شہباز ذکی
کبھی کبھی زندگی کے ہجوم میں ایک لمحہ ایسا آ نکلتا ہے جو لمحہ نہیں، ایک بابِ حیرت ہوتا ہے۔ ایسا ہی ایک لمحہ میری زندگی میں آ ج اس وقت آیا جب میں نے پہلی بار خشکی کے بجائے پانیوں کے سینے پر سفر کرنے کا قصد کیا—فیری کے ذریعے، سنگاپور سے باتام (انڈونیشیا) کی سمت، ایک ایسا سفر جو نہ صرف جسمانی تھا بلکہ روحانی اور جذباتی بھی۔
یہ میری زندگی کا پہلا سمندری سفر تھا، اور میرے وطن پاکستان میں چونکہ ایسے سفر کی سہولت عام نہیں، اس لیے میرے دل میں ہمیشہ سے ایک خواہش مچلتی تھی کہ سمندر کی وسعتوں کو دیکھوں، اُن کی وسوسہ خیز خاموشی کو سنوں، اور اُن کے نیلے وجود میں اپنے خوابوں کا عکس تلاش کروں۔
آج جب میں نے سنگاپور کے ہاربر فرنٹ سے فیری پر قدم رکھا، تو دل میں عجب سی سرشاری اور سرشاری میں اک بےنام سا خوف تھا۔ جیسے صدیوں پرانا کوئی خواب پورا ہونے جا رہا ہو۔ فیری کی کھڑکی سے جھانک کر جب میں نے دور دور تک پھیلے ہوئے نیلگوں پانیوں کو دیکھا، تو بےساختہ انگریز شاعر ٹی۔ایس کولرج کی عظیم نظم ”دی رائم آف اینشیئنٹ میرینر“ یاد آ گئی، جس کے وہ لازوال شعر میرے کانوں میں گونجنے لگے:
واٹر واٹر ایوری ویئر
ناٹ آ ڈراپ ٹو ڈرنک
واقعی، ہر سمت پانی ہی پانی تھا، مگر پیاس بجھانے والا پانی نہیں—یہ وہ پانی تھا جو خوابوں، خوف، تنہائی اور وسعتوں کا استعارہ بن چکا تھا۔
یہ سمندر، جسے سنگاپور سٹریٹ کہا جاتا ہے، سنگاپور اور انڈونیشیا کے درمیان ایک تیس کلومیٹر چوڑی قدرتی سرحد ہے۔ فیری کو یہ فاصلہ طے کرنے میں تقریباً ایک گھنٹہ لگا۔ راستے میں تجارتی جہازوں کی لمبی قطاریں، مال بردار کشتیاں، اور دیگر فَیـریاں مسلسل رواں دواں نظر آتی تھی۔ یہ راستہ دنیا کے مصروف ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتا ہے۔
میرا یہ سفر محض ایک تفریح یا شوق کا نتیجہ نہ تھا۔ میرا ایک عزیز دوست جاپان سے باتام پہنچ رہا تھا، اور میں سنگاپور سے—ہم نے طے کیا کہ اپنے اپنے راستوں سے نکلیں اور کسی تیسرے مقام، یعنی انڈونیشیا میں جا کر ملیں۔ اُس نے اس سفر کو سپانسر کیا، اور میں نے اِسے ایک یادگار مہم میں بدل دیا۔
فیری میں تقریباً دو سو نشستوں کی گنجائش ہے، مگر اس دن محض سو کے قریب مسافر سوار تھے، جن میں مرد و خواتین شامل تھے۔ بیش تر لوگ یا تو سیاحت کی غرض سے یا روزگار کے سلسلے میں سفر کر رہے تھے۔ روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں انڈونیشی کارکنان صبح کی پہلی فیری سے سنگاپور آتے ہیں اور شام کی آخری فَیـری سے واپس چلے جاتے ہیں، کیونکہ سنگاپور کی معیشت انڈونیشیا کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سنگاپور کا ایک ڈالر، انڈونیشی روپیہ میں بارہ ہزار پانچ سو کے برابر ہے۔
سمندر کی سطح پر دوڑتی ہوئی فیری، لہروں سے باتیں کرتی ہوئی، جیسے مجھے وقت کے سفر پر لے گئی ہو۔ میں ایک طرف کھڑکی سے پانیوں کی سنجیدگی دیکھ رہا تھا، تو دوسری جانب دل میں گزری یادوں، بچپن کے خوابوں اور ادھورے جذبوں کی پرچھائیاں ابھر رہی تھیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے سمندر صرف پانی نہیں، یادوں کی ایک گہری کتاب ہے، جس کے ہر صفحے پر میری زندگی کا کوئی نہ کوئی منظر ثبت ہے۔
میرا یہ پہلا سمندری سفر ایک ایسی خاموش موسیقی کی مانند تھا، جسے صرف وہی سن سکتا ہے جو فطرت کے قریب ہو۔ اس سفر نے مجھے سکھایا کہ زندگی میں بعض خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے صرف وسائل نہیں، حوصلہ، احساس اور وقت درکار ہوتا ہے۔میں نے اس سفر کو فقط اس لیے قلم بند کیا ہے کہ جو لوگ سنگاپور میں مقیم ہیں یا کبھی یہاں آئیں، وہ اس سمندری تجربے کو ضرور آزمائیں۔ یہ صرف ایک سفر نہیں، بلکہ روح کی تازگی، دل کی وسعت اور فطرت سے قربت کا ایک نایاب لمحہ ہے۔
Latest Posts
