گامے مصلی اور ہمارا معاشرہ

تحریر۔۔۔نصیراحمد بھلی (سیالکوٹ )
احباب ذی وقار ہمارے معاشرہ میں کچھ لوگ تو اللہ رب العالمین کی طرف سے پیداٸشی ہی بڑے پیدا ہوتے ہیں۔ ان کا حسب نسب چال چلن انداز گفتگو لباس پتہ دیتا ہے کہ خاندانی اور وڈا آدمی ہے۔ ایسے لوگوں میں عاجزی وانکساری ، وضح داری اور خاندانی رکھ رکھاؤ ،مہمان داری اور چھوٹے بڑے کی عزت واحترام کا جذبہ اور طور طریقہ حد درجہ موجود ہوتا ہے
اور کچھ نو دولتیۓ لوگ جو نئے نئے امیر ہوۓ ہوتے ہیں اللہ رب العالمین نے ان پر کرم فرماتے ہوۓ انہیں نئی نئی دولت عطا کی ہوتی ہے مگر وہ ازل سے چول ٹٹو ٹیرے اور نسل در نسل تھو تھو سہتے جوان ہوتے ہیں۔اور وہ پاکستان چھوڑ کر جہاں مرضی چلیں جائیں اپنی چھچھوری حرکتوں سے اپنے ارد گرد دوسرے لوگوں کو اپنے خاندانی حسب نسب کا تعارف کراتے نظر آتے رہیں گے۔دوسری قسم کے افراد سب سے پہلے سپنے کسی نکمے اور نکھٹو سے بیٹے کو گھر کی چیزیں اور زمیں وغیرہ اونے پونے داموں بیچ کر ڈنکی لگوا کر اٹلی یا کسی دوسرے یورپی ملک روانہ کرتے ہیں۔وہاں بہت کم ایسے ہوتے ہیں جنہیں اپنے ماں باپ کے حالات کا احساس رہتا ہے اکثر بازاری عورتوں کے ساتھ سڑکوں پر گاتے پھرتے ہیں تھوڑی بہت محنت مزدوری کرکے یورو پاکستان بھیجتے رہتے ہیں
پچھے پاکستان میں ان کا بھائی یا ابا اپنی پرانی گاما مصلی والی شناخت چھپانے کے لیے شہر کے کسی پوش علاقے میں نئی کوٹھی خرید لیتے ہیں اورساتھ ہی بڑی سی کار بھی۔اب آپ کہیں گے کہ ایسے نو دولتیوں کی پہنچان کیسے کریں۔احباب ذی وقار یہ کوئی مًشکل نہیں۔ نو دولتیہ ابا یعنی کہ ماضی کا گاما اور حال کا رٸیس خیر دین گاڑی پر جب گھر واپس آئے گا تو گھر کی بیل نہیں بجاۓ گا بلکہ کار کا ہارن بجاۓ گا اور بار بار بجاۓ گا تاکہ گلی میں سب کو پتہ چلے کہ خیر دین کی گاڑی آئی ہے۔ یہ کام رات بارہ ایک بجے زیادہ شوق سے کرے گا۔دوئم پہچان یہ ہے کہ خیرو مطلب خیر دین۔ معافی چاہتا ہوں رٸیس خیر دین جب بازار یا مارکیٹ میں گاڑی کھڑی کرےگا تو راستہ چھوڑ کر پارکنگ میں نہیں کھڑی کرے گا بلکہ عین بازار کے درمیان راستہ روک کر اپنی گاڑی کھڑی کرے گا۔
آخر لوگوں کوبھی تو پتہ چلنا چاہیے کہ آج ماضی کا گاما مصلی اور حال کا رٸیس خیر دین اج بازار سے تین جھاڑو اور ایک تمبہ (بیڑا) تمباکو خریدنے آیا ہے ۔
سوئم یہ جب بازار جاۓ گا تندور والے ہوٹل کے باہر گاڑی کھڑی کر کے ہارن بجاۓ گا اور بار بار بجاۓ گا۔ ہوٹل والا لڑکا دوڑتا جاۓ گا تو اسے تین چار روٹیاں لانے کو کہے گا۔ دودھ دہی کی دوکان پر بھی ایسا ہی کرے گا ۔اب آپ کہیں گے کہ یہ کیوں نہیں گاڑی سے اترتا۔ جناب نیچے اتر کرعام لوگوں کی طرح سودا لیے گا تو لوگ کیسے جانیں گے کہ گاما مصلی اب گاما نہیں رہا۔سو احباب ذی وقار آنیدہ جب بھی ایسی کوئی گاڑی بازار کے عین درمیان کھڑی ہو یا ہارن بجا بجا کر سارے بازار یا گلی کو بتا رہی تو برادشت کریں۔ اور سمجھ جائیں کہ بازار میں آج پھر کوئی گاما مصلی بازار میں رٸیس خیر دین بنکر شاپنگ کرنے آ یا ہوا ہے ۔ ایسے لوگوں پر دھیان ہی نہ دیں ۔

About dailypehchan epakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow