عبدالرؤف ملک (کمالیہ)
سقوطِ بغداد اسلامی تاریخ کا ایک ایسا سیاہ ترین سانحہ تھا جس نے آج تک مسلمانوں کو دوبارہ اپنے پاؤں پہ کھڑا نہیں ہونے دیا۔ یہ بدترین سانحہ اس وقت پیش آیا جب ایوانوں میں یہ فضول بحث جاری تھی کہ ”کوا حلال ہے یا حرام“ اور پھر تاریخ گواہ ہے کہ ہلاکو خان ایک مہلک سیلاب کی طرح آیا اور بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجاکر رکھ دی اور مسلمانوں کو سنبھلنے کی مہلت بھی نہیں ملی۔ آج بھی صورتحال اس سے مختلف نہیں ہے پاکستان کے ایوانوں میں ہماری اشرافیہ عوام الناس کے مسائل سے بے خبر اقتدار کی جنگ میں ایک دوسرے کی کردار کشی میں الجھی ہوئی ہے۔ غریب عوام بھوک اور مسائل کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ مسائل ہیں کہ بجائے کم ہونے کے بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ ہاؤس ہولڈ سروے 2019 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 107 ملین افراد غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں جو کہ ملک کی کل آبادی کا تقریباً 45 فیصد بنتا ہے۔ غربت کی یہ شرح انتہائی خطرناک ہے۔ پاکستان میں بجلی، غربت، بھوک، بیماریاں اور دوسرے مسائل کی طرح بارش، برسات اور سیلاب بھی ایک بڑا اور جان لیوا مسئلہ ہے۔ جب بھی برسات کا موسم آتا ہے دریاؤں اور نالوں میں طغیانی آجاتی ہے۔ حکومتی اداروں کا کام صرف یہ رہ جاتا ہے کہ تمام شہروں میں الرٹ جاری کردیا گیا ہے دریاؤں اور نالوں کے قریبی دیہاتوں یا شہروں کو خالی کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ ہر سال برسات کی وجہ سے سینکڑوں لوگ سیلاب کی نذر ہوجاتے ہیں اور درجنوں دیہات صفحہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں۔ جس کی تازہ مثال دریائے سوات میں آنے والی حالیہ طغیانی ہے جس کی زد میں آکر جان بحق ہونے والے درجنوں افراد کی موت ہمارے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ وہ بارش جو زندگی کا استعارہ اور رحمتِ خداوندی کا اشارہ ہے ہمارے یہاں ناقص انتظامات اور غیرذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے موت اور دہشت کا نشاں بن چکی ہے۔ دنیا کی دوسری قومیں جب آسمان پر بادل دیکھتی ہیں تو خدا کا شکر ادا کرتی ہیں اور بارش کےلیے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتی ہیں اور جب بارش برستی ہے تو اس کا ایک ایک قطرہ سنبھال کے ذخیرہ کرتی ہیں اور اپنی زندگی اور معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہیں۔ لیکن پاکستان میں جیسے ہی آسمان پر بادلوں کی گرج سنائی دیتی ہے دل خوف سے دھڑکنے لگتا ہے اور دل میں یہ خواہش جنم لینے لگتی ہے کہ بارش نہ ہی ہو تو اچھا ہے کیونکہ اس سے دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی آجاتی ہے۔ برسات میں صرف دریاؤں کے قریب رہنے والوں کے ہی نہیں شہروں اور بالخصوص کچی آبادیوں میں رہنے والوں کے بھی ہاتھ پاؤں پھولنے لگتے ہیں کیونکہ بارش اگر مسلسل ایک دن برستی رہے شہروں کی گلیاں نہروں اور دریاؤں کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں۔ اس ناگہانی آفت کے سب سے زیادہ شکار وہ غریب عوام ہیں جو پہلے ہی بڑی مشکل سے زندگی کی گاڑی کو دھکیل رہے ہوتے ہیں۔ اس برسات اور سیلاب سے کبھی ان کے گھر کی چھت گرجاتی ہے تو کبھی دیوار اور کبھی کبھی تو پورا گھر ہی بارش کی نذر ہوجاتا ہے اور وہ بے بسی سے اپنی کل کائنات کو پانی میں بہتا دیکھ کر اپنی خواہشوں کا گلا گھونٹ لیتے ہیں۔ سیلاب اور عوام کی یہ صورت حال ہمارے اداروں اور اربابِ اختیار کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے کہ وہ ادارے اور اربابِ اختیار جو دہائیوں سے اقتدار پر قابض ہیں جنہوں نے نسل در نسل حکمرانی کی اور اقتدار و اختیارات لے کر اس ملک اور اس کی عوام کےلیے اور اس بارش کے لیے کیا اقدامات کیے؟ سوائے اس جملے کے ”صورت حال کا نوٹس لے لیا گیا ہے اور اداروں کو الرٹ جاری کردیا گیا ہے“ حقیقت تو یہ ہے کہ آج 78 برس گزرنے کے باوجود پاکستان وہیں کا وہیں کھڑا ہے۔ ہمارے ارباب اختیار نے بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے نہ تو ڈیم بنائے، نہ نکاسی آب کا کوئی مؤثر نظام قائم کیا اور نہ ہی پانی کو ذخیرہ کرنے کےلیے کوئی مناسب منصوبہ بندی کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ برسات کے موسم میں تو پانی ہم سے سنبھالا نہیں جاتا بلکہ تباہی کا باعث بنتا ہے اور سال کے باقی دنوں میں پورا ملک پانی کی شدید قلت کا شکار ہوجاتا ہے جس سے زمینیں بنجر ہورہی ہیں اور کثرت سے ٹیوب ویل لگائے جانے کی وجہ سے زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل نیچے ہورہی ہے جو کہ انتہائی خطرناک اور مستقبل میں خشک سالی کا پیشِ خیمہ ہوسکتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کب تک ہمارے ادارے صرف نوٹس لے کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتے رہیں گے اور پاکستان کے مستقبل سے کھیلتے رہیں گے۔ قوم یوں ہی ڈوبتی اور مرتی رہے گی اور اپنی کل جمع پونجی کو سیلاب میں بہتا دیکھ کر کب تک آنسو بہاتی رہے گی۔ اب وقت ہے کہ اپنی سابقہ کوتاہیوں اور غلطیوں کا ازالہ کیا جائے اور برسات اور سیلاب سے نپٹنے اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کرکے اس سے اپنی زمینوں کو سیراب کرنے کی مؤثر منصوبہ بندی کی جائے۔ یاد رکھیں کہ ادارے صرف نوٹس لینے یا الرٹ جاری کرنے کے لیے نہیں بنائے گئے بلکہ عملی انتظامات، مؤثر اقدامات، عوام کی خدمت اور ریاست کے عروج کے لیے بنائے گئے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ گزشتہ سالوں کی طرح آئندہ بھی غریب عوام بادلوں کو دیکھ کر بارش نہ ہونے کی دعا مانگتی رہے اور ہماری اور ہمارے اداروں کی بےحسی اور پانی جیسی نعمت کی بےقدری دیکھ کر رحمتِ خداوندی ہم سے روٹھ جائے اور خدانخواستہ ہم پانی کی بوند بوند کو ترس جائیں۔خدارا! آنکھیں کھولیے اپنے لیے نہیں تو کم ازکم آنےوالی نسلوں اور اس وطن کی سالمیت کےلیے دوراندیشی سے کام لیجیے۔ جن لغزشوں اور کوتاہیوں کا ارتکاب ہم سے ہوچکا ہے اگر ہم نے ان سے سبق نہ سیکھا اور اس کا مناسب تدارک نہ کیا تو پھر یہ کوتاہیاں اور لغزشیں ناقابلِ تلافی جرم بن جائیں گی۔ اگر جنابِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی سلطنت میں پیاس سے مرنے والے کتے کی بابت پریشان ہوسکتے ہیں تو کیا سیلاب کی نذر ہونے والے بے گناہوں کا خون ہمارے حکمرانوں کی گردن پہ نہیں ہوگا؟ آخر کب تک ہم ان آفات کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے ساتھ منسوب کرکے اپنی کوتاہیوں کی پردہ پوشی کرتے رہیں گے؟ مالکِ کون و مکاں سے دعا ہے کہ وہ سیلاب متاثرین کی مدد فرمائے اور آزمائش کی اس گھڑی میں ہمیں ثابت قدم رکھے۔ ہمیں اور ہمارے اربابِ اختیار کو ماضی سے سبق سیکھ کر اپنی کوتاہیاں دور کرنے اور اقتدار و اختیارات کو عوام اور اس پاک وطن کی فلاح و بہبود کےلیے استعمال کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین!
Latest Posts
