بچوں میں مطالعہ کا شوق کیسے پیدا کریں؟

از قلم: ذیشان افضل
مطالعہ کا شوق انسان کی شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے اگر یہ شوق بچپن ہی سے پیدا ہو جائے تو بچے کی ذہنی، فکری اور اخلاقی نشوونما ایک مثبت سمت میں ہونے لگتی ہے۔ بچوں کو مطالعہ کی طرف مائل کرنا کوئی آسان کام نہیں لیکن ایسا بھی کوئی مشکل مرحلہ نہیں جو طے نہ ہو سکے۔ والدین، اساتذہ، معاشرہ اور تعلیمی نظام اپنی ذمہ داریاں بخوبی ادا کریں تو ہر بچہ کتابوں سے محبت کرنے لگتا ہے۔مطالعہ کا شوق فطری بھی ہوتا ہے اور سیکھا بھی جا سکتا ہے۔ بعض بچے قدرتی طور پر کتابوں سے لگاؤ رکھتے ہیں۔ وہ تصویری کتابوں سے لے کر کہانیوں اور ناولوں تک ہر تحریر کو دل چسپی سے پڑھتے ہیں لیکن اکثر بچوں میں یہ رجحان پیدا کرنا پڑتا ہے۔ والدین اور اساتذہ اگر چند بنیادی نکات کو مدنظر رکھیں تو بچوں کو کتاب دوست بنایا جا سکتا ہے۔
بچوں کی عمر کے ابتدائی سال بہت اہم ہوتے ہیں۔ اس عمر میں ان کے دل و دماغ ایک کورے کاغذ کی مانند ہوتے ہیں۔ جو چیزیں وہ دیکھتے، سنتے یا محسوس کرتے ہیں وہ ان کے ذہن پر گہرے نقوش چھوڑتی ہیں۔ لہٰذا اگر اس عمر میں ان کے سامنے کتاب کو دل چسپ اور خوش گوار شے کے طور پر پیش کیا جائے تو ان کے دل میں مطالعہ کے لیے محبت پیدا کی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے ضروری ہے کہ والدین خود کتاب سے محبت کریں۔بچے اپنے ماں باپ کی حرکات و سکنات کی نقل کرتے ہیں۔ اگر وہ دیکھتے ہیں کہ ان کے والد یا والدہ روزانہ کچھ وقت مطالعے میں گزارتے ہیں اور کتاب کو اہمیت دیتے ہیں۔اس کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں تو بچہ لاشعوری طور پر کتاب سے مانوس ہونے لگتا ہے۔بچوں کے ساتھ وقت گزارنا ان کی تربیت کا بہترین ذریعہ ہے۔ والدین اگر اپنے بچوں کو سونے سے پہلے روزانہ کہانیاں سنائیں یا انہیں تصویری کتابوں سے کہانیاں دکھائیں تو یہ عمل ان میں کتاب کی طرف رغبت پیدا کرے گا۔ اگر بچہ خود سے کہانی سنانے کی کوشش کرے یا کتاب میں موجود تصویر کو بیان کرے تو اس کی حوصلہ افزائی کی جائے۔بچوں کی پسند اور عمر کے مطابق کتابوں کا انتخاب بھی بہت اہم ہے۔ بعض والدین یا اساتذہ بچوں کو نصیحت آموز یا بھاری بھرکم موضوعات کی کتابیں دینے کی کوشش کرتے ہیں جو بچوں کو بور کر دیتی ہیں۔ بچوں کے لیے ابتدائی طور پر ایسی کتابیں منتخب کی جائیں جو رنگ برنگی تصویروں سے مزین ہوں جن کی زبان آسان ہو، کہانی مختصر ہو اور کردار دل چسپ ہوں۔ اگر کہانی میں مزاح ہو، جادو ہو، مہم جوئی ہو یا کوئی جانور مرکزی کردار ہو تو بچہ اسے زیادہ پسند کرتا ہےموجودہ دور میں بچوں کے مطالعہ کا ذوق بڑھانے میں لائبریریوں اور سکول کا کردار بھی اہم ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں زیادہ تر سکولوں میں کتب خانہ ہوتا ہے اور نہ کسی طرح کا کتب بینی کو فروغ دیا جاتا ہے۔ اگر اسکول میں ہفتے میں ایک دن کتب بینی کے لیے مختص کر دیا جائے بچوں کو اپنی پسند کی کتاب پڑھنے دی جائے اور پھر اس پر مختصر گفتگو کی جائے تو بچے نہ صرف مطالعہ کی طرف مائل ہوں گے بلکہ ان کی گفتگو اور تخلیقی صلاحیتیں بھی بڑھیں گی۔بچوں میں مطالعہ کا شوق پیدا کرنے کے لیے مقابلے بھی ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ جیسے کہ کہانی سنانے کا مقابلہ، تصویری کتاب پر تبصرہ یا کتاب سے متعلق کوئی کھیل۔ جب بچے دیکھتے ہیں کہ مطالعہ صرف ایک اکیلا عمل نہیں بلکہ اس سے دوسروں کے ساتھ بات چیت، اظہار اور تعریف بھی جڑی ہوئی ہے تو وہ خود کو اس کا حصہ بنانے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ڈیجیٹل دور میں جہاں موبائل، ٹی وی اور کمپیوٹر نے بچوں کی توجہ بٹانے کے ہزاروں راستے نکال لیے ہیں وہاں مطالعہ کی عادت ایک چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ لیکن یہ چیلنج ناقابل تسخیر نہیں۔ اگر والدین بچوں کے اسکرین ٹائم کو محدود کریں اور متبادل کے طور پر دل چسپ کتابیں مہیا کریں تو آہستہ آہستہ بچہ کتاب کی طرف متوجہ ہو سکتا ہے۔کہانی سنانے کی محفلیں یا بک کلب بھی بچوں کے لیے بہت مفید ہو سکتے ہیں۔ اگر ہر محلے، سکول یا کتب خانے میں ہفتہ وار کہانی سنانے کا اہتمام کیا جائے جہاں بچے اپنی سنی یا پڑھی گئی کہانی سنائیں یا اپنی لکھی ہوئی کہانی دوسروں کے سامنے پیش کریں تو نہ صرف ان میں مطالعہ کا شوق پیدا ہوگا بلکہ ان کی تخلیقی اور سماجی صلاحیتیں بھی نکھریں گی۔
والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں کے لیے کتاب کو انعام کی علامت بنائیں، سزا کا ذریعہ نہیں۔ اگر بچہ اچھا کام کرے، وقت پر ہوم ورک مکمل کرے یا کسی اچھی عادت کا مظاہرہ کرے تو اسے کتاب تحفے میں دی جائے۔ اس کے برعکس اگر بچے کو بطور سزا پڑھنے پر مجبور کیا جائےیا نصابی کتابوں کا بوجھ اس پر ڈال دیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بچہ کتاب سے دور ہو جائے گا۔اکثر والدین یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ ہمارا بچہ پڑھتا نہیں یا اس کا دھیان موبائل اور کارٹون میں لگا رہتا ہے۔ اگر والدین روزانہ صرف 15 سے 20 منٹ بچوں کے ساتھ بیٹھ کر مطالعہ کریں کتاب پر بات کریں ان کے سوالات کے جواب دیں تو بچے میں مطالعہ کا رجحان خود بہ خود پیدا ہونے لگے گا۔بچوں کی دل چسپی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ مطالعہ کو بوجھ نہ بنایا جائے بلکہ تفریح کا ذریعہ بنایا جائے۔ بچوں کو کتاب کے ذریعے دنیا کی سیر کروائی جائے، مختلف تہذیبوں، اقوام، کہانیوں، جانوروں، پھولوں، پرندوں، جادوئی دنیا، خلا اور سمندر کی گہرائیوں سے روشناس کروایا جائے۔ یہ سب کچھ صرف کہانیوں کے ذریعے ممکن ہے۔کتابیں صرف تعلیم کا ذریعہ نہیں بلکہ کردار سازی اور تخیل کی پرواز کا زینہ بھی ہوتی ہیں۔ وہ بچے جو مطالعہ کرتے ہیں وہ الفاظ کے ذخیرے میں، انداز بیان میں، سوچنے کی گہرائی میں اور دنیا کو سمجھنے میں عام بچوں سے آگے ہوتے ہیں۔مطالعہ کا شوق پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بچوں کو کتابوں کی قدر سکھائی جائے۔ اگر والدین اور اساتذہ کتاب کو عزت دیں گے اس کی حفاظت کریں گے اسے ضائع نہیں ہونے دیں گے تو بچہ بھی سیکھے گا کہ کتاب ایک قیمتی شے ہے۔
بچوں کو کتاب میلے میں لے جانا بھی بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ وہاں بچے مختلف کتابیں دیکھتے ہیں، خریدتے ہیں بعض اوقات مصنفین سے ملتے ہیں اور کتاب کی دنیا کو قریب سے دیکھتے ہیں۔ یہ تجربہ ان کے ذہن میں کتاب سے متعلق ایک مثبت تصور پیدا کرتا ہے۔
مطالعہ کو بچوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنایا جائے۔جیسے سونے سے پہلے کہانی، کھانے کے دوران دلچسپ معلومات، چھٹی کے دن کتاب پڑھنا، یا کسی سفر کے دوران مختصر کتاب کا مطالعہ۔ اس طرح بچہ مطالعہ کو ایک قدرتی عمل سمجھنے لگے گا نہ کہ کوئی بوجھ یا فرض۔
بچوں کو مختلف موضوعات سے متعلق کتب پڑھنے دی جائیں۔ بعض بچے جانوروں کی کہانیاں پسند کرتے ہیں، بعض کو جادوئی دنیا اچھی لگتی ہے، بعض کو تاریخی کردار متاثر کرتے ہیں اور بعض کو لطیفے، پہیلیاں اور تصویری خاکے۔ بچوں کی دلچسپی کو جان کر ان کی پسند کی کتابیں مہیا کی جائیں۔اگر بچہ کسی کتاب کو مکمل کر لے تو اس کی تعریف کی جائے، اسے کوئی اعزاز دیا جائے یا اس کی پسند کی چیز دلائی جائے۔ اس طرح بچے کو لگے گا کہ اس کا عمل اہمیت رکھتا ہے۔
اساتذہ بھی اپنے سبق کے دوران کسی متعلقہ کہانی یا کتاب کا حوالہ دیں اور بچوں سے کہیں کہ وہ اس پر خود سے کچھ پڑھ کر آئیں۔ یہ عمل نہ صرف مطالعے کی عادت پیدا کرے گا بلکہ سبق میں دل چسپی بھی بڑھائے گا۔
بچوں کے لیے رسائل اور میگزین بھی نہایت مفید ہوتے ہیں۔اگر بچوں کے لیے کوئی مخصوص رسالہ ہر ماہ ان کے گھر آتا ہو، تو وہ شوق سے اس کا انتظار کرتے ہیں، تصویریں دیکھتے ہیں، کہانیاں پڑھتے ہیں، اور یہ عمل ان کے مطالعے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر رد کرنے کے بجائے اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔ بچوں کے لیے آڈیو بکس، انٹرایکٹو ای بکس اور ایپلیکیشنز جو مطالعے کو دلچسپ بنائیں ان سے مدد لی جا سکتی ہے۔بچوں میں مطالعہ کے شوق کو زندہ رکھنے کے لیے صبر، تسلسل اور حوصلہ افزائی ضروری ہے۔ کبھی کبھار بچے مطالعہ میں دلچسپی نہیں لیتے یا اکتاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں سختی کرنے کے بجائے نرمی اور دلچسپی سے انہیں دوبارہ مائل کیا جائے۔
بچوں میں مطالعہ کا ذوق پیدا کرنا دراصل ایک نسل کو فکری طور پر مضبوط اور خودمختار بنانے کا عمل ہے۔ یہ صرف فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا فائدہ ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے ذہنی، اخلاقی اور علمی اعتبار سے ترقی کریں تو ہمیں کتاب سے ان کا تعلق استوار کرنا ہوگا۔
کتاب دوستی صرف ایک شوق نہیں بلکہ ایک طرز زندگی ہے۔ جب تک کتابیں بچوں کی زندگی میں شامل نہیں ہوں گی، وہ ذہنی ترقی کے اس سفر میں پیچھے رہ جائیں گے۔ ہمیں آج ہی سے بچوں کو کتاب کی طرف لانے کے لیے اپنے عمل، ماحول اور رویوں کو بہتر بنانا ہوگا۔ تب ہی ہم ایک ایسا معاشرہ بنا سکیں گے جہاں ہر بچہ علم کی روشنی سے منور ہو۔

About daily pehchane

One comment

  1. الحمد لله

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow