از قلم: حفصہ زنیر
وقت گزرنے اور کئی چہرے قریب سے دیکھنے اور ملنے کے بعد احساس ہوا کہ ضروری نہیں جو لوگ زبان پر ہر وقت ہمدردی، انسانیت، خلوص اور خدمت کے بول لیے پھرتے ہوں، جو ہر محفل میں نیکی کے فلسفے بگھارتے ہوں اور خدائی خدمت گاری کی بات کرتے ہوں، ایسے لوگوں سے جب ضرورت کے وقت یا مشکل حالات میں کوئی مدد مانگی گئی، زندگی نے کسی کے لیے آزمائش کا در کھولا تو وہ سب ”نیکی کے دعوے دار“ خاموش کھڑے رہے یا نظریں چُرا کر گزر گئے۔
مجھے اب اندازہ ہوا کہ ”خلوص“ ایک عمل ہے، لفظوں کا ہجوم نہیں۔
ہمدردی وہ نہیں جو صرف مشوروں میں ملے بل کہ وہ ہے جو خاموشی سے کسی کا بوجھ بانٹ لے۔
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی۔۔
وہ لوگ جو اکثر دوسروں کو نیکی کی ترغیب دیتے ہیں، ان کے دل سب سے زیادہ خالی ہوتے ہیں۔ البتہ جن کے لب خاموش ہوتے ہیں، ان کے ہاتھ ہمیشہ کسی نہ کسی کی مدد میں مصروف ہوتے ہیں۔
میں نے جانا ہے کہ اصل خوبصورتی اور خوبی شہرت کی طالب نہیں ہوتی، وہ خود کو اعلان سے بچا کر عمل میں چھپا لیتی ہے اور جو لوگ ہر وقت اپنے نیک ہونے کا اعلان کرتے ہیں وہ اکثر وقتِ ضرورت صرف تماشائی بن کر رہ جاتے ہیں۔
لہذا اب جب کوئی نیکی کے فلسفے بگھارے، خدمت، خلوص یا ہمدردی کی بڑی بڑی باتیں کرے تو میں خاموش رہتی ہوں کیوں کہ میں نے سیکھا ہے،
”خالی برتن ہی زیادہ آواز کرتے ہیں۔“
Latest Posts
