تحریر: واجد علی تونسوی
دنیا میں بے شمار مزاج کے لوگ بستے ہیں۔ ہر شخص کی سوچ، جذبات، اندازِ گفتگو اور برداشت کی سطح مختلف ہوتی ہے۔ یہ لازمی نہیں کہ ہر کوئی آپ سے اتفاق کرے یا آپ کی باتوں اور احساسات کو ویسے ہی سمجھے جیسے آپ چاہتے ہیں۔ اپنے دل کی بات دوسرے تک ٹھیک طریقے سے پہنچانا اور دوسرے کی بات کو صحیح معنوں میں سمجھنا، یہ انسان کےلیے سب سے بڑا چیلنج ہوتا ہے۔اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہم کچھ کہہ جاتے ہیں جو سامنے والے کے مزاج کے خلاف ہوتا ہے یا وہ ہماری نیت کو غلط سمجھ بیٹھتا ہے اور کبھی خود ہم بھی انجانے میں یا نادانستہ کسی کی بات کا غلط مطلب لے لیتے ہیں۔ نتیجہ؟ بات ناراضگی، دل آزاری یا رنجش تک جا پہنچتی ہے۔ لیکن اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب قصور آپ کا نہ ہو، تب بھی آپ کو معاملے کو بڑھانے کے بجائے سنبھالنے کی ذمہ داری لینی پڑتی ہے، کیونکہ جو شخص صلح کے لیے پہل کرتا ہے، وہی اصل میں بڑا ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص آپ سے ناراض ہے، تو پہلے پہل اسے پیار اور نرمی سے سمجھانے کی کوشش کریں۔ اگر وہ نہ سمجھے، تب بھی عاجزی کا مظاہرہ کریں۔ بعض اوقات ایک معذرت، چاہے بے قصوری کے باوجود ہو، دلوں کے بند دروازے کھول دیتی ہے۔
تاہم کچھ لوگ ایسے ضدی اور سخت مزاج ہوتے ہیں کہ وہ نہ سننے کو تیار ہوتے ہیں، نہ معاف کرنے کو۔ ایسے وقت میں انسان بس خاموش ہو کر ایک طرف ہٹ جائے اور اس کے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرے، کیونکہ جب انسان عاجز ہو کر کسی کے لیے دل سے دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ خود اس کے دل میں نرمی ڈال دیتے ہیں، سچائی دکھا دیتے ہیں اور دل میں ندامت کا بیج بو دیتے ہیں۔
ایسا ہی ایک واقعہ میرے ساتھ بھی چند ماہ قبل پیش آیا۔میرے قریبی دوست حبیب کو کسی بات میں مجھ سے سخت غلط فہمی ہو گئی۔ میں نے بار بار اسے سمجھانے کی کوشش کی، لیکن وہ نہ صرف بات سمجھنے سے انکار کرتا رہا، بلکہ اس کا رویہ بھی میرے لیے تکلیف دہ بنتا گیا۔ یہاں تک کہ اس نے مجھ سے مکمل طور پر بات چیت ختم کر دی۔ یہ ایک مشکل وقت تھا، مگر میں نے اپنے غصے اور دکھ کو اللہ کے سپرد کر دیا اور اس کے لیے خلوصِ دل سے دعا کرتا رہا۔
چند مہینوں کے بعد ایک دن اچانک اس کا پیغام آیا:
”میں آپ سے دل سے معافی مانگتا ہوں، معاف کر دیجیے۔“
یہ وہ لمحہ تھا جب میرے دل میں بہت کچھ تھا، تکلیف، رنج، صدمہ. مگر میں نے سب اللہ کے لیے چھوڑ دیا اور اسے معاف کر دیا۔
یقین جانیں، معاف کرنا بظاہر آسان نظر آتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ دل کی وسعت، ظرف اور ایمان کی پختگی کا امتحان ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں اور ان کے دلوں سے غم، کدورت اور بے سکونی کے بوجھ کو ہٹا دیتے ہیں۔معاف کر دینا ایک عظیم عمل ہے، جب انسان دل سے معاف کرتا ہے تو اس کے اپنے اندر ایک سکون اترتا ہے۔ وہ بوجھ جو دل پر سالوں سے تھا، لمحوں میں ہلکا ہو جاتا ہے اور اگر ہم دل میں رنجش رکھیں، تو وہ صرف ہمیں اندر سے جلاتی رہتی ہے، خاص طور پر تب، جب وہی شخص روز آپ کے سامنے ہو۔اس لیے اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا دل صاف ہو، ذہن ہلکا ہو اور اللہ آپ سے راضی ہو تو معاف کرنا سیکھیں۔ یہی وہ عمل ہے جو نہ صرف آپ کو دنیا میں عزت دیتا ہے، بلکہ آخرت میں بھی اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ بنتا ہے۔
Latest Posts
