حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ: اسلامی تجارت کا عملی اور روشن نمونہ

تحریر: محمد سعید خان آفریدی
اسلام نے تجارت کو صرف دنیا کمانے کا ذریعہ نہیں بنایا بل کہ اسے عبادت کا درجہ دیا بشرطے کہ اس میں دیانت، سچائی، عدل اور خیر خواہی ہو۔ صحابۂ کرامؓ کی زندگیوں میں ہمیں ان اصولوں کا عملی نمونہ دکھائی دیتا ہے، جن میں نمایاں نام حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ہے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں شامل تھے، یعنی ان دس صحابہؓ میں سےہیں، جنہیں دنیا ہی میں جنت کی بشارت دی گئی۔ آپ نہ صرف ایک بلند پایہ صحابی، نیک سیرت انسان، اور سچے مومن تھے بلکہ ایک کامیاب تاجر بھی تھے۔ آپ کی تجارت اور طرزِ زندگی اسلامی اصولوں کے مطابق تھی، جس سے ہمیں آج کے دور میں بھی سیکھنے کو بہت کچھ ملتا ہے۔ جب آپ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو آپ کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ نے آپ کی مواخات حضرت سعد بن ربیع انصاریؓ سے کروائی، جو مدینہ کے مال دار اور فیاض لوگوں میں سے تھے۔ حضرت سعدؓ نے آپ سے فرمایا:
 ”اے میرے بھائی! میں اپنا آدھا مال تمہیں دیتا ہوں۔“
اس پر حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ نے بڑی عزت و خودداری کے ساتھ جواب دیا:
”اللہ آپ کے مال میں برکت دے، مجھے صرف بازار کا راستہ بتا دیں۔“
یہ جملہ ان کے اعتماد، خود داری اور محنت پر یقین کی بہترین علامت ہے۔ انہوں نے کسی پر بوجھ بننے کے بجائے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا پسند کیا۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی تجات میں ایسی برکت عطا فرمائی کہ تھوڑے ہی وقت میں آپ مدینہ کے سب سے کامیاب تاجروں میں شمار ہونے لگے، لیکن ان کی کامیابی کا راز صرف مال کمانا نہیں تھا بل کہ اخلاق، کردار اور ایمان داری تھی۔ ان کی تجارت میں چند نمایاں اصول یہ تھے: آپ ہمیشہ نقد کاروبار کرتے، ادھار سے بچتے تاکہ معاملات صاف اور شفاف رہیں۔
آپ کا ہر لین دین سچائی پر مبنی ہوتا۔ نہ کبھی جھوٹ بولتے، نہ دھوکہ دیتے۔ اسی وجہ سے لوگ ان پر اندھا اعتماد کرتے تھے۔ آپ مال جمع کرکے قیمتیں بڑھنے کا انتظار نہیں کرتے تھے۔ جو مال آتا، وہ جلد فروخت کر دیتے تاکہ قیمت میں استحکام رہے اور نفع تھوڑا سہی، مگر مسلسل ہو۔
آپ کے انتقال کے وقت آپ کی دولت اس قدر زیادہ تھی کہ آپ کی ہر بیوی کو 80,000 دینار ترکہ میں ملا۔ سونے کی اینٹیں اتنی بڑی تھیں کہ انہیں کاٹنے والے مزدوروں کے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے۔ ترکے میں 10,000 اونٹ، 100 گھوڑے اور 3,000 بکریاں شامل تھیں۔ (ماخذ: اسد الغابہ، الاستیعاب، مشکاة المصابیح، جلد 2، صفحہ 567)
یہ سب کچھ آپ نے حلال کمائی، سچائی اور محنت سے کمایا، نہ کہ ظلم، دھوکہ یا فریب سے۔
حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ کی زندگی یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر تجارت کو اسلامی اصولوں کے مطابق کیا جائے تو یہ صرف دنیاوی فائدے کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک عبادت بھی بن جاتی ہے۔ دین اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ تجارت میں دیانت، سچائی، عدل، خیر خواہی اور رحم دلی ضروری ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ: ”رزق حلال طلب کرنا فرض ہے فرض کے بعد (ارکان اسلام کے بعد)۔
”)السنن الکبری للبیہقی، حدیث نمبر: 16,695(
حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ کا طرزِ تجارت آج کے ہر مسلمان تاجر کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ اگر ہم جھوٹ، دھوکہ، ذخیرہ اندوزی اور سود سے بچیں اور سچائی، دیانت اور خیر خواہی کو اپنا اصول بنائیں تو ہماری تجارت نہ صرف دنیا میں کامیاب ہو گی بل کہ آخرت میں نجات کا ذریعہ بھی بنے گی۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow