شاعر: ذوالفقار ہمدم اعوان
اندھیری راتوں میں اس کا خیال رکھتے تھے
چراغِ جان سے رستے اُجال رکھتے تھے
ستم بھی سہنا ہے اف بھی کبھی نہیں کرنی
ہم اپنی جان پہ کیا کیا وبال رکھتے تھے
سنا ہے جیت نہ پائے مقدروں سے کبھی
جہان بھر کا جو حسن و جمال رکھتے تھے
نظر اٹھا کے نہ دیکھا شریف ایسے تھے
ہم ان پہ ہاتھ اٹھاتے “مجال” رکھتے تھے
خدا کا شکر ہے وہ ہو گئے ہیں چپ صاحب
ہمارا جینا ہمیشہ محال رکھتے تھے
کبھی جدائی کے لمحے برے نہ لگتے تھے
کہ ہم نگاہ میں شامِ وصال رکھتے تھے
گزر گئے تو ہوا کو ذرا خبر نہ ہوئی
تمہارے ہجر کا رنج و ملال رکھتے تھے
اسے جو بات بدلنے پہ تھا عبور بہت
تو شعر کہنے میں ہم بھی کمال رکھتے تھے
چھپا کے دنیا سے چاہا تھا ایک دوجے کو
ہزاروں پردے محبت پہ ڈال رکھتے تھے
خموشیوں میں جو سب کچھ سنایا کرتے تھے
زباں پہ قفل پہ آنکھوں میں حال رکھتے تھے
ملے جو زخم محبت میں مسکرا اٹھے
وہ اعلیٰ ظرفی میں اعلیٰ مثال رکھتے تھے
غریب و سادہ و دلگیر والدین مرے
محبتوں سے ہمیشہ نہال رکھتے تھے
یوں کھیلتے تھے ہواؤں سے اپنے بچپن میں
تمام شہر تھکن سے نڈھال رکھتے تھے
ہمیں خبر ہے قیامت کا دن مقرر ہے
جدائیوں کو دعاؤں سے ٹال رکھتے تھے
پلٹ کے دیکھتے ہیں وقت کو تو حیرت ہے
رفاقتوں کے حسں پل سنبھال رکھتے تھے
ہزار طرح کی باتیں ستم بھی سہتے تھے
عظیم لوگ تھے رشتے بحال رکھتے تھے
محبتوں میں ہماری کبھی کمی نہ ہوئی
شکایتوں سے سدا پائمال رکھتے تھے
Latest Posts
