تحریر: تنزیلۃالرحمٰن
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی قدرت کاملہ سے پیدا فرمایا اور ظاہری سبب والدین کو بنایا انسان کو دنیا میں لانے کا۔
والدین انسان کے لیے نعمت، رحمت ہونے کے ساتھ ساتھ جنت بھی ہیں اور جہنم بھی۔
جہاں پر والدہ کے قدموں کے نیچے جنت ہے تو والد کو جنت کا دروازہ کہا گیا ہے۔
والد کی ہستی بہت ہی معزز ،مکرم اور سراپا اخلاص و محبت ہے۔ والد کی محبت، ان کا ساتھ اور گھر کا سربراہ ہونا اولاد کے دل میں جاذبیتِ محبت کے ساتھ ساتھ رعب و دبدبہ پیدا کرتی ہے۔ زندگی کے رنگ والد کے سنگ ہی خوبصورت لگتے ہیں۔
حدیثِ مبارکہ کا مفہوم ہے:
“رب کی رضا والد کی رضامندی میں ہے اور رب کی ناراضی والد کی ناراضی میں ہے”۔
والد محترم کی رضا حاصل کرنے کے لیے اولاد کو ان کی خوش نودی والے کام کرنے چاہیں جس سے اللہ تعالیٰ بھی خوش ہوں گے اور فلاحِ دارین نصیب ہوگی۔ ان کی زندگی میں چاہیے کہ ان پر خرچ کریں، ان کی خدمت کریں۔ ان کا دست بازو بنیں اور ان کی وفات کے بعد ان کے لیے صدقہ جاریہ بنیں۔
ایک اور حدیث مبارکہ میں آتا ہے: ( مفہوم)
“تم اور تمہارا مال تمہارے والد کا ہے”۔
اولاد کو اپنا یہ فرض سمجھنا چاہیے کہ وہ جو جو کام کرے اس میں والد خوش اور رضامند ہو۔ کیونکہ ایک تو اولاد خود اپنے والد کی ہے اور دوسرا اسکا مال بھی۔
والد محترم وہ ہستی ہیں جو اپنے گھر کی گاڑی خون پسینے سے چلاتاہے۔ اپنی ضروریات سے نبردآزما ہوکر اپنی اولاد کی خواہشات کو پورا کرتا ہے۔ والد ایک ایسے شجر کی مانند ہے جو گھر کو سائے کے ساتھ پھل بھی فراہم کرتاہے خود تپتی ہوئی دھوپ میں جلھس کر۔
والد وہ ہستی ہے جو گھر کی حفاظت میں اپنا تن من دھن سب قربان کرد یتاہے۔
ان کے ہونے سے بخت ہوتے ہیں
باپ گھر کے درخت ہوتے ہیں
باپ کی محبت ایک لازوال داستان ہے۔ باپ کی محبت، عظمت اور اخلاص کے بارے میں جتنا لکھا جائے اتنا کم ہے۔ والد ایک مضبوط دیوار اور باہمت بلند پہاڑ کی طرح جڑے ہوتے ہیں جو کسی بھی اغیار کی میلی آنکھ سے اپنے گھر والوں کی حفاطت کرتاہے۔ باپ ایک مضبوط قلعہ اور گھر کا نگہبان ہوتا ہے جو ہر طرح سے حصار قائم کر لیتا ہے۔ اولاد جس قدر چاہے انکی خدمت کرے مگر ان کا حق نہیں اد کیا جا سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ میرے والد کو ہمیشہ خوش و خرم رکھے اور فلاح دارین نصیب فرمائے اور عافیت، پیار محبت والی لمبی زندگی دیں۔
قوم کے تمام معزز والد کو سلام!
Latest Posts
