حقیقت کا رستہ

از قلم: گوہر عباس گل
زندگی کبھی صرف سانس لینے کا نام نہیں تھی بلکہ ایک اصول، ایک رویہ، ایک طرزِ احساس تھی۔ حقیقت کا رستہ وہی تھا جو دل سے نکل کر ضمیر تک جاتا تھا اور وہاں سے عمل میں ڈھل کر معاشرے کا آئینہ بن جاتا تھا۔ کبھی سچائی بولنے کے لیے ہمت درکار تھی، اور جھوٹ بولنے پر شرمندگی۔ وہ دور بظاہر سادہ تھا، لیکن باطن میں سنہری اصولوں سے جگمگا رہا تھا۔پرانے زمانے کے لوگ اگرچہ ہماری نظر میں ایک محدود اور سادہ سی زندگی گزارتے تھے مگر درحقیقت وہ ہم سے کہیں بہتر اور باوقار زندگی بسر کرتے تھے۔ ان کی دنیا میں نہ لالچ کا شور تھا، نہ خود غرضی کا ہجوم۔ سچ بولنا، وعدہ نبھانا، بزرگوں کا ادب، اور چھوٹوں سے شفقت—یہ سب ان کی زندگی کا حصہ تھا، نہ کہ کسی نصاب کی بات۔ لوگ ایک دوسرے کی بات توجہ سے سنتے، سمجھتے اور سچائی کو اپنا شعار بناتے تھے۔ اختلاف رائے کو فساد نہیں سمجھا جاتا تھا۔ جھوٹ کے خلاف ان کے رویے اتنے سخت تھے کہ معاملات میں کبھی قسموں یا عدالتوں کی نوبت نہیں آتی تھی، بس ایک سچائی اور ایک وعدہ، جو سب سے مضبوط ضمانت ہوتی تھی۔ان دنوں وقت جیسے آہستہ چلتا تھا۔ ہر شخص دوسرے کے دکھ درد کا ساتھی اور ہر خوشی کا شریک تھا۔ غربت ضرور تھی، مگر دل میں چوری کا خیال نہ آتا تھا۔ لوگ کم وسائل میں بھی بھرپور زندگی گزارتے تھے۔ ڈاکو، لٹیرے، برے لوگ تب بھی ہوتے تھے، مگر خوف و ہراس کا یہ عالم نہ تھا کہ کوئی شخص اپنے ہی گھر میں غیر محفوظ محسوس کرے۔ آج تو لگتا ہے جیسے ہم نے اپنی تہذیب اور ثقافت کو کسی عجائب گھر میں رکھ چھوڑا ہو، جو صرف دکھاوے کے لیے باقی رہ گئی ہے، عمل سے محروم۔ہم نے اپنے درمیان اونچ نیچ، ذات پات اور دولت کے فرق کو خود ہی پیدا کیا ہے۔ پرانے رسم و رواج، جو اتحاد اور سادگی کی علامت تھے، اب وقت کی گرد میں دب کر کہیں کھو گئے ہیں۔ امیر طبقہ اپنے محلات میں خوشحال زندگی گزار رہا ہے اور ہم ان کی زندگیوں سے بے نیاز ہو کر صرف یہ چاہتے ہیں کہ اگر وہ واقعی اپنے مال و دولت سے محبت کرتے ہیں تو کم از کم بدعنوانی کو ختم کرنے کا فریضہ ادا کریں، تاکہ ملک سے غربت کا خاتمہ ہو اور معاشرے میں مساوات جنم لے۔آج تعلیم ہر بچے کا حق ہے مگر یہ حق صرف چند گھروں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ غریب کا بچہ محض اس لیے تعلیم سے محروم ہے کہ وہ بھوک سے لڑنے میں مصروف ہے۔ اسکول کا بستہ اس کے خواب میں ہوتا ہے، اور حقیقت میں اس کے ہاتھ میں اوزار یا بھاری بوجھ۔وہ بچے جو کھیلنے اور پڑھنے کے دنوں میں ہوتے ہیں، ورکشاپس،چائے کے ہوٹلوں یا اینٹوں کے بھٹوں پر مزدوری کر رہے ہوتے ہیں۔غربت دراصل ہر قوم کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اندر کے سوئے ہوئے ضمیر کو جگائیں۔ ہمیں سچائی، انصاف اور انسانیت کو اپنانا ہوگا۔ انسان کی پہچان اس کے لباس، رنگ یا زبان سے نہیں بلکہ اس کے کردار سے ہونی چاہیے۔ انسانیت ایک خزانہ ہے جو کسی خاص طبقے کی میراث نہیں بلکہ ہر دل میں موجود ہوتا ہے، صرف اسے پہچاننے والی آنکھیں کم ہو گئی ہیں۔ کسی کا غریب ہونا کوئی جرم نہیں، اور نہ ہی امیر ہونا کوئی فخر۔ اصل فخر تو یہ ہے کہ کوئی انسان اپنی حیثیت میں رہ کر دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے۔ہمیں چاہیے کہ دوسروں کی باتوں کو دل پر نہ لیں، بلکہ ان کا جواب اپنی محنت اور خلوص سے دیں۔ کامیابی کا اصل راز خود اعتمادی، استقامت اور عمل میں پوشیدہ ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ ترقی کرے تو ہمیں عدل و انصاف کو فروغ دینا ہوگا۔ بغیر انصاف کے کوئی معاشرہ پائیدار ترقی نہیں کر سکتا۔ عدل وہ چراغ ہے جو ہر دل میں روشنی پیدا کرتا ہے، اور انصاف وہ ستون ہے جس پر معاشرے کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔اسلام سے پہلے بھی دنیا میں ظلم، ناانصافی اور حق تلفی کا بازار گرم تھا۔ یتیموں اور مسکینوں کا حق چھینا جاتا تھا، مگر اسلام نے ان تمام مظالم کے خلاف آواز بلند کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
’’ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس کے ساتھ خیانت نہ کرے اور نہ جھوٹ بولے۔‘‘
(سنن ترمذی، حدیث نمبر 1927)
یہی وہ روشنی ہے جو ہمیں سچائی کے رستے پر گامزن کرتی ہے۔ اسلام صرف عبادات کا دین نہیں بلکہ مکمل نظامِ حیات ہے جو عدل، مساوات، بھائی چارہ اور انسانیت کی بنیاد پر استوار ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی ان اصولوں کو اپنی زندگی میں جگہ دیں تاکہ ہمارا معاشرہ ایک بار پھر وہی خوشحال اور باعزت مقام حاصل کرے جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا۔انسان کے لیے سب سے قیمتی رستہ انسانیت کا ہے۔ سچائی، محبت، قربانی اور انصاف یہی وہ حقیقت کا رستہ ہے جو نہ صرف دنیا میں سکون دیتا ہے بلکہ آخرت کی کامیابی کا ضامن بھی بنتا ہے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow