تحریر۔۔۔جبین اختر
‘عبادت و شجاعت میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا کوئی ثانی نہ تھا۔ حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جتنی احادیث سے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کسی اور صحابی رضی اللہ عنہ کی نہیں ہوتی۔“
حضرت علی مرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ وہ اسلام کے عظیم سپاہی اور مبلغ تھے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی شخصیت کو مندرجہ ذیل باتوں پر جو فضیلت حاصل ہیں وہ کسی اور صحابی کو نصیب نہیں ہوئی۔
سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیاری اور چہیتی بیٹی حضرت بی بی پاک فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا آپ کے نکاح میں آئی۔ اسی طرح شیر خدا علی المرتضی کو محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی نسل کے سلسلہ کا بانی ہونے کا شرف حاصل ہے۔ یہ ایسا اعزاز ہے جو کسی اور صحابی کو نصیب نہیں ہوا۔
آپ فاتح خیبر تھے؛ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اسلامی لشکر کا جھنڈا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو غزوہ خیبر کے موقع پر دیا اِس پیشن گوئی کے ساتھ کہ قلعہ خیبر ان کے ہاتھوں فتح ہوگا ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام
مردوں میں سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ عورتوں میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا اور بچوں میں حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم نے اسلام قبول کیا۔ مختلف روایات کے مطابق قبول اسلام کے وقت حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی عمر سات سے دس برس تھی۔ ایک روز ننھے علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے آقا نامدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کو عبادت کرتے ہوئے دیکھا تو نہایت تعجب سے پوچھا کہ ”آپ لوگ کیا کر رہے ہیں؟“ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سمجھایا کہ ”ہم اللہ تعالی کی عبادت کر رہے ہیں وہ ذات وحدہ لا شریک ہے، وہی عبادت کے لائق ہے اور میں اللہ کا بھیجا ہوا نبی ہوں۔ دنیا والوں کے لیے رشد و ہدایت اور رہنمائی لے کر آیا ہوں۔“ ننھے علی کے ذہن پر یہ تمام باتیں نقش ہو گئیں۔ آپ نے اپنے والد حضرت ابو طالب سے مشورہ کیا اگلے روز حاضر خدمت ہو کر اسلام قبول کر لیا اسی طرح علی مرتضی رضی اللہ عنہ قافلہ اسلام کے تیسرے رکن بنے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ایسے خوش قسمت و خوش نصیب ہیں جن کی ولادت پر تاجدار رسالت مآب صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان کے ہاں تشریف لے گئے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پہلا غسل نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے دیا اور نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو آخری غسل حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دیا۔ آج لوگ فخر کرتے ہیں کہ خاندان کا کوئی بزرگ نومولود کو گھٹی دے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ وہ خوش نصیب ہیں جنہیں گھٹی شہنشاہ دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دی تھی۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گھٹی میں ایسی چیز دی گئی جس کا نعم البدل نہیں ہو سکتا؛ یہ گھٹی حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا لعاب دہن تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان کا اندازہ لگائیے کہ جب علی نے آنکھ کھولی تو چہرہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیکھا اور نگاہ علی رضی اللہ عنہ کی تھی، دہن علی کا تھا اور لعاب دہن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تھا۔
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو بچپن سے ہی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیضِ محبت سے مشرف ہونے کا اعزاز نصیب ہوا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پیچھے پیچھے اس طرح ہوتا تھا جس طرح ناقہ کا بچہ اس کے پیچھے ہوتا ہے۔“ یہ فضیلت بھی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے حصے میں آئی کہ شیر خدا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی کفالت اور سرپرستی میں رہے۔ 13 برس کی مکی زندگی میں کوئی لمحہ اور کوئی گھڑی ایسی نہ تھی بلکہ حضورﷺ کی تمام عمر مبارک میں کوئی گھڑی ایسی نہیں آئی جب حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدا ہوئے ہوں۔ سرکار دو جہاں صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نبوت کا تاج پہنا تو پہلے تین برس خاموشی اور خفیہ تبلیغ فرمائی اس وقت بھی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہے اور جب عرش والے نے حکم دیا کہ ”میرے محبوب آپ میرے پیغام کو کھل کر دنیا والوں کے سامنے پیش کیجیے تو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس کا عملی مظاہرہ کیا۔“ اس وقت بھی مضبوط ایمان والے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے جانثاری اور جانبازی کے عہد کا اعادہ کیا۔
ہجرت کے بعد امام الانبیاء صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جب مہاجرین و انصار میں باہم بھائی چارہ کرایا تو کسی کو صدیق رضی اللہ تعالی عنہ دئیے تو کسی کو فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ، کسی کو عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ دئیے تو کسی کو طلحہ کسی کو زبیر کسی کو عبدالرحمن ابن عوف۔۔۔ ! لیکن جب علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کی باری آئی تو فرمایا ”یہ میرا بھائی ہے جہاں مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوں گے وہیں مرتضی رضی اللہ عنہ ہوں گے۔“
” یا عَلیُّ اَن٘تَ اَخِی٘ فِی الدُّن٘یا والآخِرَۃ” (سنن ترمذی 3720) ح
ضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے علی تو دنیا و آخرت میں میرا بھائی ہے۔“
یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خوش نصیبی کی انتہا تھی کہ زندگی میں علی رضی اللہ عنہ کو رفاقتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ملی اور رفاقت بتول رضی اللہ سلام اللہ علیہا بھی ملی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اتنی چھوٹی سی عمر میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیاری اور بے مثال شخصیت میں نمایاں ہو گئے۔ علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کی عظمت، شجاعت، امانت، دیانت، شرافت، عبادت، اور عدالت سبھی کچھ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نگاہ کرم کا نتیجہ تھا۔ آپ رضی اللہ علیہ ساری زندگی نبی کریمﷺ جلوت و خلوت کے ساتھی رہے۔ دوسرے لفظوں میں آپ کی حیثیت ایک پرائیویٹ سیکرٹری کی سی تھی۔ ہجرت کی رات رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو چیزیں حضرت علی کے سپرد کر کے ان پر کامل اعتماد کا اظہار کیا؛ لوگوں کی امانتیں اور اپنا بستر مبارک۔ بعض روایات میں آیا کہ حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا لباس بھی اتار کر دیا۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چونکہ امین تھے لوگوں کی امانتیں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس ہوتی تھی اس لیے ان امانتوں کو لوٹانے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کا انتخاب کیا۔ ہجرت کی رات رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا بستر بھی انہی کے سپرد کیا یہ بھی ایک غیر معمولی اعزاز تھا جو حضرت علی کے حصے میں آیا؛ لیکن یہ سعادت بیٹھے بٹھائے نہیں ملی بلکہ اس سعادت کے حصول کے لیے تلواروں کے سائے میں سونا پڑتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ضروری ہدایات اور امانتیں دے کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رخصت ہوئے۔ علی رضی اللہ عنہ کا ایمان دیکھو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے پوچھا تک نہیں کہ مجھے اس طرح اکیلے چھوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیوں جا رہے ہیں؟ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو معلوم تھا کہ نبی ایک غیر معمولی مشن پر جا رہے ہیں اور عرش والے کے فیصلے سے جا رہے ہیں جو خدا مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کرے گا وہی خدا میری بھی حفاظت کرے گا۔ آپ اندازہ لگائیں کہ دشمن کا پہرا ہو، ننگی تلواریں میانوں سے باہر ہوں، یہ شور و غل ہو کے نعوذ باللہ چراغ مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو گل کر دینا ہے۔ ایسے میں پھولوں کی خوشبو میں، کلیوں میں اور ریشم و کم خواب والے بستر بھی زہر میں بجھے ہوئے کانٹوں سے کم نہیں لگتے؛ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ بستر رسولﷺ پر سرخ رنگ کی چادر اوڑھے علی مرتضی اس قدر پرسکون اور گہری نیند سوئے کہ صبح دشمنان رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جنجھوڑ کر اٹھایا اور دیکھ کر قریش مکہ کی حیرت کی انتہاء نہ رہی کہ بستر رسالت پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں تھے بلکہ علی رضی اللہ تھے۔
حضرت علی رضی اللہ نے دوسرے روز لوگوں کو امانتیں لوٹائیں اور خود تاجدار ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نقش پاک کو چومتے ہوئے مدینہ طیبہ پہنچ گئے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی اطاعت و شجاعت آپ کی فضیلت کے اہم باب ہیں؛ لیکن وہ فضیلت کی معراج پر اُس وقت پہنچے جب شہنشاہ لولاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی محبوب اور چہیتی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح شیر خدا حضرت علی مرتضی سے کیا۔ ایک روز حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دربارِ رسالت میں طلب فرمایا سرکار دو جہاں صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پوچھا ”علی تمہارے پاس کیا ہے؟“ عرض کی ”میرے پاس صرف وہی کچھ ہے جو اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سپاہی کے پاس ہوتا ہے؛ ایک گھوڑا اور ایک زِرہ۔“
آج ہم اپنے داماد کا انتخاب کرتے وقت دیکھتے ہیں کہ اس کا بینک بیلنس کیا ہے؟ کوٹھی بنگلہ دیکھتے ہیں نوکر چاکر دیکھتے ہیں ظاہری ٹھاٹ باٹ ملاحظہ کرتے ہیں۔ ارشاد ہوا ”علی گھوڑا سپاہی کی زینت ہوتا ہے؛ البتہ زرہ بیچ آؤ تاکہ تمہاری شادی کے جملہ انتظامات ہو سکیں۔“
شادی کے بعد حضرت علی نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حکم پر ایک مکان کرائے پر لیا اور خاتون جنت کے ساتھ وہاں منتقل ہو گئے۔ خدا کا یہ عظیم سپاہی اور نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا رفیق نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دئیے ہوئے سامان میں کوئی اضافہ نہ کر سکا۔ سپاہی کا کام لڑنا ہوتا ہے۔شیر خدا رضی اللہ تعالی عنہ نے ساری زندگی حضور نبی کریم کے شانہ بشانہ رہ کر اور اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے گزاری۔ اہم معرکے سر کیے بڑی بڑی مہموں میں حصہ لیا لیکن خیبر کی جنگ ان کی زندگی کی ناقابل فراموش جنگ تھی۔ ایک روایت ہے کہ خیبر کے 90 قلعے تھے۔ اسلامی لشکر نے پورا زور لگایا کہ خیبر کا قلعہ فتح ہو جائے؛ لیکن مسلسل حملوں کے باوجود کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ بالآخر سرتاج الانبیاء صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ ”صبح میں جس شخص کو اسلامی لشکر کا جھنڈا دوں گا وہ اللہ کا بھی محبوب ہے اور میرا بھی محبوب ہے اس کے ہاتھوں خیبر کا قلعہ ضرور فتح ہوگا۔“ دوسرے روز ہر شخص پرچمِ رسالت کا طلب گار تھا؛ کیونکہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ایمان اور عقیدہ تھا کہ نبی کی زبان سے نکلی ہوئی بات غلط نہیں ہو سکتی۔ جب لشکر اسلامی ترتیب دیا گیا تو ہادی برحق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باآواز بلند فرمایا ”علی کہاں ہے؟“
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانثاروں نے عرض کی کہ حضرت علی آشوبِ چشم کی بنا پر بیمار ہیں۔ حضرت علی کو طلب فرمایا گیا۔ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا لعاب مبارک حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی انکھوں پر لگایا ہی تھا کہ آنکھیں ٹھیک ہو گئیں۔ لشکر اسلام کا علم نبوت کے ہاتھوں شیر خدا رضی اللہ عنہ کو عطا ہوا۔ چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیشن گوئی کے مطابق خیبر کا قلعہ تسخیر ہوا۔
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اسلام کے عظیم الشان مجاہد اور سپاہی تھے۔انہوں نے بہادری، شجاعت، دلیری اور ہمت کے ایسے ایسے کارنامے سر انجام دیے کہ تعریف اسلام کے اندر ان کا نام ہمیشہ درخشندہ و تابندہ رہے گا۔ انہوں نے کفار کے بڑے بڑے بہادروں، پہلوانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلے کیے ۔اللہ تبارک و تعالی نے ہر مقابلہ میں انہیں سرخروئی عطا فرمائی۔ دربار رسالت سے آپ کو حیدر کرار کا لقب ملا۔ حیدر کرار پلٹ پلٹ کر حملہ کرنے والے کو کہتے ہیں؛ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کا وصف یہ تھا کہ آپ میدان جنگ میں جدھر نکل جاتے دشمن کی صفوں کے اندر تہلکہ مچا دیتے۔ مختلف روایات میں بزرگوں نے لکھا ہے کہ ”جنگ بدر میں کل 70 مشرکین مارے گئے۔ جن میں سے 35 مشرکین کو صرف حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی تلوار نے جہنم رسید کیا تھا۔“ جنگ اُحد میں جب کے بڑے بڑے صحابہ حوصلہ ہار بیٹھے تھے؛ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پائے ثبات میں ذرا برابر لغزش نہ آئی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم مردانہ وار دشمن پر حملہ کرتے ان کی حالت یہ تھی کہ کبھی دشمن کی طرف لپکتے اور کبھی سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف پلٹتے تاکہ آپﷺ کا بھی دفاع کر سکیں۔ جنگ خندق میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کفار کے ایک نامی گرامی سورما کے ساتھ معرکتہ الآرا مقابلہ کیا۔ عرب کے اندر دور دور تک اس جنگجو پہلوان کی طاقت کی دھوم تھی۔ اس کی طاقت کئی انسانوں کی طاقت کے برابر تصور کی جاتی تھی؛ آپ نے خیبر کے سب سے قوی پہلوان کا سامنا کیا۔ ذرا تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں اس دوران جب مرحب نے اپنا تعارف کروایا وہیں مولا علی حیدر کرار نے اپنا تعارف اس طرح کرایا کہ:
“سَمَّت٘نِی٘ اُمِّی٘ حِی٘دَرَہ” (صحیح مسلم4678)
”میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا ہے۔“
اُس نےآتے ہی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ پر وار کیا آپ نے اس وار کو اپنی ڈھال پر روکا۔ دوسرے ہی لمحے ذوالفقار حیدری بجلی کی طرح چمکی اور مرحب نامی پہلوان خاک و خون میں تڑپتا ہوا واصل جہنم ہو گیا۔حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے کارناموں اور خدمات کو مدتوں یاد رکھا جائے گا۔
آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی ولادت باسعادت 13 رجب المرجب کو مکۃ المکرمہ کعبۃ اللہ کے اندر ہوئی۔ اللہ تعالی ہمیں سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ جیسی عبادت و شجاعت عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔۔۔
Latest Posts
