ہے ۔ایمان کی طاقت کمزور ہو گئی ہے۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں معاشرے میں انصاف قائم تھا۔رات کو جاگ کر گھر کے باہر والوں اور پڑوس کی خبر رکھتے تھے۔ان کے دورِ خلافت میں ایک کتا بھی پیاسا نہیں رہا۔ایسا انصاف پسند حکمران ان کے بعد نہیں آیا۔رات کو گھر گھر راشن پہنچانے کا انتظام کرتے تھے۔ان کو فکر تھی کہ اللہ تعالیٰ کے آگے حساب دینا ہے ۔ایمان کی طاقت، خالص نیت کی وجہ سے تھی ۔یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور حکومت میں انصاف تھا اور معاشرے میں سکون تھا۔

About dailypehchan epakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow