عنوان: اشک نعمت ہیں

تحریر۔۔۔سویرا علی
کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک دور افتادہ، کہر آلود وادی میں جہاں فلک بوس پہاڑوں کے دامن میں، صدیوں پرانی ایک خانقاہ واقع تھی۔ اس خانقاہ میں، جہاں رہبانیت کا سکوت اور عبادت کی گونج ہم آہنگ تھی، ایک نوآموز راہب جس کا نام “اخلاص” تھا اپنی جوانی کی لغزشوں پر نادم، گوشہ نشینی کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ اس کی روح، جو کبھی جوانی کے بے مہار جذبات کی جولانگاہ تھی، اب پشیمانی کے بوجھ سے نڈھال تھی۔ اس کی آنکھیں، جو کبھی تمناؤں کے دیپ جلاتی تھیں، اب اشکِ ندامت کی جھڑیوں سے تر رہتی تھیں۔”اخلاص” کی زندگی جو کبھی قہقہوں اور نغموں سے معمور تھی، اب آہ و بکا اور مناجات میں ڈھل چکی تھی۔ اس کا ہر آنسو، ایک داستانِ الم تھا، ایک صحیفہِ پشیمانی تھا۔ وہ اپنے ماضی کے اوراقِ سیاہ کو اشکوں سے دھونا چاہتا تھا۔ اس کی ہر شب، گریہ و زاری میں بسر ہوتی اور ہر صبح، آنسوؤں کی ندی سے طلوع ہوتی۔
ایک دن، خانقاہ کے بزرگ ترین راہب، مرشدِ کامل، اخلاص کے حجرے میں تشریف لائے۔ انہوں نے “اخلاص” کے چہرے پر ہویدا، رنج و الم کے آثار کا بغور جائزہ لیا اور پھر اپنی پر شفقت نگاہیں اس کی نمناک آنکھوں پر مرکوز کر دیں۔
“اے اخلاص،” مرشد نے دھیمے لہجے میں کہا،
“تمہارے آنسو تمہاری روح کا آئینہ ہیں۔ یہ تمہاری ندامت کا خراج ہیں، تمہارے ضمیر کی آواز ہیں۔ لیکن یاد رکھو، آنسو صرف پشیمانی کا اظہار نہیں، بلکہ تطہیر کا ذریعہ بھی ہیں۔ یہ تمہاری روح کو پاک کرتے ہیں، تمہیں نئی زندگی بخشتے ہیں۔”
مرشد کی یہ نصیحت “اخلاص” کے دل میں اتر گئی۔ اس نے اپنے آنسوؤں کو ایک نئی نظر سے دیکھنا شروع کر دیا۔ اسے محسوس ہوا کہ اس کے آنسو، صرف غم و اندوہ کی علامت نہیں، بلکہ رحمت و مغفرت کا پیغام بھی ہیں۔
پھر وہ وقت بھی آیا، جب “اخلاص”کے آنسو تھم گئے۔ اس کی روح، ندامت کے بوجھ سے آزاد ہو گئی اور اس کے دل میں، ایک نئی صبح کی کرن نمودار ہوئی۔ اس نے اپنی باقی زندگی، انسانیت کی خدمت میں وقف کر دی اور اس کا نام رہبانیت کی تاریخ میں، ایک روشن ستارے کی طرح جگمگانے لگا۔

About dailypehchan epakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow