افسانچہ: سجدہ

تحریر۔۔۔ آمینہ یونس
ثانیہ سجدے میں پڑی ہچکیوں سے رو رہی تھی۔ اپنے رب سے کردہ اور ناکردہ گناہوں پر معافی مانگ رہی تھی۔ زندگی میں اس قدر دکھ اٹھا چکی تھی کہ مزید سہنے کی متحمل نہ تھی۔ آج صبر کا بند ٹوٹ گیا تھا۔ وہ اپنے رب کے سامنے خود کو اس انسان کی مانند ڈال چکی تھی، جو دریا برد ہونے کے بعد ہاتھ پاؤں چھوڑ دیتے ہیں۔”اللہ! اب تو طاقت بھی نہیں رہی۔” یہ جملہ بار بار اس کے لبوں سے نکل رہا تھا۔زندگی پہلے ہی مسائل سے بھری ہوئی تھی، اور اب ایک نوکری تھی، وہ بھی ختم ہو گئی تھی۔ یہ نوکری اس کے لیے صرف روزگار کا ذریعہ نہیں، بلکہ امید کی آخری کرن تھی۔ نوکری جانے کے بعد زندگی جیسے رک سی گئی تھی۔ روز بروز بڑھتے مسائل اور مایوسی نے اس کی روح تک کو تھکا دیا تھا۔ لیکن آج تو جیسے دل کی دیواریں بھی ٹوٹ پھوٹ گئیں۔وہ ہمیشہ سوچتی رہی کہ اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں، مگر آج اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ وہ اپنے رب کے حضور اپنی تکلیفیں اور خواب رکھ کر اس کی دہلیز پر ہوش کھو بیٹھی تھی۔کئی گھنٹے گزر گئے۔ تبھی کسی نے اس کے شانے پر نرمی سے ہاتھ رکھا۔ وہ بمشکل ہوش میں آئی۔ سامنے اس کی ماں کھڑی تھی، پانی کا گلاس لیے۔ ماں نے گلاس لبوں سے لگایا اور نرمی سے کہا، “بیٹی، خود کو تکلیف مت دو۔ اللہ سب پر مہربان ہے۔ تم پر بھی کرم کرے گا۔”
ثانیہ نے آنسو بھری آنکھوں سے ماں کو دیکھا اور کہا، “اماں، بے صبر نہیں ہوں، لیکن اب سہنے کی طاقت نہیں رہی۔”شام کو موبائل کی گھنٹی بجی۔ یہ آواز جیسے کسی خوشخبری کا اعلان کر رہی تھی۔ “ثانیہ، آپ کو دوبارہ نوکری پر رکھ لیا گیا ہے۔ کل سے آپ دفتری امور سنبھال سکتی ہیں۔”موبائل ہاتھ میں تھامے اس کی آنکھوں سے شکرانے کے آنسو بہنے لگے۔ “یا رب، جب تجھے دل سے پکاروں، تو تُو سنتا ہے۔ تیرے خزانوں میں کمی نہیں۔ محرومی تو ہماری دعاؤں میں ہوتی ہے۔”

About dailypehchan epakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow