نصیر احمد بھلی (سیالکوٹ)
ہتک عزت ایک ایسا قابل گرفت عمل ہے جو ایک انسان کسی دوسرے انسان کے جذبات یا اس کی شہرت کو معاشرے میں داغ دار کرے جس کی وجہ سے قانون کو حرکت میں لایا جا سکے۔ سادہ الفاظ میں اس کی تعریف کچھ یوں بنتی ہے کہ”کسی کی عزت داغ دار کرنے کا ایسا بیان یا عمل جو بہتان پر مبنی ہو اور قانونی طور قابل گرفت ہو۔ جس سے دوسرے انسان کی عزت معاشرے میں داغ دار ہو۔“ قانون میں اس کی تعریف کچھ اس طرح ہے۔ ”ایسا بیان جو کسی دوسرے انسان کی عزت کو داغ دار کرے۔ اور اس کی حیثیت کو بہتان سے معاشرے میں کم کرنے کی کوشش کرے۔ اس میں کسی انسان کی ذات، جائیداد، کاروبار، گروپ، گورنمنٹ یا مذہبی دل آزاری کا عنصر پایا جائے۔“ یہ اشارہ و کنائیوں، گویائی، تحریری یا کسی اور طور بھی ہو جس سے دوسرے کی عزت کو نقصان پہنچے یا ایسی حرکت جو دوسرے انسان کی عزت کو نقصان پہنچانے کے لیے کی جائے۔اس کی مثال جب کوئی مواصلاتی ذریعہ، اخبار یا جریدہ ایک جھوٹی خبر شائع کرے کہ معاشرے کے فلاں قابل عزت شخص نے قانونی جرم کیا ہے۔ جب کہ وہ جانتے ہوں یہ خبر جھوٹ اور بہتان پر مبنی ہے۔ اس جھوٹے الزامات کے ثابت نہ ہونے پر یہ عمل قابل گرفت ہو گا۔ ہتک عزت کی کوئی قانونی تعریف نہیں ہے ہر ملک میں یہ اپنی الگ اطلاق رکھتی ہے۔ ہتک عزت کا دعوٰی جیتنے کے لئے آپ کو یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ دوسرے انسان کا بیان آپ کی شہرت کو داغ دار بنانے کے لیے شائع کیا گیا ہے جس سے آپ کی ہتک عزت ہوئی ہے یا ہونے کا اندیشہ ہے۔
ہتک عزت کے قوانین کی ایک تاریخ ہے۔ جن کی ابتداء روم اور انگلستان کے ابتدائی دور کے قوانین سے ملتی ہے۔ تمام سماجوں، مذاہب اور بیش تر ممالک کے قوانین میں ہتک عزت کو قابل گرفت سمجھا جاتا ہے۔ رومن قانون میں فرد کے کردار بارے گفتگو کی گنجائش رکھی گئی تھی لیکن اسی کے ساتھ اس کی عزت نفس کا خیال رکھنا اور ہتک عزت سے نقصان نہ پہنچنے کا احتمال بھی رکھا گیا تھا۔ دل آزاری تعزیری دفعات کے ساتھ نبھائے جاتے اور جہاں ممکن ہوتا وہاں جرمانہ بھی عائد کیا جاتا۔ہتک عزت کے دعوی سے نبٹنے کے لیے سولہویں صدی کے ابتدائی بیس سالوں میں سول عدالتوں نے عمل درآمد کرنا شروع کر دیا۔ آج کل انگریزی عدالتوں میں دفاع کرنے والے یعنی مدعا الیہ کو اپنے بیان میں یہ ثابت کرنا ہوتا ہے۔ اول تو اس کا بیان حقائق پر مبنی ہے۔ دوئم یہ زبانی یا شائع شدہ بیان کسی دوسرے شخص کے کردار کشی کے لئے نہیں۔ سوئم غفلت میں قصور کی وجہ سے مدعی کو نقصان کا احتمال نہیں یا ہونے کا ، احتمال ہے۔ چہارم مدعی کی عزت نفس کا مجروح ہونا بالکل بھی مقصود نہیں۔
لیکن مدعی کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ ہتک عزت کا بیان اسی کے لئے تھا۔ اگر تو جھوٹے بیان یا بہتان میں مدعی کا نام لیا گیا ہے تو یہ ثابت شدہ ہے لیکن جہاں مدعی کا نام نہ لیا گیا ہو تو یہ بتانا پڑتا ہے کہ یہ دل آزار الفاظ پڑھنے والے فرد کو مدعی کی طرف اشارہ دلاتے ہیں۔ انگریزی قوانین میں دفاع ہتک عزت میں کچھ باتوں کا دفاع دستیاب ہے۔ مثال کے طور سچ اور سچی رائے، کوئی ایسی امتیازی خبر جو عوامی رائے عامہ کے مفاد میں اہل اور حتمی ہو۔انگریزی قوانین میں ہتک عزت کا بار ثبوت مدعا علیہ پر ہے۔ وہ ثابت کرے اس سے مدعی کی عزت نفس کی دل آزاری مقصود نہ تھی۔ بین الاقوامی طور پر ہتک عزت کے مقدمات کو فوجداری قوانین کے تحت ڈیل نہیں کیا جاتا۔ جن میں کئی بین الاقوامی تنظیمیں، انسانی حقوق کی عالمی عدالت، اقوام متحدہ، انٹر۔ امریکن انسانی حقوق کی تنظیمیں نہیں چاہتیں کہ ہتک عزت کو فوجداری عدالتوں کے ذریعے نبٹا جائے۔ اسی طرح برصغیر میں انگریزوں نے اپنے بادشاہ کو ہتک عزت کے دعوے سے محفوظ رکھنے کے لئے اسے فوجداری قوانین کا حصہ نہیں بننے دیا۔اسی لئے آج تک برصغیر میں آزاد مملکتوں نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی لیکن اب میڈیا اور سوشل میڈیا کے استعمال سے ہتک عزت کے کیس بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور اس طوفان بدتمیزی نے ان ممالک کے معاشروں کو ہلا کر رکھ چھوڑا ہے۔ جہاں لوگوں کی عزتوں کو جھوٹی باتوں سے اچھالا جانا معمولی بات سمجھا جا رہا ہے۔ ہتک عزت سے ان افراد یا خاندانوں پر کیا اثرات پڑھتے ہیں اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہا۔ آج کی مہذب دنیا کا یہ المیہ بنتا جا رہا ہے جس کی تشخیص کرنا اب لازمی امر ہو گیا ہے۔ اظہار رائے و آزادی رائے ہر معاشرے کے افراد کا بنیادی حق ہے لیکن اس میں معاشرتی اقدار کی حدود و قیود کا خیال رکھا جانا از حد ضروری ہے۔ انگلستان میں ہتک عزت کا دعوٰی ہائیکورٹ میں دائر کیا جاتا ہے۔پاکستان میں ہتک عزت کا دعوٰی پاکستان پینل کوڈ ”پی پی سی“ کے سیکشن 499 اور 500 کے علاوہ پریوینشن آف دی کرائم ایکٹ 2016 ء (پے کا ) کے سیکشن 20 کے تحت دائر کیا جا سکتا ہے۔ دعوٰی دائر کرنے سے قبل مدعی کے لئے مدعا علیہ کو دو ہفتوں کا نوٹس دینا لازمی ہے۔ سول ہتک عزت کے مقدمات میں مدعی کو یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ زبانی یا لکھی تحریر سے اس کی شہرت داغدار ہوئی یا احتمال ہے۔ فوجداری ہتک عزت کے دعوؤں میں ثبوت کا بار پراسیکیوشن پر ہے کہ وہ اپنے دعوٰی کو ثابت کریں۔پاکستان کا دستور کسی بھی فرد کو گھر میں پرائیویٹ لائف کی ضمانت اپنے بنیادی حقوق کے آرٹیکل 14 ( 1 ) جسے آرٹیکل 35 کے ساتھ ملا کر پڑھا جانا ہوتا ہے، کے تحت دیتا ہے۔ انڈین پینل کوڈ کے تحت ہتک عزت کے دعوؤں میں بھی یہ ہی دونوں سیکشنز 499 اور 500 لاگو ہوتے ہیں۔ اس کے تحت زبانی، تحریری یا ٹیکنالوجی کی مدد سے دیا گیا بیان جو کسی دوسرے انسان کی شہرت و عزت کو داغدار کرے قابل گرفت ہے۔دنیا کے تمام ممالک کے معاشروں کا تجزیہ یہ بات ثابت کرتی ہے کہ ان میں ہتک عزت کے کیسوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اس میں نت نئے طریقے ایجاد کیے جا رہے ہیں۔ تمام دنیا، کی پارلیمانز اور لیڈران کو اس مسئلے کی سنگینی کا احساس کرنا ہو گا اور اپنے اپنےمعاشروں کو اس کے مضمرات سے نہ صرف آگاہی پیدا کرنا ہے کہ اس کے تدارک کے لئے قوانین سازی و کڑی سزاؤں کا بھی ادراک کرنا ہو گا۔ تمام۔ لوگوں کے لیے ہتک عزت کے نقصانات کیآگاہی از حد ضروری ۔اللہ میرے ملک پاکستان اور اسکے عوام کی حفاظت فرمائے۔

ماشاءاللہ زبردست تحریر سر