
از قلم: امبر فاطمہ( لاہور)
سماجی ذرائع ابلاغ کا دور ہے۔ جہاں یہ ہمیں علم، معلومات اور دنیا سے جوڑتا ہےوہیں اس کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ ہم نے اپنی ذات کو وقت دینا چھوڑ دیاہے۔ ہم خود شناسی سے دور ہو گے ہیں۔ ہمیں یہ احساس تک نہیں رہا کہ ہماری اپنی ذات بھی اہم ہے۔
آج ایک کام کیجیے موبائل سائیڈ پر رکھ دیجیےلیپ ٹاپ بند کیجیےاور صرف اپنے ساتھ وقت گزاریں۔ جیسے ہی آپ اپنے ماضی کو یاد کریں گےاچھی یادوں کے ساتھ کچھ اپنی غلطیاں بھی یاد آئیں گی۔ یہ لمحہ مشکل ہو سکتا ہےکیوں کہ اپنے آپ سے سامنا کرنا آسان نہیں۔ اسی لیے ہم فوراً موبائل اٹھا کر بے مقصد دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ دراصل اپنی ذات سے فرار ہے۔
لیکن یاد رکھیے اپنے ماضی کی غلطیوں سے نظریں چرانا ہمیں بہتر نہیں بناتا بلکہ سچ کا سامنا ہی ہمیں مضبوط کرتا ہے۔ یہی کیفیت مستقبل کے بارے میں بھی ہوتی ہے – ہم سوچنے سے کتراتے ہیں کہ ہم کہاں جا رہے ہیں اس لیے مصروفیت کا بہانہ بنا کر بھاگ جاتے ہیں۔
“اپنی ذات سے بہتر کوئی استاد نہیں۔” حضرت علیؑ
وقت ملے تو خود سے مل لینا،
یہ رشتہ سب رشتوں سے نرالا ہے۔
ایک بزرگ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: “میں سکون چاہتا ہوں لیکن جب اکیلا ہوتا ہوں تو پریشان ہو جاتا ہوں۔” بزرگ مسکرائے اور بولے: “تم خود سے بھاگتے ہو اور بھاگنے والا کبھی منزل تک نہیں پہنچتا۔ ایک دن بیٹھ کر اپنی خاموشی سنوتمہیں اپنے سوالوں کے جواب وہیں ملیں گے۔”
کبھی کبھی اپنے اندر جھانکنا تکلیف دہ ہوتا ہےلیکن یہی تکلیف ہمیں شفا دیتی ہے۔ اپنے ساتھ وقت گزارنا خود غرضی نہیں بلکہ زندگی کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
