از قلم: ذیشان افضل
ہر سال اگست کا مہینہ آتا ہے۔ ہر طرف سبز ہلالی پرچموں کی بہار ہوتی ہے۔ بچے ملی نغمے گنگناتے ہیں، سڑکیں چراغاں سے جگمگا اٹھتی ہیں اور سوشل میڈیا حب الوطنی کے دعووں سے بھر جاتا ہےلیکن کیا کبھی ہم نے خود سے یہ سوال کیا کہ “ہم کب سدھریں گے؟”
ہم نے 1947 میں آزادی تو حاصل کر لی مگر کیا ہم نے اس آزادی کا مفہوم بھی سمجھا؟ کیا ہم نے قائداعظم اور علامہ اقبال کے خواب کو تعبیر دی؟ یا صرف یومِ آزادی کو ایک رسمی تہوار بنا دیا ہے؟
آج بھی ہم رشوت کو چائے پانی کہتے ہیں، جھوٹ کو چالاکی سمجھتے ہیں، قانون کو طاقت ور کے لیے نرم اور کمزور کے لیے سخت مانتے ہیں۔ تو پھر ہم آزاد کس بات کے ہیں؟ اور کب تک یہی طرز عمل اختیار کیے رکھیں گے؟
یاد رکھیے! آزادی صرف پرچم لہرانے ،باجا بجانے یا آتش بازی کرنے کا نام نہیں بل کہ ذمہ داری اٹھانے، کردار سنوارنے اور اجتماعی بھلائی کے لیے قربانی دینے کا دوسرا نام ہے۔
یقین جانیے ہم تب سدھریں گے جب ہم دوسروں کی بجائے خود کو درست کرنا شروع کریں گے۔ جب ہم اپنے گریبان میں جھانک کر اپنی کوتاہیوں کو تسلیم کریں گے۔جب ہم اپنے بچوں کو صرف کتابی علم نہیں، بلکہ سچائی، دیانت اور قربانی کا سبق دیں گے۔
قومیں نعرے لگانے سے نہیں عمل سے بنتی ہیں۔ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے وطن کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ صرف تنقید؟ صرف شکایت؟ یا واقعی کچھ مثبت؟
آزادی ہمیں ملی لیکن ہمیں کردار کی آزادی نہیں ملی۔ ہم آج بھی مغربی تہذیب کے پیچھے بھاگتے ہیں، اپنے کلچر، اپنی زبان اور اپنی اقدار کو کم تر سمجھتے ہیں۔ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ اگر ہم خود کو نہ سنبھال سکے تو نہ آزادی باقی رہے گی اور نہ پہچان۔
ہم تب سدھریں گےجب ہم 14 اگست کے دن صرف جھنڈا نہ لہرائیں گے بلکہ اپنے اندر ایک نئی روشنی جگائیں گے۔جب ہم اپنی ذات سے سچ بولنے، وعدے نبھانے اور دوسروں کے حقوق ادا کرنے کا آغاز کریں گے۔
یقین کریں اگر ایک ایک فرد بھی اپنا کردار بہتر بنا لے تو یہ قوم دنیا کی عظیم ترین قوم بن سکتی ہے۔اب بھی وقت ہے۔ سوچنے کا، سنورنے کا اور واقعی آزار ہونے کا۔
Latest Posts
