تحریر: امبر فاطمہ (لاہور)
زندگی میں دکھ، حادثے اور المیے ایسے لمحے ہیں جو انسان کے دل پر گہرا زخم چھوڑ جاتے ہیں۔ کوئی رشتہ ٹوٹ جائے، کوئی خواب ادھورا رہ جائے یا کوئی نقصان زندگی کا راستہ بدل دے٬ یہ سب انسان کو تھام لیتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ کائنات کا ہر اصول حرکت میں ہے۔ وقت رکتا نہیں، گھڑیاں تھمتی نہیں اور انسان کے لیے سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ وہ سیکھے کہ کیسے آگے بڑھا جائے؟
میں نے بہت سے لوگوں کو قریب سے دیکھا ہے؛ خاص طور پر لڑکیوں کو، جو اپنی پوری ہمت کے ساتھ زندگی کے نئے سفر پر نکلنا چاہتی ہیں۔ وہ آگے بڑھنے کا ارادہ کرتی ہیں مگر ان کے اردگرد کے لوگ چاہے وہ دوست ہوں، رشتہ دار ہوں یا ہمسائے٬ انہیں بار بار ماضی کے اسی خول میں قید رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انسان جب ذرا سا مسکرائے، ذرا سا خوش ہو تو کوئی نہ کوئی پرانا دکھ یاد دلانے آ جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے معاشرہ یہ دیکھنے کا عادی ہو چکا ہے کہ یہ شخص ہمیشہ غم گین ہی رہے۔
ایسی سوچ رکھنے والے لوگ دراصل خود آگے نہیں بڑھ پاتے اور نہ دوسروں کو بڑھنے دیتے ہیں مگر یہاں ایک سچائی ہے٬ جب تک ہم ان لوگوں سے وقتی طور پر کنارہ کشی اختیار نہیں کرتے، تب تک کامیابی سے آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ یہ دنیا ہمیشہ باتیں کرے گی۔ کبھی ماضی کے زخموں کا ذکر کرے گی، کبھی ٹوٹے خوابوں کا لیکن اگر آپ نے اپنے دل کو مضبوط کر لیا، تو ایک دن وہی لوگ آپ کو ایک نئے روپ میں دیکھنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ آگے بڑھی جانا کسی بھول جانے کا نام نہیں بل کہ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ ہم نے اپنے دکھوں کو تسلیم کر کے ان پر قابو پا لیا ہے۔ یہ ایک نئی صبح کا آغاز ہے۔ جیسے بارش کے بعد زمین خوشبو دیتی ہے، ویسے ہی زخموں کے بعد انسان زیادہ مضبوط اور نکھرا ہوا سامنے آتا ہے۔
یاد رکھیں! آپ کی زندگی آپ کی ہے۔ اس پر قابو کرنا دوسروں کے ہاتھ میں نہ دیں۔ لوگوں کی باتیں وقتی ہیں مگر آپ کا سفر مستقل ہے۔ زندگی بار بار نہیں ملتی، اس لیے اپنے خوابوں اور خوشیوں کے ساتھ آگے بڑھنا ہی اصل جیت ہے۔
آخر میں اتنا ہی کہوں گی کہ آگے بڑھنا؛ بھول جانا نہیں، بل کہ ماضی کو ایک باب مان کر اگلا صفحہ پلٹ دینا ہے۔
Latest Posts
