ازقلم : گوہر عباس گل
زخم ناسور تب بنتا ہے جب اسے وقت پر مرہم نہ ملے، بلکہ وہ دن بہ دن بڑھتا جائے۔ عید کی خوشیوں سے محرومی ان لوگوں کا مقدر بن جاتی ہے جن کی چیخیں سننے والا کوئی نہ ہو۔ عید اگرچہ خوشی اور محبت کا پیغام ہے لیکن یہ خوشی اُن دلوں کے لیے درد بن جاتی ہے جو اپنے اردگرد بکھری اذیتوں کو محسوس کرتے ہیں۔
عیدالاضحیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی اور اطاعت کا ایک روشن استعارہ ہے۔ یہ صرف گوشت کا نذرانہ نہیں، بلکہ ایثار، خلوص اور نیت کی قربانی کا درس ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ:
”نہ ان کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں اور نہ ان کا خون، بلکہ اسے تمہاری پرہیز گاری پہنچتی ہے۔“(الحج: 37)
اگر ہم دوسروں کا حق دبا کر قربانی کرتے ہیں تو یہ صرف ایک رسمی عمل ہے، نہ کہ روحانی۔ ہمیں اپنی نیت، اپنے عمل اور اپنے کردار پر نظر ڈالنی چاہیے کیونکہ رب دلوں کے حال جانتا ہے۔
خوشی پانے سے زیادہ اہم خوشی بانٹنا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے یار و مدد گار چھوڑتا ہے۔“ (سنن ترمذی: 1927)
جب ہم فلسطین کے معصوم بچوں، بے یار و مددگار عورتوں، اور مظلوم بزرگوں کی دردناک چیخیں سنتے ہیں تو ہمیں خود سے سوال کرنا چاہیے:
کیا ہم واقعی عید کی خوشی کے مستحق ہیں؟
فلسطین صرف ایک مظلوم قوم نہیں، وہ انبیاء کی سرزمین ہے۔ آج وہ زمیں، جو کبھی رحمت کا گہوارہ تھی، ظلم و ستم کا گڑھ بن چکی ہے۔ دن دہاڑے معصوم بچے شہید کیے جا رہے ہیں، مائیں اپنے جگر گوشوں کو کھو رہی ہیں اور دنیا خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔
جہاد صرف تلوار اٹھانے کا نام نہیں، جہاد ہر اس کوشش کا نام ہے جو ظلم کے خلاف کی جائے۔ اگر ہم جسمانی طور پر نہیں جا سکتے تو مالی، اخلاقی، فکری اور صحافتی جہاد کے ذریعے ان کی مدد کی جا سکتی ہے۔ ہر قدم، ہر آواز، ہر تحریر اہم ہے – بشرط یہ کہ وہ صرف اظہار نہ ہو بلکہ عمل کا پیش خیمہ ہو۔
تحریریں، مضامین، اور سوشل میڈیا پوسٹس اس وقت تک بے اثر ہیں جب تک ہم خود کو نہ بدلیں۔ ہمیں متحد ہونا ہوگا۔ اتحاد، ایمان، قربانی، صداقت اور تنظیم ہی وہ ستون ہیں جن پر امتِ مسلمہ کا عروج ممکن ہے۔
آج دنیا فلسطین کے درد کو ایک ”معمول“ سمجھنے لگی ہے، یہی سب سے بڑا المیہ ہے۔ جب مظالم معمول بن جائیں، تو خاموشی جرم بن جاتی ہے۔
ہمیں اپنے اندر کے انسان کو جگانا ہوگا اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم خود کو پہچانیں، اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں اور سچے دل سے نیت کریں کہ ہم ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں گے – صرف زبان سے نہیں، عمل سے بھی۔
Latest Posts
