انسانی رویّے

سیّد اصغر مشال
ایک دفعہ باتوں ہی باتوں میں مٙیں نے کہا فرد کو ججمنٹل نہیں ہونا چاہیے ۔ میرے دونوں دوست بیک زبان ہو کر تیز لہجے اور اونچی آواز میں بولے، ” کیوں نہیں ہونا چاہیے؟“
ان کے لہجے میں سوال نہیں قطعیت تھی جیسے فیصلہ سنا رہے ہوں کہ آپ غلط ہیں۔ میں چھینپ کر خاموش ہو گیا۔
جب کوئی حتمی انداز میں بات کرتا ہے تو دراصل وہ گفتگو کا راستہ بند کر رہا ہوتا ہے حالانکہ جہاں اختلافِ رائے سامنے آ رہا ہو وہاں بات چیت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے لیکن کچھ لوگوں کو اپنے علم، تجربے اور ذہانت پر اتنا ناز ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کی باتوں کو سمجھنے کی بجائے تمسخرانہ انداز میں اسے رد کر دیتے ہیں۔ وہ کسی کے پاؤں میں پاؤں رکھ کر حقائق جاننے کے بجائے ذاتی تعصب کی بنیاد پر فیصلہ صادر کر دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک ہر دوسرا فرد ولن ہوتا ہے اور وہ خود ہیرو۔ وہ دوسروں کو نیچا دکھانے اور اپنی برتری ثابت کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور جب یہ ایسا کر چکتے ہیں تو ان کا بے ساختہ بلند بانگ طنزیہ قہقہہ سننا بھی بڑا دل گردے کا کام ہوتا ہے۔ وہ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ ان کا تعصب اور انا انہیں “یہ کیا ہے” کے دائرے تک محدود کر رہی ہے اور اسے روک رہی ہے کہ وہ اس دائرے سے نکل کر “یہ ایسے کیسے ہوا جیسےکہ یہ اب ہے” کے دائرے میں داخل ہو۔ یہی وہ دائرہ ہے جو ان کے سامنے علم کےطلسم ہوشربا کا دروازہ کھول سکتا ہے جہاں حیرت و استعجاب ان کا انتظار رہا ہوتا ہے لیکن ان کا احساس تفاخر ان کو کبھی اس دروازے پر دستک دینے کے قابل نہیں ہونے دیتا۔
انسانی نفسیات کائنات کا پیچیدہ ترین مظہر ہے اور یہ ہر انسان کے ساتھ مختلف انداز میں تعامل کرتی ہے اس لیے اپنے تجربات کی بنیاد پرافراد کے بارے میں رائے قائم کرنا ان کو اپنی پرسیپشن کی بھینٹ چڑھانے کے مترادف ہوتا ہے۔
اس میں کچھ شک نہیں کہ زندگی میں تجربات بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں لیکن انسانی نفسیات کے حوالے سے یہ قطعی اور حتمی نہیں ہیں۔ اس لیے کسی انسان کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لیے ممکنات کا جائزہ لینا زیادہ موزوں ہے کیونکہ انسانی رویوں کی دنیا بہت عجیب ہے۔ فرد بہت زیادہ منفی رویے رکھنے کے باوجود بھی مثبت ہو سکتا ہے۔ وہ حاسد ہو سکتا ہے، وہ منافرت رکھ سکتا ہے، وہ نا انصافی کر سکتا ہے، وہ غلط ہو سکتا ہے، اس میں اور بھی کئی خامیاں ہو سکتی ہیں لیکن پھر بھی اس کے تبدیل ہونے کے چانسز موجود ہوتے ہیں اس لیے اسے رد نہیں کیا جا سکتا۔ وہ لائقِ محبت ہے۔ اس کے ساتھ معاملہ کرنے کے بیسیوں طریقوں کو کام میں لایا جا سکتا ہے۔ لیکن دل کے کسی دور دراز گوشے میں بھی محبت میں کمی نہیں آنی چاہیے۔
فطرت خواہ کائناتی ہو یا سماجی، فرد اس کے جتنا زیادہ قریب جاتا ہے، اس کو جتنا زیادہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، یہ اتنا ہی خود کو اس پر عیاں کرتی جاتی ہے۔ کرے بھی کیوں نہ کہ اس کی سرشت میں ذوقِ عریانی رکھ دی گئی ہے۔ ہماری آنکھ بس دیکھنے کے قابل ہونی چاہیے۔ یہاں انفرادی شعور جونہی ایک قدم آگے بڑھتا ہے فطری صداقت بھی نیاز مندی سے اپنا دوسرا رخ سامنے کر دیتی ہے۔ لیکن جب آنکھوں پر تعصب اور تکبر کا پردہ چڑھا ہو تو پھر لطافت تو کیا آنکھوں کو خیرہ کر دینے والا کثافت کا جلوہ بھی اسے نظروں سے اوجھل ہی رکھتا ہے۔ فطرت تو فطرت ہے۔ یہ اچھی ہوتی ہے نہ بُری۔ یہ تو ہمارا سوچنے کا ڈھنگ ہے جو اس کو ایسا بناتا ہے۔ شیکسپئر نے کیا خوب کہا ہے “قدرت نے کائنات میں کوئی بھی چیز نقصان دہ پیدا نہیں کی۔ جب ہم اشیاء کی ماہئیت کو درست طور پر نہیں سمجھ پاتے تو وہ ضرر رساں ہو جاتی ہیں” یہاں تک کہ اس کی فارمیشن کو سمجھنے سے سائنائیڈ جیسا مہلک زہر بھی حیات بخش تریاق بن جاتا ہے۔ انسانی روپے بھی اسی طرح ہیں۔ جب ہم ان کو سمجھنے لگتے ہیں تو کڑوے کسیلے لہجے بھی مسکرانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ فطرت سے قریب ہونے کا صرف یہی مطلب نہیں کہ آپ دور دراز علاقوں میں کسی جنگل، پہاڑ، ندی یا وائلڈ لائف کے مشاہدے کے لیے نکل جائیں بلکہ یہ بھی ہے کہ آپ اپنے اندر اور اردگرد کو سمجھنے کرنے کی کوشش کریں۔ یہ لرننگ آپ کو اتنا کچھ دے گی کہ آپ سیر ہو جائیں گے۔بقول غالب
بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow