“پاکیزہ بندھن”

از قلم: افشاں ابراہیم
ہاتھ کانپے، ہونٹ خشک ہوئے اور دل لرز کر رہ گیا بوڑھے ماں باپ کا۔
کتنے ارمان آنکھوں میں سجائے اپنی لاڈلی بیٹی کو انھوں نے رخصت کیا تھا، لیکن یہ ظالم دنیا نجانے کیوں کسی دوسرے کی بیٹی کو اپنی بیٹی نہیں سمجھتی۔
ہسپتال سے ایک انجانی کال آئی تھی کہ آپ کی بیٹی چولہا پھٹنے کی وجہ سے انتہائی نازک حالت میں ہے۔
بھاری قدموں سے ہسپتال پہنچ کر، اپنی لاڈلی بیٹی کو جس ظلم کے ساتھ مسخ کیا گیا تھا، یہ سب دیکھ کر ماں باپ ایسے دل برداشتہ ہوئے کہ پھر اس آخری ملاقات کے بعد ایک نہیں، تین جنازے ساتھ نکلے۔
میں نے جس وقت یہ سو لفظی کہانی “پاکیزہ بندھن” لکھی تھی، اُس وقت میں اپنے اردگرد کے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے سوچ رہی تھی۔
جب ایک لڑکی کسی گھر میں پیدا ہوتی ہے، تو ماں باپ کتنی چاہ سے اس کی شادی کے خواب بچپن سے ہی دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔
اس بیٹی کے دور جانے سے خوفزدہ بھی ہوتے ہیں، اُس کے اچھے نصیب کی دعائیں بھی کرتے ہیں، کیونکہ ماں باپ کو اپنی بیٹی کے گھر سے جانے کا دکھ اتنا نہیں ہوتا جتنا ڈر اس بات کا ہوتا ہے کہ وہ جس گھر جائے گی، جانے وہاں کے لوگ اسے ویسا ہی پیار، ویسی ہی عزت دیں گے جیسی وہ اپنے گھر میں پا رہی تھی۔
شادی ایک ایسا پاکیزہ رشتہ ہے کہ جس میں ماں باپ کے بعد حقوقِ زوجیت کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔
لڑکیاں اپنے باپ کے بعد اگر کسی مرد کو اپنا سب سے بڑا محافظ مانتی ہیں تو وہ اس کا شوہر ہوتا ہے۔
اس رشتے کی پاکیزگی، اس کی محبت کو بڑھا دیتی ہے۔
لیکن اب معاشرے کے جو حالات ہیں، ان میں آئے دن بیٹیوں کے ساتھ ظلم و قہر کی ایسی خبریں منظرِ عام پر آتی ہیں کہ دل لرز کر رہ جاتا ہے۔
لڑکیوں کے ساتھ ساتھ ماں باپ بھی اب شادی کرنے سے ڈرنے لگے ہیں۔
لیکن ہم شادی سے ڈرنے کے بجائے ان عوامل پر غور کیوں نہیں کرتے جن کی وجہ سے یہ سارے معاملات پیش آ رہے ہیں؟
ہم کیوں اپنے بیٹوں کی تربیت پر نظرِ ثانی نہیں کر رہے؟
انگریزوں نے صحیح کہا تھا کہ مسلمانوں کو ہرانا ہے تو میڈیا کے ذریعے۔
انہوں نے ہماری قوم کے اندر وہ زہر اتار دیا ہے، جس کی وجہ سے انسانوں کے اندر درندوں نے جنم لے لیا ہے۔
ایسی ویب سائٹس، جہاں غیر فطری کام دکھائے جاتے ہیں، انسانوں کے دماغ کو پاگل کر چکی ہیں۔
اور وہ اپنی حقیقی زندگی میں بھی اس سب کو عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ یہ ہمارے دین کی تعلیمات نہیں ہیں۔
بلکہ کسی بھی مذہب میں، کسی بھی انسان، کیا جانور کو بھی تکلیف دینا، ظلم و زیادتی کا نشانہ بنانا گناہِ کبیرہ ہے۔
تو پھر یہ قومِ لوط کے کام یا وحشیوں والے عمل کیسے جائز اور حلال رشتوں میں درست کہلائے جا سکتے ہیں؟
اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس کہا ہے، لیکن اس رشتے میں بھی احترام اور حدود کا خیال رکھا گیا ہے۔
ہمیں اپنی اولاد کو ان ساری باتوں کی عقل، سمجھ، اور بوجھ دینا ضروری ہو گیا ہے, کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔
اسلام کی تعلیمات پر اگر غور کیا جائے، اور بچوں کی شادی مناسب عمر میں کر دی جائے، تب بھی بہت سارے مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔
خدارا آنکھیں کھولیں اور دیکھیں کہ ہمارا دین، ہماری اقدار ہمیں کیا سکھاتی ہیں۔
ہمیں اپنے بچوں کو وقت دینا ہوگا، ان کی بہتر تربیت کے لیے، کیونکہ جو تربیت گھر سے ملتی ہے وہ باہر سے نہیں مل سکتی۔
جو اچھا بُرا ماں باپ سکھا سکتے ہیں، وہ اگر دوسری جگہ سے بچے تک پہنچے، تو وہ خطرناک ہو جاتا ہے۔
کیونکہ جو فرق اچھے اور برے کا آپ اپنے بچوں کو سکھا سکتے ہیں، وہ کوئی اور نہیں بتا سکتا۔
اپنے بچوں کی بہتر رہنمائی خود کریں، تاکہ شادی جیسا پاکیزہ رشتہ درندگی کی بھینٹ چڑھنے سے بچ سکے، اور دینِ اسلام کی روشنی میں پروان چڑھ سکے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow