شاہد نسیم چوہدری ٹارگٹ
کیا امن کا نوبیل انعام مذاق بن چکا ہے؟
”صدر ٹرمپ نے آٹھ مرتبہ غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد کو مسترد کیا اور ہم اُس شخص کو امن کا پیامبر کہتے ہیں؟ کچھ تو شرم آنی چاہیے!“
یہ جملہ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی سابق مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا ہے، مگر یہ صرف ایک سوال نہیں، پوری انسانیت کے ضمیر پر ایک دستک ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر انسانیت کا قتل، نسل کشی کی پشت پناہی، اقوامِ متحدہ میں امن کی قراردادوں کی بارہا مخالفت، اسلام دشمنی، اسلحہ فروشی، ایران پر حملے اور امریکی جمہوریت کو سبوتاژ کرنے کے بعد بھی کسی شخص کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا جا سکتا ہے تو پھر دنیا کو ”امن“ کا مطلب نئے سرے سے لکھنے کی ضرورت ہے۔
نوبیل انعام کا معیار: کیا بدل چکا؟
نوبیل امن انعام، ان افراد یا تنظیموں کو دیا جاتا ہے جو اقوامِ عالم کے درمیان بھائی چارہ، جنگوں کا خاتمہ، امن کی کوششیں یا انسانی حقوق کی حفاظت جیسے عظیم کام کریں۔ مگر جب یہ اعزاز ایک ایسے شخص کے لیے تجویز کیا جائے جو نفرت کی زبان بولتا ہو، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ انعام بھی محض سیاسی مصلحتوں کا شکار ہو چکا ہے؟غزہ: خون کی ہولی اور ٹرمپ کی خاموشی۔غزہ میں جب اسرائیلی جنگی طیارے بچوں، عورتوں اور شہری آبادیوں پر بمباری کر رہے تھے، دنیا بھر میں مظاہرے ہو رہے تھے، تب ٹرمپ حکومت اقوامِ متحدہ کی جنگ بندی کی آٹھ کوششوں کو ویٹو کرتی رہی۔ یہ کوئی ”غفلت“ نہیں تھی، یہ ایک واضح پالیسی تھی — اسرائیل کی کھلی حمایت، مظلوم فلسطینیوں کی مکمل تذلیل۔
ئجس شخص کی خارجہ پالیسی ”بندوق بردار کا ساتھ“ ہو، وہ امن کے علم بردار کیسے بن سکتا ہے؟
ٹرمپ کے حامی اکثر ’ابراہام معاہدے‘ کو اُن کا امن کارنامہ گردانتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان معاہدوں کے تحت نہ صرف فلسطین کو پسِ پشت ڈالا گیا بلکہ امریکہ نے عرب ممالک کو اربوں ڈالر کے ہتھیار بیچ کر اپنا معاشی فائدہ بھی حاصل کیا۔
امن کے نام پر F-35 طیارے، میزائل سسٹمز، اور ٹینکوں کا تبادلہ ایک ایسا طنز ہے جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ٹرمپ وہ پہلے امریکی صدر ہیں جنہوں نے کھلم کھلا مسلمانوں کے خلاف امتیازی پالیسیاں اپنائیں۔ سات مسلم ممالک پر سفری پابندیاں، اسلام مخالف بیانات اور ’مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی‘ جیسے متنازع بیانات ان کی پالیسی کا حصہ تھے۔
کیا نوبیل انعام کسی ایسی شخصیت کو دیا جا سکتا ہے جو دنیا کی دوسری بڑی مذہبی اکثریت کے خلاف نفرت کو ہوا دے؟ جنوری 2020 میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو بغداد ایئرپورٹ پر ڈرون حملے میں قتل کیا گیا۔ اس کارروائی کو نہ اقوامِ متحدہ نے جائز قرار دیا، نہ ہی بین الاقوامی قوانین نے۔ یہ کھلی جارحیت تھی، جس نے مشرق وسطیٰ میں ایک نئی جنگ کے خطرات کو جنم دیا۔
امن کا نوبیل انعام اس شخص کو دینا، جو جنگ کے دہانے تک دنیا کو لے آیا، نوبیل فلسفے کی صریحاً توہین ہے۔6 جنوری 2021 کو ٹرمپ کے حامیوں نے امریکی کانگریس پر حملہ کیا۔ یہ واقعہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت پر ایک داغ تھا — اور اس داغ کو خود ٹرمپپ نے اُکسایا تھا۔ ایک ایسا لیڈر جو خود اپنی ریاستی مشینری اور آئینی اداروں پر حملے کی ترغیب دے، وہ امن کا علمبردار نہیں، فساد کا ماہر ہوتا ہے۔
نوبیل کمیٹی کو اس حقیقت کا ادراک کرنا ہو گا کہ اگر ٹرمپ جیسے شخص کو یہ اعزاز دیا گیا تو اس انعام کی معنویت ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔ پھر کوئی بھی جنگی مجرم، نسل پرست لیڈر، یا ظالم آمر اس کے لیے امیدوار ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر ملیحہ لودھی کی بات، جو سفارتی تجربے، بین الاقوامی بصیرت اور مظلوموں کے درد سے مزین ہے، ہمیں جھنجھوڑتی ہے۔ ان کا سوال محض ایک نکتہ نہیں بلکہ پوری انسانی ضمیر کی ترجمانی ہے۔
اگر ہم واقعی امن چاہتے ہیں تو ہمیں امن کو تاجروں، مفاد پرستوں، نسل پرستوں اور اسلحہ فروشوں کے ہاتھوں نیلام ہونے سے بچانا ہو گا۔
امن انعام صرف اس کا حق ہے جس نے انسانوں کو زندگی دی ہو، آواز دی ہو، دشمنوں کو قریب کیا ہو، کمزوروں کو طاقت دی ہو۔ ٹرمپ نے اگر کچھ دیا ہے تو وہ صرف نفرت، تقسیم، ہتھیار، جنگ، ظلم، فتنہ اور فساد ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا نوبیل انعام کے لیے نام آنا بھی امنِ عالم کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق ہے — اور یہ مذاق اگر جاری رہا تو آنے والی نسلیں شاید نوبیل انعام کا حوالہ دیتے وقت شرمندگی محسوس کیا کریں گی۔
Latest Posts
