عرش کا ایک منظر

تحریر: نبیلہ حنیف

اس کائنات میں ہمیں بہت سے رنگ نظر آتے ہیں۔ اللہ کی قدرت کے ایسے رنگ جنھوں نے اس کائنات کی ہر شے کو ڈھانپا ہوا ہے۔ ہر غورو فکر کرنے والے کو ہر شے میں اس کی قدرت کی نشانیاں نظر آتی ہیں۔ مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ کچھ رنگ اور کچھ منظر ایسے بھی ہیں جن سے زیادہ لوگ واقف نہیں ہیں؟جیسا کہ عرش کا منظر:ایک ایسا منظر جس میں رب تعالی ہیں٬ فرشتے ہیں٬ تسبیحات ہیں اور نور ہی نور ہے۔ایسے میں ایک طرف سے صدا آتی ہے اور وہ صدا ہوتی ہے رب العالمین کی جو سب سے معتبر فرشتے حضرت جبرئیل ؑ کو دی جاتی ہے۔ اس صدا میں ذکر ہوتا ہے اس کائنات کے ایک چھوٹے سے سیارے میں بسنے والے دنیا میں گم نام سے انسان کا جسے دنیا میں بہت کم لوگ جانتے ہیں اس کا نام لیا جاتا ہے اور وہ نام جو اس کے والدین نے رکھا ہوتا ہے۔ اس چیز کو جب ہم تصور کرتے ہیں تو جسم کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ وہ رب ہمیں ہمارے نام سے پکارتا ہے۔آئیں! ایک بار ہم اس منظر میں چلتے ہیں جہاں پرنور فضا اور رب العالمین کی خوب صورت آواز ہے۔ جبرئیلؑ کو حکم دیا جاتا ہے کہ میں فلاں بندے / بندی سے محبت کرتا ہوں ٬ تم بھی اس سے محںت کرو۔
پتا ہے پھر کیا ہوتا ہے؟
جبرئیل ؑ بھی دنیا میں اس گم نام انسان سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر جبرئیل ؑ خوشی سے سرشار فرشتوں میں جاتے ہیں اور منادی کرتے ہیں کہ اللہ پاک فلاں بندے / بندی سے محبت کرتے ہیں اور میں بھی اس سے محبت کرتا ہوں لہذا تم بھی اس سے محبت کرو تو تمام فرشتے بھی اس انسان سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر اس انسان کے لیے اللہ تعالی چپکے سے دنیا میں موجود ان لوگوں کے دلوں میں محبت ڈال دیتے ہیں جن کو وہ پسند کرتے ہیں٬ جن سے وہ محبت رکھتے ہیں۔ پھر ایسا ہوتا ہے کہ جب ہم دنیا میں کسی ان جان انسان کو دیکھتے ہیں، اس سے بات کرتے ہیں تو وہ ہمیں اپنا سا اور قریبی محسوس ہوتا ہے۔ اس کے لیے ہمارے دل میں عزت خود بخود بڑھ جاتی ہے لیکن ہم سوچتے ہیں: ہم تو اسے جانتے تک نہیں اس سے اتنی اپنائیت کیوں محسوس ہو رہی ہے؟
انسان کیا جانے کہ جس سے جہانوں کا بادشاہ محبت کرے پھر مجال کسی انسان کی کہ وہ اس کی عزت اور قدر نہ کریں۔ یہ ہوتا ہے و تعز من تشاء کا حقیقی منظر کہ جس کو وہ بادشاہ چاہے عزت سے نواز دے۔یہ وہ منظر ہے جو میری نظروں نے دیکھا نہیں ہے لیکن میرے تخیل میں اس کا بہت گہرا اثر پایا جاتا ہے مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے میں اس حدیث پاک کو پڑھتے پڑھتے اس منظر میں گُم ہو گئی ہوں اور پھر میرے دل میں شدید حسرت ہوتی ہے کہ کبھی اس رب العالمین کی زبان مبارک سے میرا نام بھی پکارا جائے۔ آسمانوں میں مجھے بھی سب جانتے ہوں کاش کبھی ایسا بھی ہو۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow