تحریر۔۔۔ پروفیسر وحید الزماں طارق
محترمہ حنا انصاری ایک نوجوان قلم کار ہیں۔ وہ شستہ اور رواں زبان میں اپنا مافی الضمیر بیان کرتی ہیں۔ آپ کے افسانے بہت مختصر مگر زندگی کی حقیقتوں کے عکاس ہوتے ہیں۔ وہ نہ تو دیو مالائی داستانیں بیان کرتی ہیں اور نہ ہی اشرافیہ کے بگڑے ہوئے ان کی کہانیوں کے کردار ہیں۔ وہ گلی محلے کی بابت لکھتی ہیں۔ فٹ پاتھ اور پٹرول پمپ کے لوگ یا پھر درختوں پر چہچہاتی مینائیں؛ وہ پرندوں کو بھی انسان کا ترجمان بنا دیتی ہیں۔ ان کے کردار زندگی کی تلخیوں کو سمیٹے ہوئے عصر حاضر کے عام انسان ہیں۔ ایسے افسانہ نگار کا مشاہدہ بہت اہم ہوا کرتا ہے۔ وہ جزئیات کو سمیٹ کر انہیں جذبات میں لپیٹ لینے کا فن جانتی ہیں؛ پھر مناسب الفاظ اور فقرات کی صورت انہیں قرطاس پر بکھیرنا بھی ہر کسی کے بس کا کام نہیں ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ تصویر کشی کر رہی ہیں کیونکہ وہ کردار قاری کو اپنے ساتھ لئے پھرتے ہیں۔ زندگی کی حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ کردار ہم لوگ ہیں۔ میرا خیال ہے کہ کہانی وہیں رہتی ہے دور اور کردار تبدیل ہو جایا کرتے ہیں یعنی پرانے مینا و جام میں نئی شراب انڈیل دی جاتی ہے۔ انسان کی فطرت تو وہی رہتی ہے اور داستان بھی چنداں بدل نہیں پاتی۔
اس کی مثال ان کی کہانی وراثت ہے جو ایک لیڈی پولیس آفیسر کے مشاہدے پر بنی ہے جسے کھیتوں میں ایک بندھی ہوئی لڑکی ملتی ہے۔ جس کے ساتھ نہ ہی زیادتی ہوئی ہے اور نہ ہی وہ اغوا ہوئی ہے بلکہ وہ خود ایک ڈرامے کا کردار ہے۔ محترمہ بنی انصاری لکھتی ہیں کہ :
”اجمل کا باپ جانتا تھا کہ یہ زمیندار اور وڈیرے کسی کے سگے نہیں بنتے۔ موقع ملتے ہی یہ وڈیرے اپنے کمی لوگوں کو استعمال کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ وہ خود ماضی میں ان کی سازش کا شکار ہو چکا تھا۔ اس کی عقل مندی اور خوش قسمتی نے اسے بڑے نقصان سے بچا لیا تھا لیکن اجمل کی آنکھوں پر اندھے اعتماد کی پٹی بندھی ہوئی تھی۔“
اس جملے کا ایک ایک لفظ اس کہانی کے تکرار کا آئینہ دار ہے جو صدیوں سے ہمارے دیسی معاشرے میں دہرائی جا رہی ہے مگر کردار بدل جاتے ہیں۔ نسل در نسل لوگ ایک ہی داستان کو دہراتے رہتے ہیں اور زمینداری کا نظام انہیں کرداروں کے بل بوتے پر استحکام حاصل کرتا رہتا ہے ۔انہیں کرداروں کا گرم خون اس داستان کو رنگ اور جدت عطا کرتا ہے۔ ہر شخص یہی سمجھتا ہے کہ وہ ایک نئی کہانی مرتب کر رہا ہے لیکن وہ حقیقت میں پرانی کہانی کی ہی تکرار کر رہا ہوتا ہے۔
محترمہ ہنی انصاری نے ہمارے دیہاتی معاشرے کے کئی رخ سامنے لانے کے علاوہ تیزی سے دیہات سے شہروں میں منتقلی کے مسائل اور معاشرے کے خفیہ گوشوں میں چھپے کرداروں کے چہرے سے نقاب اٹھا دیا۔ وہ معاشرے کو آئینہ دکھاتے ہوئے انسان کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اپنا چہرہ دیکھے۔
یہ افسانے نہ صرف معاشرے کی خامیوں کو بے نقاب کرتے ہیں بلکہ خوبیوں کو اجاگر کرنے کے علاوہ حالات اور واقعات کا تجزیہ کرتے ہیں۔ اس کتاب کی مصنفہ اپنی دانست کے مطابق مسائل کا حل بھی تجویز کرتی ہوئی کہیں کہیں دکھائی دیتی ہیں تاکہ اس دائرۃ الشوء یعنی برائی کے سرکل کو توڑا جا سکے ۔ ہمارے معاشرے میں جو تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں بہتر ہے کہ کسی اچھائی کی صورت نکل سکے۔ اس ضمن میں حنا انصاری کی یہ کاوش زبر دست اہمیت کی حامل ہے۔
Latest Posts
