نعمت، شکر اور خیانت کا تضاد

تحریر: فداء الرحمن
جب اللہ تعالیٰ کسی انسان کو کامیابی و کامرانی سے نوازے، کسی اعلیٰ منصب پر فائز فرمائے یا ملک و ملت کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں دے، تو اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ انسان، اللہ تعالیٰ کے احکامات اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرتے ہوئے، اپنے منصبی فرائض دیانت داری سے سرانجام دے۔
شکرگزاری سے نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
&”اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا، اور اگر ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب سخت ہے۔“
(ابراہیم: 7)
افسوس! کہ ایک بڑی تعداد اللہ تعالیٰ کے احکامات سے روگردانی کرتے ہوئے خیانت، جھوٹ، رشوت اور کرپشن جیسے مہلک ناسوروں کی نذر ہو جاتی ہے۔
بات صرف یہی نہیں، بل کہ اس سے بھی بڑھ کر فرائضِ منصبی میں سستی اور کوتاہی کو بعض اوقات اپنی شان کے موافق تصور کیا جانے لگتا ہے، حالانکہ کامیاب لوگوں کی فہرست دیکھنے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اگر دنیاوی مراتب اور وقار کے ساتھ اسلامی تعلیمات کو اپنایا جائے اور اسلامی اقدار کا دامن نہ چھوڑا جائے تو کامیابی خود بخود قدم چومتی ہے۔ اگر عہدِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگیوں پر ایک سرسری نگاہ ڈالی جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ وہ ہستیاں دنیا و آخرت میں کامیاب ترین انسان تھے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ساڑھے بائیس لاکھ مربع میل کے رقبے پر ہی نہیں، بلکہ جان داروں اور بے جان چیزوں پر بھی حکومت کی۔ ایک موقع پر جب شیر راستہ روک لیتا ہے تو حضرت عمرؓ اس پر ایک تھپڑ رسید کر کے اپنی حکمرانی کی دھاک بٹھاتے ہیں۔ دریا نیل کو خط لکھتے ہیں تو وہ ہمیشہ کے لیے جاری ہو جاتا ہے اور حضرت امیرالمومنینؓ کی اطاعت کا نشان بن جاتا ہے۔ احد پہاڑ لرزتا ہے تو حضرت عمرؓ ایک کوڑا مار کر اسے تھما دیتے ہیں، گویا الٰہی احکامات پر عمل درآمد کی ایک زندہ مثال قائم کرتے ہیں۔زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں، ماضیِ قریب میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زندگی کو دیکھیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جو ایک عظیم ایٹمی سائنس دان اور پاکستان کے قومی ہیرو ہیں، دینِ اسلام کے احکامات کی پابندی کا عملی نمونہ تھے۔ معروف صحافی سہیل وڑائچ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ ان کا روزانہ کا معمول یہ ہوتا ہے کہ وہ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے ہیں پرندوں اور بلیوں جیسے مخلوقاتِ خدا کو بلا ناغہ کھانا کھلانے کا اہتمام کرتے ہیں۔
انہیں کبھی اس بات سے شرمندگی محسوس نہیں ہوئی کہ وہ پاکستان کے سب سے اہم، اعلیٰ اور حساس منصب پر فائز ہیں۔ ان کی اسی سادہ مزاجی اور دین داری کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان سے ایسی نمایاں خدمات لیں، جو پاکستان کی حفاظت اور بقا کی ضمانت بن گئیں۔ آج اگر پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، جو ہمیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ذریعے ملی۔
ان کا طرزِ عمل اس بات کی زندہ مثال ہے کہ دنیاوی عہدوں پر فائز ہونے کے بعد بھی اگر کوئی شخص دینِ اسلام پر سچے دل اور خلوص کے ساتھ عمل پیرا رہے تو یہ دنیا میں عزت کا باعث بنتا ہے اور آخرت میں بھی کامیابی ان شاءاللہ اس کا مقدر بنتی ہے۔اللہ تعالیٰ اگر کسی کو منصب عطا کرے تو یہ محض اعزاز نہیں، بلکہ ایک بھاری ذمہ داری اور آزمائش بھی ہے۔ حقیقی کامیابی تب ہی حاصل ہوتی ہے جب انسان اپنے منصب کو امانت سمجھ کر دیانت داری سے ادا کرے اور اپنی خودی، کردار اور ایمان کی حفاظت کرے۔ اگر ہم ذمہ داریوں کو اللہ کی رضا اور جواب دہی کے احساس کے ساتھ نبھائیں تو دنیا و آخرت کی کامیابی ہمارا مقدر بن سکتی ہے۔ ورنہ منصب، دولت اور شہرت سب بے معنی ہو جاتے ہیں اگر دیانت و خود داری باقی نہ رہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں دنیاوی ترقی کے ساتھ ساتھ اخروی ترقی بھی عطا فرمائے۔آمین!

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow