مضمون: اُردو ادب میں خواتین کا کردار

از: اقراء علوی (لاہور)
اُردو ادب کی تاریخ میں خواتین کا کردار نہایت اہم، متاثرکن اور قابلِ فخر رہا ہے۔ اگرچہ ابتدا میں عورتوں کو سماجی، تعلیمی اور ادبی سطح پر بہت سی پابندیوں اور رکاوٹوں کا سامنا رہا، تاہم جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، خواتین نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو منوایا اور اُردو ادب میں اپنی علیحدہ اور منفرد شناخت قائم کی۔ آج اُردو شاعری، افسانہ، ناول، خاکہ نگاری، تنقید، ڈرامہ اور دیگر اصناف میں خواتین کی خدمات کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں ہے۔
اُردو ادب کے ابتدائی دور میں خواتین کی تخلیقات بہت کم منظرِ عام پر آئیں کیونکہ اس وقت عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے کے مواقع محدود تھے۔ تاہم بعض پڑھی لکھی خواتین نے گھریلو دائرے میں ہی شاعری یا نثر لکھی جو بعد ازاں منظر عام پر آئی۔ بیگمات اور شہزادیوں کی نجی مجالس میں پڑھی جانے والی شاعری اُس زمانے کے رجحانات کا پتہ دیتی ہے۔
اُردو شاعری میں خواتین کا کردار ابتدا سے موجود رہا ہے مگر ان کا چرچا بہت بعد میں ہوا۔ ماضی کی چند نمایاں شاعرات میں مہ لقا بائی چندا٬ نواب سلطان جہاں بیگم٬ صفیہ اکبر٬ پروین شاکر٬ فہمیدہ ریاض٬ ادا جعفری اور بانو قدسیہ شامل ہیں۔
پروین شاکر نے رومانوی جذبات، عورت کی داخلی کیفیات اور جدید احساسات کو نازک انداز میں شاعری میں پیش کیا۔ ان کی شاعری نسوانی آواز کی ایک نمائندہ بن کر ابھری۔ کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض نے عورت کے حقوق، آزادی اور معاشرتی ناانصافیوں کے خلاف بھرپور آواز بلند کی۔ ان کی نظموں میں نسوانی شعور اور مزاحمتی لب و لہجہ نمایاں ہے۔
اُردو افسانہ نگاری میں خواتین کا کردار بہت مضبوط رہا ہے۔ رشید جہاں کو اُردو کی پہلی افسانہ نگار خاتون کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے افسانوں کے ذریعے معاشرتی ناہمواری، عورت کی محرومی اور طبقاتی فرق کو اجاگر کیا۔ اس کے بعد اجمل کمال٬ ہاجرہ مسرور٬ خدیجہ مستور٬ بانو قدسیہ٬ عفت موہانی اور نورالسعید جیسی خواتین نے افسانہ نگاری میں اپنی الگ پہچان بنائی۔
بانو قدسیہ کے افسانے اور ناول انسانی نفسیات، روحانیت اور اخلاقی اقدار کو نہایت گہرائی سے بیان کرتے ہیں۔ ان کا ناول راجہ گدھ آج بھی اُردو ادب کا ایک شاہکار سمجھا جاتا ہے۔ خدیجہ مستور کا ناول آنگن برصغیر کی سیاسی اور سماجی تاریخ پر نسوانی نقطہ نظر سے لکھی گئی ایک بے مثال تحریر ہے۔
ناول نگاری میں خواتین کی دلچسپی اور کامیابی بھی قابلِ تحسین رہی ہے۔ نیلم احمد بشیر٬ سمیرا حمید٬ عمیرہ احمد٬ نمرہ احمد٬ فائزہ افتخار اور سارہ قریشی جیسے نام آج کی نوجوان نسل میں بے حد مقبول ہیں۔ ان کے ناول نہ صرف دل چسپ اور سنسنی خیز ہوتے ہیں بل کہ ان میں اخلاقی پیغامات، معاشرتی مسائل اور نسوانی مسائل کو بھی جگہ دی جاتی ہے۔
عمیرہ احمد کا ناول پیرِ کامل اور نمرہ احمد کا نامعلوم راستے جیسے کئی ناول نوجوان قارئین میں بہت مقبول ہوئے۔ ان ناولوں میں عورت کو ایک باشعور، فیصلہ کن اور خود مختار کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
اُردو تنقید میں بھی خواتین نے اہم خدمات سرانجام دی ہیں۔ سلیم طاہرہ٬ ڈاکٹر سلمیٰ صدیقی اور شمیم حنفی جیسی خواتین نے ادبی تنقید کے ذریعے اُردو ادب کو بہتر انداز میں سمجھنے اور پرکھنے میں مدد دی۔ صحافت میں زہرہ نگاہ، عرش منیر اور دیگر خواتین نے اُردو صحافت کو نئی جہت دی۔
آج کے دور میں خواتین اُردو ادب میں مزید فعال ہو چکی ہیں۔ وہ نہ صرف لکھ رہی ہیں بل کہ ادبی حلقوں، مشاعروں، سیمیناروں اور ٹی وی و سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بھی اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلا رہی ہیں۔ ان کی تحریروں میں تنقید، تجزیہ، مشاہدہ اور گہرائی پائی جاتی ہے۔
اُردو ادب میں خواتین کا کردار صرف تخلیق تک محدود نہیں بل کہ وہ ایک سوچ، ایک تحریک اور ایک جدوجہد کی علامت بھی بن چکی ہیں۔ انہوں نے اُردو زبان کو نیا ذوق، نئی روانی اور ایک نیا انداز دیا۔ آج اُردو ادب خواتین کی شرکت کے بغیر ادھورا سمجھا جاتا ہے۔
لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ خواتین نے اُردو ادب میں اپنی موجودگی کو نہ صرف منوایا بل کہ اسے نئی بلندیوں تک بھی پہنچایا۔ ان کی تخلیقات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور اُردو ادب ان کی خدمات کا ہمیشہ مقروض رہے گا۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow