صِبغَۃُ اللّٰہ

از قلم :- ذیشان افضل (لاہور)
ہر دور میں انسان اپنی شناخت کے لیے کسی نہ کسی علامت کو اپناتا آیا ہے۔ کبھی قبیلے کا جھنڈا، کبھی مذہب کا شعار، کبھی لباس، کبھی زبان اور کبھی رنگ۔مگر کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ سب سے پائیدار، سب سے معتبراور سب سے باوقار شناخت کون سی ہے؟
قرآن مجید میں اللہ ارشاد فرماتاہے:
”اللہ کا رنگ اور اس سے بہتر رنگ کس کا ہو سکتا ہے؟“
(سورہ بقرہ: 138)
یہ آیت ایک اعلان ہے بھی اور ایک دعوت بھی ہے کہ اللہ کا رنگ صرف چند عبادات یا ظاہری اعمال کا نام نہیں بلکہ یہ وہ روحانی لباس ہے جو انسان کو اندر سے بدل دیتا ہے۔
یہ رنگ علم و عمل کے درمیان ایک ربط قائم کرتا ہے۔ یہ رنگ ظاہر و باطن کو ہم آہنگ کرتا ہے۔یہ وہ رنگ ہے جو دل میں تقویٰ، عمل میں اخلاص، زبان میں سچائی اور آنکھ میں حیا پیدا کرتا ہے۔جب بندہ اللہ کے رنگ میں رنگ جاتا ہے تو وہ ہر شے کو اللہ کے زاویے سے دیکھنے لگتا ہے۔پھر محبت بھی اللہ کے لیے ہوتی ہے،نفرت بھی اللہ کے لیے۔خاموش رہتا ہے تو بھی صرف اللہ کی رضا کے لیے،ایسا شخص دنیا میں رہ کر دنیا سے اوپر ہوتا ہے۔ نہ شہرت اس کو بہکاتی ہے۔نہ دولت اس کو گراتی ہے اور نہ تعریف میں وہ اتراتا ہے۔آج ہم ظاہری رنگوں میں الجھ چکے ہیں برانڈز، فیشن، رجحانات اور اسٹائل مگر ہمارے اندر کا رنگ پھیکا پڑتا جا رہا ہے۔ہماری روح بے رنگ ہو چکی ہےکیونکہ اس نے ضبغتہ اللہ سے تعلق توڑ دیا ہے۔”اللہ کا رنگ“ صرف نماز پڑھنے والا نہیں ہوتا
بلکہ وہ ہوتا ہےجو نماز کو اپنی زندگی کی دھڑکن بنا لے۔وہ صرف قرآن پڑھنے والا نہیں ہوتا
بلکہ وہ ہوتا ہے جو قرآن کو اپنی راہ کا چراغ بنا لے۔وہ صرف روزہ رکھنے والا نہیں ہوتا
بلکہ وہ ہوتا یے جو نفس کو قابو میں رکھ لے۔یہی ہے اللہ کا رنگ ہے جو روح کو زندگی دیتا ہے اور زندگی کو مقصد دیتا ہے۔
آئیے آج عہد کریں کہ ہم ظاہری شناخت سے آگے بڑھ کر روحانی شناخت کے طلب گار ہوں۔ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں اپنے رنگ میں رنگ دے وہ رنگ جو کبھی مدھم نہ پڑے، جو دنیا میں وقار دے اور آخرت میں بھی نجات دے۔آمین!

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow