آج کی حقیقت اور کل کا سوال

از قلم:ذیشان افضل
وقت ایک بہتا ہوا دریا ہےجو نہ کسی کے لیے رکتا ہے اور نہ پلٹتا ہے۔ اس کا ایک کنارہ ماضی اور دوسرا مستقبل ہے۔ ہم اس کے بیچ موجود حال میں کھڑے ہیں۔مگر سچ یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر حال کی دھڑکن کو محسوس ہی نہیں کرتے ہیں۔ ہم یا تو ماضی کی شکست و ریخت پر افسوس کرتے رہتے ہیں یا پھر مستقبل کے خوابوں میں کھوئے رہتے ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ کل کی بنیاد آج کے لمحوں پر رکھی جاتی ہے۔
انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں آج کو سنجیدگی سے جیتی ہیں وہی آنے والے کل پر حکمرانی کرتی ہیں۔ مسلمانوں کا سنہری دور یا صنعتی انقلاب کے بعد مغربی دنیا کی ترقی یہ سب کسی جادو کا نتیجہ نہیں تھے بل کہ اس عزم اور محنت کا پھل تھے جو لوگوں نے اپنے آج میں بویا تھا۔
ہم اکثر مستقبل کی خوبصورت تصویر اپنے ذہن میں بناتے ہیں اور وہ خوشحالی، ترقی، انصاف اور سکون پر مبنی ہوتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم آج کے اپنے ان اعمال سے اس تصویر کے رنگ تیار کر رہے ہیں؟ کیا ہماری تعلیم کا معیار ایسا ہے کہ کل کی نسلیں ہم پر فخر کریں گی؟ کیا ہم اپنی روزمرہ زندگی میں دیانت داری، وقت کی پابندی اور اخلاقیات کو جگہ دے رہے ہیں؟ یا ہم کل کے خواب کو محض الفاظ اور دعاؤں میں دفن کر رہے ہیں؟
ہمارے معاشرے کی ایک بڑی بیماری یہ ہے کہ ہم ذمہ داری کو دوسروں کے کندھوں پر ڈال دیتے ہیں۔ ہم حکومت کو کوستے ہیں، نظام کو برا کہتے ہیں۔ لیکن اپنے حصے کا چراغ جلانے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ کل کا سورج روشن ہو مگر آج اپنے دروازے کے سامنے کی گندگی صاف کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
کل کا سوال بڑا واضح ہے:
”کیا تم نے آج اپنا فرض ادا کیا؟“
یہ سوال ہم سے انفرادی طور پر بھی کیا جائے گا اور بحیثیت قوم بھی۔ اس کا جواب محض تقریروں یا تحریروں سے نہیں دیا جا سکتا بل کہ یہ ہمارے عمل، رویے اور کردار سے جھلکنا چاہیے۔
ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ جو لمحہ گزر چکا ہے وہ کبھی لوٹ کر نہیں آتا اور جو لمحہ آنے والا ہے وہ آج کی محنت پر منحصر ہے۔اگر ہم نے آج کو ضائع کر دیا تو کل کے خواب خاک میں مل جائیں گے۔لیکن اگر ہم نے اپنے آج کو بامقصد، بامعنی اور محنت کر کے گزارا تو کل نہ صرف روشن ہوگا بل کہ ہم فخر سے سر اٹھا کر جی سکیں گے۔
اس لیے اپنے آج کو اس طرح جئیں کہ جب کل کا سوال آئے تو ہم پورے اعتماد سے جواب دے سکیں:
”ہاں! ہم نے اپنا آج بہتر بنایا، تاکہ ہمارا کل تابناک ہو۔“

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow