مقابلہ نہیں ساتھ

تحریر۔۔۔حافظہ حفظہ حنیف
لوگ کیوں مقابلہ بازی پر اتر آتے ہیں ؟میں نے دیکھا ہے اپنے آس پاس لوگوں کو ہم دوسروں کی اہمیت برداشت نہیں کرتے۔خود سے ذہین لوگوں کو دیکھتے ہیں تو ان سے مقابلے پر اتر آتے ہی اگر ایک انسان ذہنیت کے لحاظ سے دو قدم ہم سے آگے ہے تو یہ عطا خدا کی طرف سے بھی ہوتی ہے۔اس کائنات میں موجود لوگوں کے ذہن ایک جیسے نہیں ہیں تو پھر ان کے کیے گئے عوامل کیسے ایک جیسے ہو سکتے ہیں اگر ہمارے ساتھ کوئی زیادہ نمبر لینے والا کھڑا ہو تو ہم اس سے زیادہ نمبر لینے کی تگ و دو میں لگ جاتے ہیں۔ذہین لوگوں کا مقابلہ کر کبھی بھی ان تک نہیں پہنچا جا سکتا البتہ ان کا ساتھ دے کر ان تک پہنچا جا سکتا ہے ہونا یہ چاہیے کہ ہم اپنے ارد گرد جب خود سے زیادہ استطاعت رکھنے والے لوگوں کو پائیں تو ان کے ساتھ مل کر کام کریں ان کی ذہنیت کو تسلیم کریں اور ان سے سیکھیں۔ایسا ہی کچھ حال عہدوں کے بارے میں ہے ہم خود سے اوپر لوگوں کو برادشت نہیں کرتے ان کو کسی نہ کسی طرح خود سے کم رکھنے کے کوشش کرتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ ہماری کامیابیاں ہماری نیتوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ان کے آگے ہونے میں ان،کی ذہنیت اور ان کی کوشش ہوتی ہے اور ہم ان کا ساتھ دے کر ان سے سیکھ کر ان کے مقام کو پہنچ سکتے ہیں۔ہم کبھی بھی مقابلہ کر کے کسی سے آگے نہیں نکل سکتے ہم جب بھی آگے بڑھتے ہیں کسی کا ساتھ دے کر آگے بڑھتے ہیں۔ایسا صرف تعلیمی نظام میں ہی نہیں ہے یہ عنصر ہمارے معاشرے کے ہر پہلو میں موجود میں ہم کسی کی اہمیت کو برداشت نہیں کرتے ۔

About dailypehchan epakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow