دانیال حسن چغتائی
آسمان سے اترنے والی رحمت ہماری غفلت اور نا اہلی سے زحمت بنتی ہے۔ باقی دنیا کی طرح ہماری پاک سرزمین کو بھی قدرت کی طرف سے ہمارے حصے کا پورا پانی ملتا ہے، ہم ہی اسے کام میں نہ لا کر ضائع کر بیٹھتے ہیں بل کہ اکثر اوقات تو خود کو تباہ کر ڈالتے ہیں ۔ یہ جو سبز باغ دکھانے والوں کی وجہ سے کالا باغ ڈیم سمیت مختلف ڈیم بنانے میں کوتاہی ہوتی رہی ہے تو یہ اوپر والے کی بالواسطہ نافرمانی بھی تھی۔ موسمیاتی تبدیلیوں نے دنیا بھر کو اور ہمیں کچھ زیادہ ہی پریشان کر رکھا ہے تو اس حوالے سے تیاریوں کا بھاری پتھر ماضی میں بہت کم اٹھانے کی کوشش ہوئی۔ خیر کچھ عرصے سے اب ہمارے ہاں بھی اس طرف بھر پور توجہ دی جانے لگی ہے تو غنیمت ہے۔
اس سلسلے میں جون میں وزیر اعلی پنجاب پلانٹ فار پاکستان انیشی ایٹو کے تحت 50869 ایکڑ رقبے پر چار کروڑ 20 لاکھ پودے لگانے کا جامع منصوبہ بنایا گیا جب کہ وزیر اعلی ایگرو فاریسٹری انیشی ایٹو کے تحت جنگلات کے غیر استعمال شدہ 13790 ایکڑ رقبے پر 13 لاکھ 75 ہزار درخت لگائے جانے کا فیصلہ ہوا چنانچہ گزشتہ برس کی طرح اس بار بھی شجرکاری کی مہم زوروں پر ہے۔ گرین پنجاب کی مہم کے تحت شہریوں کو مفت پودے دینے اور بعض صورتوں میں انعام دینے کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا۔ پنجاب بھر میں محکمہ اطلاعات کے ذریعے بھر پور مہم چلائی گئی۔ سرکاری سطح پر پنجاب یونیورسٹی اور کالجز کی انتظامیہ ہو یا ہسپتال ہوں ہر جگہ پلاٹ فار پاکستان مہم کی دھوم ہے۔ درختوں کا صاف ستھری فضا سے گہرا تعلق ہے۔
شجر کاری ماحول کو خوبصورت بنانے کے ساتھ مریضوں، تیمارداروں اور عملے کی جسمانی و دینی صحت پر بھی مثبت اثر ڈالتی ہے۔
درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے آکسیجن خارج کرتے ہیں جس سے فضا صاف اور سانس کے مریضوں کے لیے سازگار بنتی ہے۔ سر سبز مناظر اور قدرتی ماحول ذہنی دباؤ اور اضطراب کو کم کر کے نفسیاتی سکون فراہم کرتے ہیں جبکہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ وہ مریض جنہیں اپنے کمرے سے درختوں کا منظر نظر آتا ہے وہ دیگر مریضوں کے مقابلے میں جلد صحت یاب ہوتے ہیں۔ شجر کاری نہ صرف ہسپتال کی خوبصورتی اور شناخت میں اضافہ کرتی ہے بل کہ درجہ حرارت میں کمی لا کر ایئر کنڈیشننگ جیسے وسائل کے استعمال کو بھی کم کرتی ہے۔ سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگ زیب کے بقول چیف منسٹر کے حکم پر گرین پنجاب سے وابستہ ایک اور منصوبہ کی تکمیل کی نوید سنائی گئی ہے کہ سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کیلئے شاہدرہ سے رائے ونڈ تک ریلوے کے ٹریک کے دونوں اطراف کو گرین بیلٹ میں تبدیل کیا جائے گا۔ لہذا ہسپتالوں کے لان، راہداریوں اور پارکنگ ایریاز میں سایہ دار درخت لگانا اور موتیا، چنبیلی و لیونڈر جیسے خوشبو دار پودے لگانا خوشگوار، پر سکون اور ماحول دوست ہسپتالوں کے منصوبے ہوں یا گرین بیلٹوں کی منصوبہ بندی یہ مہم پورے پنجاب تک پھیلایا جانا ضروری ہے۔ ایسے ماحول میں جب سوشل میڈیا پر بیہودہ باتیں ماحول کو اداس کیے دیتی ہیں ایسی مثبت سرگرمیاں بڑھائی جائیں جن سے کسی کو اختلاف نہیں اور جو سب کے فائدے کے لیے ہیں۔
Latest Posts
