جنگِ موتہ (ستمبر 629ء)

تحریر: نواز علی فاروقی

تاریخ کی کتابوں میں کچھ جنگیں صرف زمین کے ٹکڑوں یا طاقت کے توازن کے لیے نہیں لڑی جاتیں بل کہ وہ نظریات اور اقدار کے لیے بھی صفحۂ ہستی پر لکھی جاتی ہیں۔ جنگِ موتہ انہی میں سے ایک ہے۔ یہ سن 8 ہجری میں اس وقت برپا ہوئی جب رسول اکرم ﷺ نے اسلام کا پیغام مختلف حکمرانوں تک پہنچایا۔ ایک خط حضرت حارث بن عمیرؓ کے ہاتھ بازنطینی گورنر ”شرحبیل بن عمرو غسّانی“ کو بھیجا گیا لیکن اسلامی سفیر کو قتل کر دیا گیا۔ عرب کی سرزمین پر یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ ایک سفیر کو بے دردی سے مارا گیا۔ سفیر کا قتل صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بل کہ پورے پیغامِ اسلام اور مسلمانوں کی عزت و حرمت پر وار تھا۔ یہ ایک بین‌ الاقوامی اصول کی خلاف ورزی بھی تھی، کیوں کہ سفیر ہر حال میں امن کا پیامبر سمجھا جاتا ہے۔ اسی ظلم نے مسلمانوں کو مجبور کیا کہ وہ اس ناانصافی کا جواب دیں۔ یوں یہ جنگ صرف تلواروں کا تصادم نہیں بل کہ عزتِ رسالت اور اسلامی سفارت کی حرمت کی بقا کی جنگ بن گئی۔
رسول اکرم ﷺ نے تین ہزار مجاہدین پر مشتمل ایک لشکر تیار کیا۔ یہ اس وقت مسلمانوں کا سب سے بڑا لشکر تھا جو جزیرۂ عرب سے باہر کسی دشمن کے مقابلے کے لیے بھیجا گیا۔ اس لشکر کی قیادت کے لیے نبی کریم ﷺ نے ایک ترتیب مقرر فرمائی۔ پہلے امیر حضرت زید بن حارثہؓ کو بنایا گیا اگر وہ شہید ہو جائیں٬ تو حضرت جعفر بن ابی طالبؓ اور اگر وہ بھی شہید ہو جائیں٬ تو حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کو قیادت سونپی گئی۔ نبی اکرم ﷺ نے اس واضح ترتیب سے یہ سبق دیا کہ قیادت کبھی خالی نہ رہے اور جماعت ہمیشہ ایک مرکز کے تحت قائم رہے۔ یہ انتظامی حکمت عملی اسلام کے سیاسی و عسکری اصولوں کی عملی مثال تھی۔ تین ہزار کا یہ لشکر مدینہ سے روانہ ہوا تو پورا شہر ان کے ساتھ دعا گو تھا۔ اہلِ مدینہ کے دلوں میں تشویش بھی تھی کیوں کہ یہ پہلی بار تھا کہ مسلمان براہِ راست رومی سلطنت کے عظیم لشکر سے ٹکرانے جا رہے تھے۔
ادھر دشمن کی طاقت ناقابلِ یقین تھی۔ روایات کے مطابق رومیوں اور ان کے عرب حلیفوں کا لشکر ایک لاکھ سے دو لاکھ تک بیان کیا جاتا ہے۔ اس لشکر کی قیادت بازنطینی گورنر ”ہرقل“ کے جرنیلوں کے ہاتھ میں تھی یعنی مسلمانوں کے تین ہزار سپاہی ایسے لشکر کے سامنے کھڑے تھے جو تعداد میں ستر گنا زیادہ تھا۔ جنگ موتہ کے چند لمحے انسانی تاریخ کے ناقابلِ فراموش اوراق ہیں۔ حضرت زیدؓ بن حارثہ نے سب سے پہلے پرچمِ اسلام بلند رکھا اور بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے پھر حضرت جعفرؓ نے علم سنبھالا، گھوڑے سے اتر کر پیدل لڑے اور اپنے دونوں بازو کٹوا کر بھی علم زمین پر گرنے نہ دیا۔ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ نے بھی شہادت کا جام نوش کیا۔ جب تینوں نامزد قائدین شہید ہوگئے تو حضرت خالد بن ولیدؓ نے پرچم تھاما اور اپنی عسکری حکمت سے مسلمانوں کو یک جا کیا۔ ان کی حکمتِ عملی میں لشکر کو روزانہ نئی ترتیب دینا شامل تھا تا کہ دشمن کو مسلمانوں کی تعداد زیادہ محسوس ہو۔ یہ تدبیر اسلام کے فوجی ذہن کی پختگی کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ جنگ بظاہر اعداد و شمار کے لحاظ سے ناممکنات میں سے تھی۔ تین ہزار کا لشکر دو لاکھ کے ہجوم کے سامنے ڈٹ گیا۔ دشمن نے بھی اعتراف کیا کہ مسلمانوں کا حوصلہ اور نظم کسی معجزے سے کم نہیں۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے نہ صرف مسلمانوں کو شکست سے بچایا بل کہ لشکر کو محفوظ واپس بھی لے آئے۔ اس جنگ میں تین نامزد امیر شہید ہوئے جب کہ مجموعی طور پر کئی درجن مسلمان شہید اور دشمن کی ایک بڑی تعداد واصل جہنم ہوئی۔ اگرچہ اس جنگ کو ظاہری معنوں میں فتح یا شکست کے ترازو میں تولنا مشکل ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ایمان کی فتح تھی۔ مسلمانوں نے دنیا کو بتا دیا کہ ان کی صفوں میں وفاداری، ایثار اور عزم کی کمی نہیں۔ اسلام کے پیغام کو دبانے والے جان گئے کہ یہ چراغ اب بجھنے والا نہیں۔ اس جنگ نے اسلامی سفارت اور بین‌الاقوامی تعلقات میں ایک اصولی پیغام دیا کہ مسلمان اپنی عزت اور اپنے نمائندوں کی حرمت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ یہی وہ سبق ہے جو آج بھی ہمارے لیے روشنی کا مینار ہے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow