“ایک باپ کی اپیل”

تحریر: حفصہ نور
اقبال احمد صاحب، کراچی کے بزرگ شہری، تقریباً ڈیڑھ سال سے اپنے اکلوتے بیٹے شہزاد اقبال کی جدائی میں ذہنی اور جذباتی اذیت کا شکار ہیں۔ شہزاد، جو کسی ناراضی کے باعث اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ گھر چھوڑ کر چلا گیا تھا، تب سے آج تک واپس نہیں آیا۔
اقبال صاحب نے کچھ عرصے کے لیے اپنا ذاتی گھر اپنی بیٹی کو کرائے پر دیا تھا، جو اُن کے بیٹے کو ناگوار گزرا۔ شہزاد کو یہ بات گوارا نہ ہوئی کہ وہ اور اُس کے والد کرائے کے مکان میں رہیں جبکہ بہن ذاتی مکان میں مقیم ہو۔ یہی ناراضی اُسے خاموشی سے گھر چھوڑنے پر مجبور کر گئی، اور وہ آج تک لوٹ کر نہیں آیا۔
بیٹے کی جدائی نے اقبال صاحب کی صحت کو بری طرح متاثر کیا۔ وہ سخت بیمار ہو گئے اور ایک ہفتے سے زائد اسپتال میں زیرِ علاج رہے۔ اس دوران وہ عارضی یادداشت کی کمزوری (Short-Term Memory Loss) کا شکار ہو گئے۔ اب وہ نہ صرف جسمانی طور پر کمزور ہو چکے ہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی بےحد پریشان ہیں۔
انہوں نے کھانا پینا تقریباً ترک کر دیا ہے، اور جب بھی دروازہ کھلتا دیکھتے ہیں تو اُمید بھری نگاہوں سے دوڑ پڑتے ہیں کہ شاید بیٹا واپس آ گیا ہو، لیکن ہر بار مایوسی ہی ہاتھ آتی ہے۔
اب اُن کی دیکھ بھال صرف اُن کی بیٹی کر رہی ہیں، جو خود بھی اپنی ذاتی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ والد کی تیمارداری میں مصروف ہیں۔ محلے داروں کے مطابق، وہ اکثر گلی سے گزرنے والے اجنبیوں کو روک کر پوچھتے ہیں:
میرا بیٹا واپس آیا؟”
یہ منظر روز کا معمول بن چکا ہے، اور اہلِ محلہ بھی اس افسوسناک کیفیت سے دکھی ہیں۔
اقبال احمد صاحب کی ایک ہی اپیل ہے۔
“شہزاد! بیٹا، جہاں کہیں بھی ہو، واپس آ جاؤ۔ تم سے کچھ نہیں کہا جائے گا۔ بس ایک بار آ کر اپنے باپ سے مِل لو۔”
یہ آواز کسی الزام، شکوے یا ناراضی کی نہیں، صرف ایک ٹوٹے ہوئے دل کی پکار ہے:
ایک باپ کی، جو صرف اپنے بیٹے کو دیکھنے کی خواہش رکھتا ہے۔
اگر یہ پیغام شہزاد یا اُس کے جاننے والوں تک پہنچ جائے، تو شاید وہ لوٹ آئے…
اور ایک بکھرا ہوا دل دوبارہ جُڑ جائے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow