ایران اسرائیل جنگ اور پاکستان کا موقف

عبدالرؤف ملک کمالیہ
پاکستان دنیا کی واحد مملکت ہے جس کی بنیاد ایک نظریے پر قائم ہے۔ یہ وہ نظریہ ہے جو لا الہ الا اللہ سے وجود میں آیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس وطن کے محافظ اور اس کے باسی اس سرزمین کی جغرافیائی اور نظریاتی حدود کی حفاظت کرنا اپنے ایمان کا جزو سمجھتے ہیں اور اس کی حفاظت اپنے تن من اور دھن سے زیادہ ضروری سمجھتے ہیں۔ایران اسرائیل جنگ کی موجودہ صورت حال میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک بیان جاری کیا کہ ایران کے بعد ہمارا اگلا ہدف پاکستان ہوگا۔ اس بیان کے تناظر میں پاکستانی عوام میں شدید غم و غصہ، بےچینی اور اضطراب پایا جارہا تھا کہ ایران کے مقابلے میں فلسطینی مسلمانوں کے ازلی دشمن وہ اسرائیلی اور صیہونی قوتیں ہیں جنہوں نے ہمیشہ نہتے اور معصوم مسلمانوں کو ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا اور مسلمانوں کے قبلہ اول پر غاصبانہ قبضہ کیا۔ ایران پر جارحانہ حملہ کیا اور اب پاکستان کی طرف بھی ٹیڑھی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔ ان متعصب، تنگ نظر، غاصب اور ظالم صیہونیوں سے لڑنا اور وسطی ایشیا کے مسلمانوں کو ان کے شر سے محفوظ کرنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے لیکن کچھ مجبوریوں اور پابندیوں کی وجہ سے ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ایران اسرائیل کی حالیہ جنگ میں پاکستان نے ایران کے ساتھ تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انتہائی مضبوط اور واضح موقف پیش کیا ہے جس سے جذبہ جہاد سے سرشار پاکستان کا بچہ بچہ جوشِ ایمانی سے چہک رہا ہے۔ پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے دو ٹوک الفاظ میں یہ بیان جاری کیا کہ اگر اسرائیل نے پاکستان کی طرف غلطی سے بھی کسی جارحیت کا ارتکاب کرنے کی کوشش کی تو پاکستان اس کی اینٹ سے اینٹ بجانے میں لمحہ بھر کی دیر بھی نہیں کرے گا۔ انہوں نے پوری دنیا بالخصوص عالم کفر کو للکار کر کہا کہ آزمائش کی اس گھڑی میں ہم ایران کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے ہر دکھ درد میں شریک ہیں۔ امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک نے اگر اس جنگ میں اسرائیل کی مدد کرنے کی کوشش کی اور ایران پر حملے میں شامل ہوۓ تو پاکستان بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ایران کا دفاع کرے گا اور سفارتی اور عسکری لحاظ سے ایران کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام مسلم ممالک متحد ہوں اور OIC کا اجلاس بلایا جائے تاکہ اسرائیل کی جارحیت کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اگر آج مسلم دنیا متحد نہ ہوئی تو تمام مسلم ممالک کو اسرائیلی جارحیت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان نے اسرائیلی ایٹمی توانائی پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی جارحیت، غنڈہ گردی اور انسانیت کی توہین ہے۔ اس سے کچھ بعید نہیں کہ یہ جوہری توانائی کو منفی مقاصد کے حصول اور انسانیت کے قتل کےلیے استعمال کر گزرے۔ صہیونیوں کی یہ ناجائز ریاست عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے اگر اسے آج لگام نہ ڈالی گئی تو کل پوری انسانیت اس کی قیمت چکائے گی۔ اسی طرح اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھی پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد نے بھی ایران پر اسرائیل کی بلاجواز اور غیر قانونی جارحیت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایرانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ اسرائیل نے ایران پر حملہ کرکے نہ صرف اس کی سالمیت، خودمختاری اور بقا کو خطرے سے دوچار کیا ہے بلکہ علاقائی امن اور سالمیت کی حدود کو بھی پامال کیا ہے۔ ایران کو اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے اور پاکستان ایران کے دفاعی موقف کی بھرپور تائید کرتا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے پاکستان مخالف بیان کے بعد پاکستان کی عسکری قیادت نے اپنے تمام دفاعی آلات ایرانی بارڈر پر نصب کر دیے اور پاک فضائیہ اور تمام فورسز کو ہائی الرٹ کردیا اور یہ حکم جاری کردیا کہ اگر اسرائیل کی طرف سے کسی بھی قسم کی جارحیت یا بری و فضائی سرحدوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو کسی بھی کمانڈ کا انتظار کیے بغیر اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے۔
الحمدللہ! پاکستان کی مسلح افواج اور پوری قوم اپنے وطن کی حفاظت کےلیے سربکف ہے اور اپنے ازلی دشمن ہنود و یہود کی ہر حرکت پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس قوم کا بچہ بچہ پاک فوج کے شانہ بشانہ اس سرزمین پاک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow