شاہد نسیم چوہدری ٹارگٹ
’’قلم کے محافظ، اب قانون کے سائے میں؟‘‘
اسلام آباد سے ایک خوش آئند خبر ہے: ”جرنلسٹ پروٹیکشن بل“ پارلیمنٹ سے منظور ہو چکا ہے۔ یہ بظاہر ایک قانونی کار روائی ہے لیکن درحقیقت یہ پاکستانی صحافت کی طویل جدوجہد، قربانیوں، اور بے شمار زخموں پر ایک مرہم رکھنے کی کوشش ہے۔ وہ صحافی جو برسوں سے حق و صداقت کی قیمت تشدد، قید و بند، اور سماجی بائیکاٹ کی صورت میں چکاتے آ رہے تھے، اب ایک حد تک قانون کی چھتری تلے آ گئے ہیں۔یہ قانون صحافیوں کو ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران زبانی یا جسمانی تشدد، دھمکی یا ہراسانی سے بچانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ ساتھ ہی، یہ قانون ذرائع کے تحفظ، خبر تک رسائی، اور آزادی اظہار کو بنیادی حیثیت دیتا ہے۔
صحافت: قوم کی آنکھ، مگر خود بینا سے محروم؟
پاکستان میں صحافت ہمیشہ ایک دو دھاری تلوار پر چلتی رہی ہے۔ ایک طرف وہ ریاست، حکومت، اور طاقتور اداروں کے خلاف عوام کی آواز بنی رہی، دوسری طرف خود اسی طاقتور اشرافیہ کی آنکھ کا کانٹا بھی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحافیوں کو دھمکیاں ملتی رہیں، اغوا ہوتے رہے، تشدد سہتے رہے، اور کبھی کبھی موت کے گھاٹ بھی اتار دیے گئے۔کسی کو سلیم شہزاد یاد ہو گا، جو لاپتا ہوا اور پھر مردہ پایا گیا۔ کسی کو ارشاد مستوئی یاد ہو گا، جسے گولیاں مار دی گئیں۔ کسی کو مطیع اللہ جان کا اغوا یاد ہو گا، اور کوئی حامد میر کی قاتلانہ حملے کے بعد کی آنکھوں میں چھپی بےبسی کو آج بھی نہیں بھول سکا ہو گا۔ایسے میں، اگر پارلیمنٹ ایک ایسا قانون منظور کرتی ہے جو صحافیوں کو ’’ناقابلِ ضمانت تحفظ‘‘ فراہم کرتا ہے، تو یہ صرف ایک قانون نہیں بلکہ ریاست کا اخلاقی اور اصلاحی وعدہ تحفظ بھی ہے۔
قانون کی شقیں: زبان درازی اور تشدد، اب ناقابلِ ضمانت جرم
جرنلسٹ پروٹیکشن بل کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ:
صحافی پر زبانی حملہ، گالم گلوچ، دھمکی یا جسمانی تشدد ناقابلِ ضمانت جرم تصور ہو گا۔
صحافی سے اس کے ذرائع ظاہر کروانے کے لیے دباؤ ڈالنا بھی ایک قانونی جرم ہو گا۔اگر کوئی شخص یا ادارہ کسی صحافی کو اس کے فرائض انجام دینے سے روکے یا ڈرائے دھمکائے، تو اس کے خلاف باقاعدہ کارروائی ہو گی۔یہ شقیں صرف تحریر نہیں، بلکہ وہ دھات ہیں جس میں صحافیوں کے کمزور جسموں اور زخمی ضمیروں کے لیے ایک ڈھال تیار کی گئی ہے۔
قانون سے پہلے کا منظرنامہ: کفر تو برداشت ہو سکتا ہے، سچ نہیں!
کبھی آپ نے غور کیا کہ صحافیوں پر سب سے زیادہ غصہ کب آتا ہے؟ جب وہ سچ بولتے ہیں کیونکہ سچ طاقتوروں کے محل کو لرزا دیتا ہے۔ یہ سچ کبھی زمین پر قبضے کی کہانی میں ہوتا ہے، کبھی جعلی ترقیاتی منصوبوں کی فائلوں میں، کبھی اقربا پروری اور فنڈز کی خرد برد میں، تو کبھی اس اندھیر نگری میں جہاں وردی، چادر اور چاردیواری سب ایک جملے سے لرزنے لگتے ہیں۔ایسے میں صحافی اگر رپورٹ کرتا ہے، تو حقیقت کمزوروں کے دل کو طاقت دیتی ہے، اور طاقتور کے چہرے سے نقاب چھین لیتی ہے۔ یہی جرم ہے، جس کی پاداش میں صحافی کو ’’سبق سکھانے‘‘ کی روایت پنپتی رہی۔
آزادی صحافت: قانون سے آگے کی بات
قانون اپنی جگہ، لیکن صحافت کو صرف قانونی تحفظ سے محفوظ نہیں بنایا جا سکتا۔ اسے سماجی، ادارہ جاتی، اور اخلاقی تحفظ بھی درکار ہے۔میڈیا مالکان کی ذمے داری
مالکان کو چاہیے کہ وہ اپنے رپورٹرز اور نمائندوں کے لیے تربیت، قانونی معاونت اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں۔ اکثر رپورٹرز میدان میں اکیلے ہوتے ہیں اور ادارے صرف اشتہاروں اور ریٹنگ کی فکر کرتے ہیں۔صحافتی تنظیموں کی فعالیت بھی ضروری ہے۔یونینز کو اب مذمتی بیانات سے آگے بڑھ کر، عملی تعاون، قانونی امداد، اور صحافیوں کی مستقل فلاح پر توجہ دینی چاہیے۔عوامی شعور کی بیداری
ایک صحافی اگر سچ لکھتا ہے، تو وہ صرف اپنے لیے نہیں، آپ کے لیے لکھتا ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ سچ بولنے والوں کے ساتھ کھڑے ہوں، انہیں ’’لفافہ‘‘، ’’ایجنٹ‘‘ اور ’’غدار‘‘ کہنے کی بجائے ان کا تحفظ کریں۔
نکتہ چینی، تنقید اور دھمکی میں فرق
ہمیں بطور معاشرہ یہ سمجھنا ہو گا کہ تنقید صحافت کا حسن ہے، اور نکتہ چینی ایک رائے کا اظہار۔ لیکن:دھمکی، چاہے زبانی ہو یا جسمانی، اظہار رائے نہیں، دہشت گردی ہے۔صحافی کو خبر دینے سے روکنا، رپورٹ حذف کروانا، یا دباؤ ڈالنا ایک جمہوری جرم ہے اور سب سے بڑھ کر، ذرائع ظاہر کرنے پر مجبور کرنا، دراصل آزادی صحافت کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔
قانون کی حیثیت: پہلا قدم یا منزل؟
بلاشبہ، جرنلسٹ پروٹیکشن بل ایک اہم پیش رفت ہے، لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ منزل نہیں، صرف پہلا قدم ہے۔ اس قانون کو مؤثر بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:
عمل درآمد کا موثر میکنزم
صرف قانون بنانا کافی نہیں، اس پر عمل کرانا اصل کامیابی ہے۔ پولیس کو ہدایت دی جائے کہ وہ شکایات پر فوری کارروائی کرے۔
فوری شکایتی نظام
ہر صحافتی ادارے یا شہر میں ایک جرنلسٹ پروٹیکشن سیل قائم کیا جائے، جہاں صحافی براہِ راست رجوع کر سکیں۔
قانونی معاونت کی فراہمیہر ضلع میں صحافیوں کے لیے وکیلوں کی ایک فہرست ہو جو مفت قانونی امداد فراہم کرے۔
جعلی صحافیوں کی چھان بین
اس قانون کا ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جائے۔ جھوٹے دعویداروں کو بے نقاب کرنا بھی ضروری ہے، تاکہ حقیقی صحافی کی حرمت محفوظ رہے۔یہ قانون اس صحافی کے لیے ایک ڈھال ہے جو ویرانے میں کھڑے ہو کر سچ بولتا ہے۔ یہ اس کی امید ہے جو کیمرے کے پیچھے چھپ کر ظلم کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہ اس کی دعا کا جواب ہے جو مار کھانے کے بعد بھی اگلے دن خبر فائل کرتا ہے۔مگر قانون کے الفاظ تب ہی مؤثر ہوں گے جب:
قلم سے ڈرنے والے بندوق نہ اٹھائیں۔اقتدار کی کرسیوں سے سچ کو جرم نہ سمجھا جائے۔
اور عوام صحافت کو سازش نہیں، خدمت سمجھیں۔یہ قانون صرف صحافیوں کا نہیں، یہ آپ کا ہے، ہمارا ہے۔ کیونکہ اگر آج صحافی آزاد ہے تو کل آپ کی آواز بھی آزاد رہے گی۔قلم کے دشمنوں کو ایک پیغام:قلم صرف ایک صحافی کو خاموش کر سکتے ہو، سچ کو نہیں کیونکہ سچ ہمیشہ قلم کی نوک پر زندہ رہتا ہے۔ پاکستان بھر کے تمام جینئن شعبہ صحافت کے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا میں متحرک صحافیوں کو بہت بہت مبارک ہو۔
Latest Posts
