
تحریر۔۔۔دعا نثار
صبح کا حسین پہر تھا؛ پرندے اپنی پہلی اڑان کا لطف اٹھا رہے تھے اور آسمان کو خوبصورت بنانے کی کوشش میں مگن تھے۔ موسم گرما اپنے پورے جوبن پر تھا اور فضا کو اسکول سے گرمیوں کی چھٹیاں ملیں۔ فضا خوشی خوشی گھر آئی اور گھر آتے ہی خوشی سے چلائی:
”اب آئے گا مزہ ہم ان چھٹیوں کا لطف اٹھائیں گے اور دھیر سارا مزہ کریں گے۔“
اگلے دن فضا اور اس کا خاندان پکنک پر گئے؛ لیکن راستے میں ان کی گاڑی ٹریفک میں پھنس گئی۔ وہاں موجود گاڑیوں سے نکلتا دھواں جو آلودگی پیدا کر رہا تھا؛ اس کی وجہ سے فضا کو کھانسی ہونے لگی اور اس کی طبیعت بگڑ گئی۔ جس کی وجہ سے وہ اپنی پکنک سے لطف اندوز نہ ہو سکی۔ خراب دھواں اس کے پھیپھڑوں پر اثر انداز ہوا؛ جس کی وجہ سے اسے سانس لینے میں دقت پیش آ رہی تھی۔ اس کے والدین اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے؛ ڈاکٹر نے معائنہ کے بعد دوا تجویز کی اور فضا اور اس کے والدین دوا لے کر گھر واپس آ گئے؛ لیکن ان کے گھر میں اک اور مسئلہ درپیش تھا۔ ٹینکیوں سے پانی کھارا آنے لگا تھا جس کو پینے سے سب کے پیٹ میں درد ہونے لگا۔ گھر والے اس صورتحال سے پریشان ہو گئے اور انہوں نے پیسے دے کر باہر سے پانی منگوانا شروع کر دیا۔ اخراجات میں اضافے کی وجہ سے ان کا نظام آمدن متاثر ہوا۔ فضا کے والد ذاکر جو ایک معمولی ملازم تھے؛ معمول کے مطابق پسینہ سے لت پت دن ڈھلے گھر واپس لوٹے اور آتے ہی فضا کو مخاطب کر کے پنکھا چلانے کو کہا۔
”بابا جان بجلی تو کل شام سے غائب ہے؛ جس کی وجہ سے گزشتہ رات ہماری پڑھائی بھی رہ گئ تھی۔“ فضا نے پریشانی کی حالت میں والد کو بتایا۔
”بجلی آج کل بہت کم آ رہی ہے اور اس سے کافی نقصان ہو رہا ہے۔ فرج میں جو سبزی، پھل وغیرہ پڑے تھے وہ بھی خراب ہو گئے ہوں گے۔“ ذاکر صاحب پریشانی سے بولے۔
”جی بابا جان اور امی جان کو آج پڑوس میں میلاد پر جانا تھا؛ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے وہ کپڑے بھی استری نہیں کر سکیں۔“ فضا نے افسوس سے سرہلاتے ہوئے باپ کو مطلع کیا۔
”اچھا بیٹا! ہم اس کےلیے کچھ کریں گے؛ فلحال ہمیں بھوک لگی ہے۔ آپ امی سے کھانا لے کر آئیں۔“ ذاکر صاحب نے اپنی لاڈلی کو تسلی دی اور کھانے کےلیے ہاتھ دھونے کی غرض سے صحن میں لگے نلکے کی جانب بڑھ گئے۔ فضا ماں سے کھانا لینے کچن میں گئ؛ لیکن کھانا تو ابھی تک تیار ہی نہیں ہوا تھا۔
”امی جان دوپہر کے 3 ہوگئے ہیں ابھی تک کھانا کیوں نہیں بنا؟“ فضا نے ماں سے کھانا نہ بننے کی بابت استفسار کیا۔
”فضا بیٹا گیس ابھی ابھی آیا ہے۔“ ماں نے دھیمی آواز میں اطلاع دی۔
”کیا!!!“ فضا نے حیرت سے ماں کی جانب دیکھا؛ کیونکہ گیس تو پورے بارہ بجے آ جاتا تھا۔
”ہاں بیٹا ہمارے ملک میں ایک کے بعد ایک مسئلے بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ کبھی گیس تو کبھی بجلی اور کبھی پانی کی کمی تو کبھی آلودگی؛ ان تمام مسائل نے جینا دو بھر کر دیا ہے۔“ آواز کے ساتھ ساتھ ماں کے چہرے سے بھی پریشانی صاف عیاں تھی۔
”لیکن امی ہمارے ملک میں تو سہولت کی ہر چیز موجود ہے پھر ایسا کیوں؟“ فضا نے حیرت سے سوال کیا۔
”بس ہمارے ملک کے بارے میں پتا نہیں کوئی سوچتا کیوں نہیں؟“ امی جان رنجیدہ تھی۔
”امی جان ہم شہریوں کا بھی تو یہ فرض ہے ناں کہ ہم اپنے ملک کو صاف ستھرا رکھیں تاکہ آلودگی نہ ہو اور اس سلسلے میں ہمیں ٹاؤن کمیٹی والوں سے درخواست کرنی چاہیے کہ وہ پانی کو صاف کرکے ٹینکیوں میں ڈالیں۔ ہمیں ایسے لوگ میسر ہیں جو ان پریشانیوں کا حل نکال سکتے ہیں؛ تو بس ہمیں ان سے درخواست کرنی چاہیے۔“ فضا نے ماں کی جانب تکتے ہوئے؛ ان کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا۔
”لیکن بیٹا ہماری بات سنے گا کون؟“ ماں کے چہرے سے ابھی تک تشویش کے آثار جھلک رہے تھے۔
”امی جان! ہمیں ایک قدم تو اٹھانا چاہیے؛ اپنے فرائض تو ادا کرنے چاہئیں۔ اللہ نے چاہا تو ٹاؤن کمیٹی والے ہماری مدد ضرور کریں گے ان شاء اللہ۔“ فضا نے ایک عزم سے کہا اور کچن سے باہر کی جانب قدم بڑھائے۔ اب اس کا رخ والد محترم کی جانب تھا انہیں اس بات پر آمادہ کرنا تھا اور خدا سے دعا کرنی تھی کہ ان کے مسائل جلد از جلد حل ہو جائیں اور اسے یقین تھا کہ خدا اس کی دعا ضرور قبول کرے گا۔
