کالم نگار:بسمہ عمران
جنوبی ایشیا کا خطہ، جو کبھی تہذیب و تمدن کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا، ایک بار پھر جنگی جنون کے دہانے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ مئی 2025 کی ابتدا ہی سے سرحد کے دونوں جانب ایک بار پھر توپوں کی گھن گرج سنائی دی۔ 7 مئی کو بھارتی فوج نے پاکستانی علاقے میں مبینہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ ان کارروائیوں کے بعد پاکستانی افواج نے بھی بھرپور جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں دونوں جانب جانی و مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ تین دن تک جاری رہنے والی ان جھڑپوں نے پورے خطے کو ایک بار پھر خوف و ہراس کی فضا میں مبتلا کر دیا۔اس حالیہ کشیدگی نے اس حقیقت کو آشکار کر دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود خلیج اب بھی بہت گہری ہے۔ جنگی طیاروں کی گونج اور توپوں کی دھمک کے درمیان سرحدوں پر مقیم معصوم شہری ایک بار پھر سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ ان کے گھروں کے در و دیوار لرز اٹھے، اور ماؤں کی گودوں سے بچے سہم کر لپٹ گئے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جب تک جنگی جنون کی آگ سلگتی رہے گی، انسانیت کے یہ کچے گھروندے بار بار ٹوٹتے رہیں گے۔دل چسپ بات یہ ہے کہ اس بار روایتی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی نمایاں رہا۔ بھارت نے اسرائیلی ساختہ ہیرون ڈرونز کا استعمال کیا جب کہ پاکستان نے ترکی کے بیرقدار ڈرونز سے جواب دیا۔ ان ڈرونز کی پرواز نے اس خطے میں ایک نئے خطرے کی نشاندہی کی ہے کہ اب جنگیں محض سپاہیوں کے لہو سے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کے بے رحم ہاتھوں سے بھی لڑی جائیں گی۔ ایسے میں خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں اگر کوئی تصادم ہوتا ہے تو اس کے اثرات محدود نہیں، بلکہ ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ دونوں ممالک ایٹمی طاقت کے حامل ہیں۔ ایک غلط فہمی، ایک اشتعال انگیز بیان یا کوئی غیر ذمہ دارانہ قدم پورے خطے کو ایٹمی تباہی کی بھٹی میں جھونک سکتا ہے۔ دنیا کے باشعور حلقے اس صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی ادارے بارہا متنبہ کر چکے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں کوئی بھی غیر دانشمندانہ قدم عالمی امن کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔حالیہ واقعات کے دوران بھارتی وزیر اعظم کے الزامات اور پاکستان کے شدید ردعمل نے سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیا۔ بھارت کا کہنا ہے کہ یہ حملے دراصل ان دہشت گرد گروہوں کے خلاف ہیں جن کی سرپرستی پاکستان کر رہا ہے، جبکہ پاکستان اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسے بھارتی جارحیت اور پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیتا ہے۔ الزام تراشی کا یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے، مگر افسوس کہ اس کا خمیازہ دونوں جانب کے عام شہری بھگت رہے ہیں۔ان جھڑپوں کے بعد جنگ بندی کا عارضی اعلان تو سامنے آ گیا، مگر یہ واضح ہے کہ دلوں کی سرحدیں ابھی تک بند ہیں۔ سرحد کے دونوں جانب بسنے والے انسان شاید اس بات کو بہتر سمجھتے ہیں کہ جنگ نہ تو کسی مسئلے کا حل ہے اور نہ ہی کوئی پائیدار راستہ۔ پاکستان اور بھارت دونوں کی معیشتیں پہلے ہی زبوں حالی کا شکار ہیں۔ وسائل کی اس دوڑ میں اربوں روپے کے دفاعی بجٹ دراصل عوام کی فلاح و بہبود پر ڈاکا ہیں۔ ایسے میں اگر جنگی جنون کو لگام نہ دی گئی تو اس خطے کے کروڑوں لوگ ایک ایسی آگ میں جھلس جائیں گے جس کے شعلے نہ صرف جسم، بلکہ روحوں کو بھی جلا ڈالیں گے۔ایک اور پہلو جو اس ساری صورتِ حال کو مزید خطرناک بناتا ہے وہ خطے میں موجود انتہاپسند گروہوں کی موجودگی ہے۔ یہ عناصر ہر موقع کو اپنے ایجنڈے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کے لیے جنگی ماحول گویا ایک نعمتِ غیر مترقبہ بن جاتا ہے۔ ایسے گروہوں کی سرکوبی اور امن کے راستے کو ہموار کرنا دونوں ممالک کے ذمے دار حکمرانوں کا اولین فرض ہے۔آخر میں، اگر اس پورے منظرنامے پر نظر دوڑائی جائے تو ایک بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے: جنگ کسی کے مفاد میں نہیں۔ جنگ وہ ناسور ہے جو زمین کو بنجر، اور انسانیت کو شرمسار کر دیتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے رہنماؤں کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ پائیدار امن صرف مذاکرات اور باہمی افہام و تفہیم سے ہی ممکن ہے۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ بارود کی بو کبھی امن کی خوشبو میں تبدیل نہیں ہو سکتی۔ یہ دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ عقل و دانش کو بروئے کار لا کر اس خطے کو بارود کے ڈھیر سے نکالیں اور امن کے روشن راستے پر گامزن کریں۔ یہی اس خطے کے کروڑوں انسانوں کی سب سے بڑی آرزو ہے۔
Latest Posts

ماشاءاللہ زبردست تحریر