تحریر: حبیب الرحمٰن انجم
آزادی کے جشن کو مناسب اور سلجھے ہوئے انداز سے منانا زندہ قوموں کا خاصہ ہے۔ بطور اسلامی ملک کے ہم پہ لازم ہے کہ کوئی بھی جشن مناتے ہوئے اپنی اقدار اور روایات کا خیال رکھیں ۔ حد سے متجاوز ہو جانا رب ِ ذوالجلا ل کی ذات کو سخت ناپسند ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمار ی شریعت ہر موقع کی مناسبت سے ہمیں مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ ادبی علمی و تحقیقی جستجو میں منعقد کی جانے والی محافل ہمارے معاشرے میں دم توڑ رہی ہیں ان کی کئی وجوہات ہیں جو آئے روز ہم سنتے رہتے ہیں جس کی بحث یہاں مقصود نہیں۔ دم توڑتے اسی جذبے کو ہریالی بخشنے کے لیے ہماری تحصیل پنڈی گھیب کی انتظامیہ نے اس بار جشنِ آزادی پہ ایک احسن قدم اٹھایا جس کی خاطر علاقے بھر کے شعرائے کرام کو دعوت دی گئی کہ وہ اس تقریب میں رونق افروز ہو کر اس محفل کو جلا بخشیں اور ادبی ذوق کو ایک بار پھر اہل ِ علاقہ میں اجاگر کرنے کی ایک کوشش کریں۔ انتظامیہ کے اس حکم پہ ہماری حلقہ صاحبان ذوق کی انتظامیہ نے لبیک کہا اور لگ گئے سب اپنے اپنے کاموں میں ۔ یہ حکم جس قدر اچانک تھا اسی قدر اس کی تکمیل بھی دشوار تھی۔محض دو دن کے اند راندر تمام تر انتظام و انصرام کے ساتھ ساتھ علاقے بھر کے شعراء کو ایک جگہ اکٹھا کر نا اور ایک بڑا مجمع سجا لینا واقعی ہمارے دونوں طرف کی انتطامی امور کو دیکھنے والے تمام نمائندوں کی ایک بہترین کاوش تھی۔ اس سلسلے میں ہمارے علاقے کے نائب حاکم تحصیل ( اسسٹنٹ کمشنر ) حافظ زنیر یونس کی سر پرستی اور ان کی ذاتی دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ وہ بروقت پہنچے اور دیگر افسران ِ بالا کے ساتھ اس محفل کو مکمل وقت دیا کیونکہ اس محفل میں وہ مہمان بھی تھے اور اس محفل کو سجانے میں ان کا کلیدی کردار ہونے کے باعث وہ ہم سب کے میزبان بھی تھے ۔ اس کے علاوہ محفل کے شرکاء میں علاقے بھر کے نامی گرامی افراد اور ارباب اختیار کے ایک وسیع حلقے نے شرکت کی۔ یہ تقریب باسعید تحصیل پنڈی گھیب کے بلدیہ دفتر کے کھلے میدان میں خوبصورت انداز میں سجائی گئی۔13 اگست کی رات کو منعقدہ اس محفل ِمشاعرہ کے ابتدائی حصے کی نقابت جناب چوہدری ساجد اور دوسرے حصے کی نقابت جناب صدیق توکل نے کی ۔ بزم ِ شاعری کے باقاعدہ آغاز سے قبل تلاوت ِ کلام ِ پاک کی سعادت جناب قاری عامر شہزاد کے حصے میں آئی جبکہ نعت ِ رسول ِ مقبول ﷺ کا شرف جناب حسنین یوسفی کے نصیب میں تھا۔ ملی نغمہ جناب طیب طاہر نے پیش کیا اور کلام ِ اقبال نہایت خوبصور ت انداز میں جناب اقبال تنویر قادری نے پیش کیا۔شریکِ محفل شعراء میں پروفیسر ڈاکٹر شوکت محمود شوکت جو مہمان اعزاز تھے ایک منجھے ہوئےاردو کے ماہر استاد نقاد نثر نگار اور بہترین شاعر ہیں ۔ اس کے علا وہ ماہر ِتعلیم اور ہیڈ ماسٹر صفی حیدرمعروف پنجابی و اردو شاعر سجاد چوہان پنڈی گھیب شہر سے تعلق رکھنے والے نوجوان ابھرتے ہوئے شاعر عثمان علی اسد ضلع اٹک کی معروف علمی و ادبی خاتون شخصیت شاعرہ آنسہ مظہر شاعر ومزاح نگار سینئر سبجیکٹ سپیشلسٹ پروفیسر عبد الرحمان عبد اور تحصیل جنڈ کے معروف شاعر پروفیسر عبدالحمید مجروع نے شرکت فرمائی ۔ محفل ِ مشاعرہ کا باقاعدہ آغاز کرنے کا شرف بطور میزبان اور نمائندہ حلقہ صاحبان ذوق پنڈی گھیب مجھ ناچیز کے حصے میں آیا۔ نعت رسول مقبول ﷺ کے ساتھ ساتھ وطن کی محبت میں کچھ اشعار کہنے کا موقع ملا۔ یہ تحصیل سطح پرمیرا پہلا موقع تھا جس کے لیے میں تمام ارباب اختیار اور منتظمین بالخصوص موضع ملہوالی کے اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر جناب عمران حیدر اور صدر آل پاکستان پرائیویٹ سکول منیجمنٹ ایسوسی ایشن پنڈی گھیب جناب قاضی محمد رمضان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھ ناچیز کو اس قابل سمجھا ۔ محفلِ مشاعرہ میں تمام شرکاء نے اپنے خوبصورت کلا م پیش کیے اور وطن سے اپنی محبت کا اظہار کیا ۔ محفل میں تحصیل پنڈی گھیب سے تعلق رکھنے والے معروف ماہر ِ تعلیم پنجابی و اردو کے معروف شاعر پروفیسر ابرا ر الحق شاکر جو کہ میرے استاد ہیں آپ جناب کی کمی کو سخت محسوس کیا گیا استادِ محترم اپنی پنجابی کتاب ”نور نی نگری“ کی تقریب ِرونمائی کی مصروفیات کے باعث موجود نہ تھے ۔ پنجابی گھیبی زبان میں یہ ان کا دوسرا مجموعہ شائع ہو رہاہے ۔
بنیان مرصوص کی کامیابی اور جشن آزادی ایک ساتھ منانے کے لیے سجائی گئی محفل کے اختتام پر اسسٹنٹ کمشنر پنڈی گھیب حافظ زنیر یونس نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ آئندہ بھی اس قسم کی محافل کا انعقاد کیا جائے گا۔ منتظمین اور آئے موجود اہل ِ دانش کا شکریہ تمام میزبانوں کی طرف سے کھلے دل سے ادا کیا گیا۔ شعرائے کرام اور منتظمین کو اعزازی اسناد پیش کی گئیں ۔طعام کا خصوصی انتظام کیا گیا اور محفل کے دوران بھی شرکاء کی مہمان نوازی خوب ہوتی رہی۔یاد رہے سرکاری سطح پر لگ بھگ 30 سال بعد یہ مشاعرہ منعقد ہوا ہے اس سے پہلے معروف صحافی علمی و ادبی شخصیات جناب کے بی عزیز مرحوم اور صوبیدار توکل سائل مرحوم کی کا وشوں سے اس طرح کی محافل کا انعقاد ہوتا رہتا تھا۔حالیہ دور میں اس طرح کی محفل ایک احسن قدم ہے بالخصو ص اگر اس عمل کو حکومتی سر پرستی حاصل ہوتی ہے تو اُردو زبان کی اشاعت و ترویج کی نئی راہیں کھلنے میں مدد ملے گی اور ساتھ ہی ہماری نوجوان نسل میں ایک ادبی ذوق پیدا ہوگا جو کہ ہمارے معاشر ے کی بقا اور اس کی فلا ح کے لیے نہایت ضروری ہے۔
Latest Posts
