حساس (اک ڈرامائی خاکہ)

راقم : غلام مجتبیٰ اعوان
(آفتاب پارک میں داخل ہوتا ہے جہاں اس کا دیرینہ دوست انتخاب اس کے انتظار میں بیٹھا ہے)
آفتاب: (مصافحہ کرتے ہوئے) سنو! تم شادی کیوں نہیں کر لیتے، تمہارے سارے مسئلے خودبخود ہی ٹھیک ہوجائیں گے۔
انتخاب :(نیم مسکراہٹ سے)میں اپنی موت سے کسی دوسرے انسان کو دکھ نہیں دینا چاہتا۔ میں نہیں چاہتا کہ کل جب میں مر جاؤں تو مجھ سے محبت کرنے والی عورت بیوہ ہو، اپنے شوہر سے محبت کرنے والی عورت اپنے مجازی خدا سے محروم ہو جائے، میری اولاد میری موت سے یتیم ہوجائے اور اس کے سر سے آسمان اٹھ جائے۔
آفتاب :(چِڑھتے ہوئے) کیا احمقانہ بات ہے یار، خیر چھوڑو اس بات کو! کل تم فون پہ کہہ رہے تھے کہ تم اب اس تنہائی سے اکتا چکے ہو تو میری جان واحد حل یہی ہے کہ تم شادی کر لو اور اپنی تنہائی کو دور کرو۔
انتخاب: شاید تمہاری دنیا میں دوسروں کو اذیت دینا درست ہے، لیکن میرے مسلک میں یہ بہت بڑا جرم ہے۔جب میرے والد کا انتقال ہوا تو میں گیارہ برس کا تھا اور میری ماں تیس برس کی۔ اس لیے میں نہیں چاہتا کہ میرے مرنے کے بعد میری بیوی اور اولاد بھی اسی کرب سے گزرے جس سے میں اور میری ماں گزری ہیں۔
آفتاب: (انتخاب کا ہاتھ پکڑتے ہوئے) یار اب اتنی بھی ناامیدی اچھی نہیں، تمہاری طرح سب سوچنا شروع کردیں تو زندگی جینا ہی چھوڑ دیں، ابھی تم جوان ہو یارا کون سے ابھی مرے جا رہے ہو، بس تم کو اک شریک حیات چاہیے۔ جو تمہاری زندگی میں خوشیاں لے آئے تبھی تمہیں زندگی کی رونقیں، بیوی کی مسکراہٹ اور بچوں کی قِلقاریوں میں نظر آئیں گی۔
انتخاب: (ہاتھ چھڑا کر جاتے ہوئے) آفتاب ! تم مجھے زندگی کی گارنٹی دے دو، یا یہ بات لکھ دو کہ میری موت میرے بیوی بچوں کے بعد آئے گی، تو میں آج ہی شادی کرنے کو تیار ہوں لیکن تم ایسا نہیں کر سکتے کیوں کہ زندگی کی کسی کے پاس کوئی گارنٹی نہیں۔اللہ حافظ چلتا ہوں۔
(اورآفتاب پارک میں اکیلا بیٹھا انتخاب کو جاتا دیکھتا رہا لیکن اسے روکنے کی ہمت نہ کر سکا )

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow