غزل

شاعر: ذوالفقار ہمدم اعوان

سمجھ سکے نہ کبھی وہ مرے اشاروں کو
وہ خاک سمجھیں گے الفت کے استعاروں کو
طلب ہوئی جو حرارت کی میرے پیاروں کو
چرا کے لاؤں گا میں راکھ سے شعاروں کو
میں کھو گیا تھا بہت دیر تک اندھیروں میں
تلاش کرتا رہا ہوں ترے ستاروں کو
لبوں پہ چپ تھی مگر دل میں شور باقی تھا
بلائے کون یہاں قسمتوں کے ماروں کو
ہر ایک پل رہے دھڑکا ترے بچھڑنے کا
قرار آتا نہیں تیرے بے قراروں کو
بدن میں جاگتے دکھ بھی زبان پانے لگے
بتائے جا کے کوئی تو ستم شعاروں کو
نظر نظر میں تماشا بنے رہے ہم تو
کسی نے چھیڑا نہیں عشق کے شعاروں کو
نظر تو آئے کسی طور سے وہ جان نظر
ازل سے دیکھ رہا ہوں میں رہگزاروں کو
جھکے ہیں در پہ ترے اے مرے غفور و رحیم
معاف کیجیے مجھ سے گناہ گاروں کو
ہم اپنے درد کو رکھ آئے موج میں پنہاں
جوار بھاٹا بہا لے گیا کناروں کو
بہار آئی تھی لیکن خزاں کے شانوں پر
میں دیکھتا ہی مگر رہ گیا بہاروں کو
غریب شہر تو سچ بول کر جیا لیکن
نظام کھا گیا سارے ہی غمگساروں کو
ہنر کمال تھا جذبہ بھی بے مثال ملا
پتا چلا نہ مرے فن کا میرے یاروں کو
خدا کی ذات سے اب معجزوں کو ہونا ہے
سنبھال رکھیے ذرا اپنے اختیاروں کو

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow