تحریر: اللہ رکھا تبسم، واہ کینٹ
فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ مجھے استاد بنا کر بھیجا گیا ہے۔ استاد کا معاشرے میں مرکزی کردار ہے۔ دنیا کا کوئی شعبہ استاد کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ایک مخصوص مکتب میں تعلیم دیا کرتے تھے۔ یہ ایک چبوترہ تھا جہاں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے ان کو اصحاب صفہ کا خطاب ملا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آقا نام دار فخر موجودات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں اعلیٰ کردار کا نمونہ بنے، کفار پر اپنا رعب و دبدبہ قائم رکھا اور دنیا پر حکمرانی کی۔ہمارے معاشرے میں استاد کو جو مقام ملنا چاہیے تھا وہ بدقسمتی سے حاصل نہیں ہو سکا۔ استاد قوم کی تعلیم و تربیت کرتے ہوئے اس کو نکھارتا ہے۔مدرسہ، سکول، کالج اور یونیورسٹی میں استاد انتہائی جاں فشانی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ کو بیداری شعور کا درس دیتا ہے۔سارے طلبہ ایک جیسے نہیں ہوتے، ہر ایک کی ذہنی استعداد اور تعلیمی میلان الگ الگ ہوتا ہے۔ بعض ذہانت سے بھی اوپر کے درجے پر فائز ہوتے ہیں پھر ذہین اور آخر میں کند ذہن طلبہ کا نمبر آتا ہے۔ اساتذہ تمام طلبہ کو یکساں مواقع دیتے ہیں مگر چند ایک انتہائی کامیاب ہوتے ہیں اور معاشرے میں اہم مقام اور مرتبہ حاصل کر لیتے ہیں۔دیگر جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے کہ اپنی اپنی کارکردگی کے مطابق اسی مناسبت سے جگہ بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، صحافی، فوجی، بینک کار، بزنس مین غرض ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کے مرہون منت ہیں۔
آج اساتذہ در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ موجودہ حکومت اساتذہ کو معاشی ریلیف دینے میں بری طرح ناکام نظر آتی ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ہر ملازم بشمول اساتذہ کو معاشی تحفظ کی اشد ضرورت ہوتی ہے زندگی کے اس حصے میں اس کو سہارا درکار ہوتا ہے مگر پنشن، گریجویٹی اور لیو ان کیش منٹ میں اتنی زیادہ کمی کر دی گئی ہے کہ جو پیکج پہلے ملتا تھا اب تقریباً اس کا نصف رہ گیا ہے۔ اس پر ٹیچر یونین اور ایسوسی ایشنز احتجاج بھی ریکارڈ کروا چکی ہیں مگر ابھی تک کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ارباب اختیار سے پر زور اپیل ہے کہ خدارا تمام ملازمین بالخصوص اساتذہ کو ان کے جائز حقوق دیے جائیں تاکہ وہ معاشرے میں عزت و احترام سے اپنے خاندان کی کفالت کر سکیں اور معاشرے کو سنوارنے کا فریضہ نہایت عمدگی سے سر انجام دے سکیں۔

ماشاءاللہ ماشاءاللہ زبردست