ازقلم: ماریہ خان (رحیم یار خان)
آزادی کا مطلب وہ نہیں جو ہم نے لیا ہوا ہے جیسے ایک پرندے کو پنجرے سے آزاد کر دیا جاۓ یا کسی انسان کو جیل سے رہائی دلا دی جاۓ -یہ بھی اہم ہے کہ معاشرے میں کوئی انسان آزادی سے زندگی گزار سکے مگر اصل چیز جو توجہ طلب ہے وہ ذہنی آزادی ہے – آزادی کا حقیقی مطلب بھی یہ ہے کہ ذہنی طور پر آزاد انسان وہ اپنی مرضی سے اپنی سوچ کا خیالات کا اظہار کر سکے- کسی بھی انسان کو اظہار راۓ کا حق حاصل ہو – آج ہمارا معاشرہ ذہنی غلامی میں جکڑا ہوا ہے کسی کو اظہار راۓ کا حق حاصل نہیں جو بھی انسان اپنی راۓ کا اظہار کرنے لگتا ہے وہ اسکا جرم بن جاتا ہے -اس کے انعام میں ایسی سزائیں اور مظالم ڈھاۓ جاتے ہیں کہ اس کی آواز اتنی دب جاتی ہے اور اس کے آس پاس کے لوگوں پر ایک خوف طاری ہو جاتا ہے – ہمارا ملک جس کا مقصد ہی ہر طرح کی آزادی تھی ۔اس کا وہ مقصد آج فوت ہو کے رہ گیا ہے نچلے طبقے کی عوام کو ہر طرح کے حقوق سے محروم رکھا جا رہا – ان کی راۓ کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی با اثر طبقے کے لوگ ان پر ظلم کی لاٹھیاں توڑ ڈالتے ہیں عام عوام کو حق راۓ کا کوئی بھی حق حاصل نہیں ہے ۔آج ہم ایک ذہنی طور پر غلام قوم بن چکے ہیں جن کی ڈور با اثر اداروں اور ان ممالک کے ہاتھوں میں تھمادی گئ ہے جن کے قرضوں پر آج ہم پل رہے ہیں عام عوام کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو ختم کرنے کے لیے انھیں معاشی اور معاشرتی طور پر بہت کمزور کر دیا گیا ہے -عوام ہر وقت مہنگائ ،دو وقت کی روٹی اور اپنی روز مرہ کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں اتنا الجھی رہتی ہے کہ اس کے ذہن میں دوسری تیسری سوچ نہیں آتی معاشرے میں انہیں ایک کمزور فرد کی حیثیت حاصل ہے کسی بھی ادارے میں یہاں تک کہ آپ ہسپتال میں جا کر دیکھیں وہاں کمزور افراد علاج کی سہولتوں سے محروم ہیں ان کے ساتھ بہت ناروا سلوک رکھا جاتا ہے یہاں تک انھیں ہر ادارے میں حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے -قوانین بناۓ جاتے ہیں مگر انکو لاگو کس نے کرنا ہےان کی پرکھ کس نے کرنی ہے-ہر طاقت رکھنے والا اپنی کرسی کا رعب جمانے میں مگن ہے – یہ ہے ذہنی غلامی -آج بھی ملک کے بیشتر علاقوں میں طبقہ پرستی، قبیلے اور غیرت کے نام پر آۓ دن قتل -آخر یہ سب کیا ہے کیونکہ آج بھی لوگ اپنے آباؤ اجداد کی فرسودہ روایات کو اپنا کر چل رہے ہیں جس چیز کی اجازت ہمارے مذہب نے دے رکھی ہےاس کی ہمارا معاشرہ پر زور مزمت کر رہا اور جس کی مذہب میں ممانعت ہے اس کی ہمارا معاشرہ پرزور حمائیت کر رہا آخر آج ہم یہ کس دوراہے پر آ کھڑے ہیں ! جن چیزوں کو بنیاد بنا کر پاکستان کی بنیاد رکھی گئ وہ مقصد آج دیکھا جاۓتو پوری طرح فوت ہو چکا ہے-مذہبی آزادی ،ذہنی آزادی ہر فردکو حق راۓ دہی کا حق ذات پات رنگ نسل کے فرق سے پاک معاشرہ ،انسانیت کا درس ،یہ سب آج کہیں نظر نہیں آتا ۔ جب تک ہم ذہنی طور پر خود کو ان چیزوں سے آزاد نہیں کریں گے ہم کبھی ترقی نہیں کر سکتے کبھی ہماری نسلیں آگے نہیں بڑھ سکتی اور ہم آج اور ہمیشہ اپنی بے بنیاد روایات کے ذہنی طور پر قیدی بن کے رہ جائیں گے ۔
Latest Posts
