کالم نگار: بلال سعید
یہ معاشرہ عزت نہیں بانٹتا، عزت بیچتا ہے۔ اور جو چیز بکتی ہے وہ عزت نہیں، دھوکہ ہے۔ ہم سب اس دھوکے کے کارخانے میں مزدور ہیں۔ یہاں سچائی کو عزت نہیں ملتی، بلکہ جھوٹ کی چمک اور دولت کی کھنک سے عزت تولی جاتی ہے۔ عزت اب کردار سے نہیں، جیب سے پھوٹتی ہے۔
کسی کے پاس نوٹ ہیں تو وہ باعزت ہے، چاہے رات کو ڈاکہ ڈال کر آیا ہو۔ کسی کے پاس کرسی ہے تو وہ عزت دار ہے، چاہے دن کو خون بہا کر آیا ہو۔ اور غریب؟ اس کی عزت نالی کے پانی کی طرح بہا دی جاتی ہے۔ نہ سلام، نہ نام۔
یہ جھوٹی عزت ہے… مصنوعی، سڑی ہوئی، بدبو دار۔ ایک ایسا نقاب جو ہم نے اپنے چہروں پر چڑھا رکھا ہے تاکہ اصل چہرے کی غلاظت چھپ سکے۔ یہ معاشرہ قبر تک جھوٹ کو عزت دیتا ہے، اور سچ کو گلی میں ننگا مار دیتا ہے۔
عزت کا یہ کارخانہ انسانیت کی لاش پر چلتا ہے۔ اور ہم سب اس کے مزدور ہیں، اپنی سچائی کو مشینوں میں پیس کر جھوٹ کی ملمع کاری کرتے ہیں۔میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، وہ شخص جس کے پاس ایک پائی نہیں، مگر کردار میں پہاڑ جیسی مضبوطی ہے—اسے سلام تک نہیں ملتا۔ اور وہی دوسرا، جس نے نوٹوں کی بھٹی میں حرام کے سکوں کو پگھلا کر سونا بنایا، وہ محفلوں میں “صاحب” کہلاتا ہے۔ یہ عزت نہیں، دھوکہ ہے۔یہ کارخانہ ہر جگہ کھلا ہے۔ گلیوں میں، دفتروں میں، سیاست کے ایوانوں میں۔ یہاں جھوٹے سرٹیفکیٹ عزت کے تمغے بن جاتے ہیں اور سچ بولنے والا پاگل قرار دیا جاتا ہے۔ جس نے پیسہ بنایا، چاہے زمینوں پر قبضہ کر کے یا خون بیچ کر—اسے عزت دار کہہ دیا گیا۔ اور جو بھوکا رہ کر بھی ایمان بچا لے، اسے معاشرہ جوتے کی نوک پر رکھتا ہے۔میں نے وہ ماں دیکھی ہے جس کے بیٹے نے سالوں تک حلال کی مزدوری کی، پسینہ بہایا، خون تھوکا—مگر کسی نے اسے سلام نہ کیا۔ پھر وہی بیٹا کسی وزیر کی گاڑی کے آگے کھڑا ہو کر ایک تصویر کھنچوا لے، تو گاؤں کے سب لوگ اس کی عزت کے گن گانے لگتے ہیں۔ گویا عزت پسینے سے نہیں، کسی طاقتور کے پس منظر سے جنم لیتی ہے۔
یہی جھوٹی عزت ہے جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ یہ معاشرہ عزت کو ایک پروڈکٹ بنا چکا ہے، جیسے دکانوں پر صابن بیچتے ہیں۔ بس فرق یہ ہے کہ صابن میل دھوتا ہے اور یہ جھوٹی عزت انسان کے ضمیر کو گندہ کرتی ہے۔
یاد رکھو! یہ عزت نہیں، یہ فریب ہے۔ یہ وہی دھوکہ ہے جسے ہم نے سچ مان لیا ہے۔ ہمارے گھروں میں، ہماری گلیوں میں، ہمارے ایوانوں میں—سب جگہ عزت کی یہ جعلی فیکٹریاں چل رہی ہیں۔ اور ہم سب، ہنستے مسکراتے، اپنی باری کا ٹوکن لیے کھڑے ہیں۔
سچ یہ ہے کہ عزت کردار سے نہیں، جیب سے تولی جانے لگے تو یہ عزت نہیں رہتی، یہ لعنت ہے۔ مگر ہم نے اس لعنت کو گلے کا ہار بنا لیا ہے۔ ہم اپنے بچوں کو بھی یہی پڑھا رہے ہیں کہ اصل کامیابی ڈگری میں نہیں، محنت میں نہیں، سچائی میں نہیں… بلکہ اس تصویر میں ہے جو کسی طاقتور کے ساتھ لگے۔
اور انجام؟ انجام وہی ہے کہ قبر پر نہ تمہارا بینک بیلنس ساتھ جائے گا، نہ تمہاری تصویریں، نہ تمہارے تعلقات۔ وہاں صرف ایک سوال ہوگا: تم نے خود کو بیچا یا بچایا؟یہ جھوٹی عزت کا کارخانہ ایک دن بند ضرور ہوگا—لیکن تب جب اس قوم کے لوگ یہ سمجھ جائیں گے کہ عزت خریدی نہیں جاتی، کمائی جاتی ہے۔ ورنہ تاریخ کی کوڑے دان میں ہمارے نام نہیں، صرف ہماری ذلت لکھی جائے گی۔
Latest Posts
