پاکستان کا تصور ایک ایسی ریاست کے طور پر کیا جاتا تھا جو امانت، دیانت داری اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کی بنیاد پر کھڑی ہو، لیکن آج حقیقت کچھ اور نظر آتی ہے۔ 5300 ارب روپے کی کرپشن کا انبار صرف ایک مالی بے ضابطگی نہیں بلکہ قوم کے اجتماعی ضمیر پر لگنے والا وہ داغ ہے جسے دنیا پوری توجہ سے دیکھتی ہے۔ جب ایک ملک کے اپنے حکمران اور ادارے اپنے اندر شفافیت قائم نہ رکھ سکیں تو پھر یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ دنیا اس ملک کے شہریوں اور ان کے پاسپورٹ کو عزت دے گی؟ کرپشن نے پاکستان کے معاشی ڈھانچے کو کھوکھلا کر دیا اور عالمی برادری نے اس صورت حال کو اس ملک کی کمزوری کا ثبوت سمجھا۔تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے، مگر جب پاکستان جیسے ملک میں قومی تعلیمی بجٹ محض 40 ارب روپے پر محدود رکھا جائے اور اس کے مقابلے میں 700 ارب روپے ایک ایسے سماجی پروگرام پر خرچ ہوں جو اکثر اوقات سیاسی مفادات یا بدانتظامی کی وجہ سے اصل ضرورت مندوں تک نہیں پہنچتا، تو دنیا لازمی سوال کرتی ہے کہ اس قوم کی ترجیحات کیا ہیں؟ تعلیم پر ضرب لگے گی تو نسلیں پیچھے رہیں گی، اور جب نسلیں پیچھے رہ جائیں تو ملک کبھی دنیا میں مقام حاصل نہیں کر سکتا۔ یہی وہ تضاد ہے جو عالمی سطح پر پاکستان کی شناخت کو کمزور بناتا ہے۔دنیا کے 140 ممالک میں سے پاکستان کو 138ویں نمبر پر رکھا جانا کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں کی پالیسیوں، فیصلوں اور بدعنوانی کا منطقی نتیجہ ہے۔ یہ درجہ بندی پاکستان کے نظامِ انصاف، گورننس، معاشی ڈھانچے اور سرکاری اداروں کی مجموعی کارکردگی کا ایک ایسا آئینہ ہے جس میں دلیر قومیں اپنی کمزوریوں کو دیکھ کر ان پر قابو پاتی ہیں۔ تاہم پاکستان میں اکثر اوقات اس آئینے کو توڑنے کی کوشش کی جاتی ہے نہ کہ خود کو سنوارنے کی۔لاقانونیت کی بڑھتی ہوئی لہر نے ملک کے اندر ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں لوگ انصاف سے مایوس اور قانون سے بے خوف نظر آتے ہیں۔ عدالتوں میں برسوں کیس لٹکنے، پولیس کا طاقتوروں کے سامنے بے بس ہونا اور کمزور کا ہمیشہ دب جانا دنیا کو یہی دکھاتا ہے کہ پاکستان میں قانون اور انصاف کا نظام کمزور ہے۔ جب ملک کے اندر انصاف نایاب ہو جائے تو باہر کی دنیا میں عزت خود بخود کم ہو جاتی ہے۔مہنگائی نے عام آدمی کی کمر اس بے رحمی سے توڑی ہے کہ لوگ روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو چکے ہیں۔ غریب کی زندگی ایک مسلسل جدوجہد بن چکی ہے، جب کہ اشرافیہ ٹیکس عام آدمی سے لیتی ہے اور مراعات خود رکھتی ہے۔ ایسے معاشرے میں دولت چند ہاتھوں میں سمٹ جاتی ہے اور باقی عوام اذیت میں مبتلا رہتے ہیں، اور دنیا دیکھتی ہے کہ پاکستان میں طبقاتی ناانصافی کس سطح تک بڑھ چکی ہے۔سرکاری اور مذہبی غنڈہ گردی نے پاکستان میں خوف کی فضا کو بڑھا دیا ہے۔ جب کچھ لوگ مذہب یا طاقت کے نام پر دھونس جماتے ہیں، اداروں کو کمزور کرتے ہیں اور قانون سے بالاتر ہو کر فیصلے مسلط کرتے ہیں تو دنیا اسے بے امنی، انتہا پسندی اور نافرمانی کے طور پر دیکھتی ہے۔ اس سے پاکستان کا وہ مثبت چہرہ دھندلا جاتا ہے جو کبھی دنیا میں ایک نرم اور مہمان نواز قوم کے طور پر جانا جاتا تھا۔اگر پاکستان کے پاسپورٹ کی عزت کم ہے تو اس کی وجہ پاسپورٹ خود نہیں بلکہ وہ حالات ہیں جنہوں نے پاکستان کی گرتی ہوئی ساکھ کو دنیا بھر میں بے نقاب کیا۔ دنیا پاسپورٹ پر اسٹیکر نہیں دیکھتی، دنیا ملک کے نظام، اس کے اداروں اور عوام کے طرزِ عمل کو دیکھتی ہے۔ جب اندرونی نظام کمزور ہو تو پاسپورٹ کی قدر بھی کم ہو جاتی ہے۔پاسپورٹ کی عزت اس وقت بلند ہوتی ہے جب کسی ملک کی معیشت مضبوط ہو، حکمران ایماندار ہوں، ادارے شفاف ہوں اور عوام قانون کی پاسداری کریں۔ مگر اگر ملک میں پالیسی سازی کمزور، کرپشن مضبوط اور انصاف نایاب ہو، تو پاسپورٹ کی وقعت کو کون بڑھائے گا؟ دنیا صرف وہی قومیں تسلیم کرتی ہے جو خود کو بہتر بناتی ہیں۔پاکستان کا اصل مسئلہ باہر والوں کا رویہ نہیں بلکہ اندرونی بے حسی ہے۔ جب ملک کے اندر عوام اور حکمران دونوں ہی اپنی غلطیوں کی ذمہ داری لینے سے گریز کریں تو پھر کوئی عالمی ادارہ، کوئی رینکنگ اور کوئی پاسپورٹ پاکستان کو عزت نہیں دلوا سکتا۔ عزت ہمیشہ خود کما کر حاصل کی جاتی ہے، مانگ کر نہیں۔پاکستان کا نظام کئی دہائیوں سے زوال کا شکار ہے۔ وہی پرانے قوانین، وہی پرانی سوچ اور وہی طاقت کے مراکز آج بھی ملک کو جکڑے ہوئے ہیں۔ اصلاحات کا ذکر تو کیا جاتا ہے مگر عملی میدان میں کچھ نہیں ہوتا۔ جب تبدیلی کا نعرہ حقیقت نہ بن سکے تو پھر قومیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔دنیا بھر میں ترقی یافتہ ممالک نے اپنے لوگوں پر سرمایہ کاری کی، انہیں تعلیم دی، صحت دی، انصاف دیا، مواقع دیے۔ پاکستان میں اس کے برعکس عوام پر خرچ ہمیشہ کم ہوا اور اشرافیہ پر زیادہ۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جس نے پاکستان کو عالمی میدان میں پیچھے دھکیل دیا۔پاکستان کے نوجوان اس قوم کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں، لیکن یہی نوجوان بہتر زندگی، بہتر تعلیم اور بہتر مواقع کے لیے ملک چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ کیونکہ ایک قوم اس وقت ترقی کرتی ہے جب وہ اپنے بہترین دماغوں کو اپنے اندر رکھ سکے، نہ کہ انہیں کھو دے۔مہنگائی، بے روزگاری، کرپشن اور لاقانونیت نے قوم کے اندر بے چینی بڑھا دی ہے۔ جب لوگ مایوسی میں ڈوب جائیں تو پھر معاشرے کی ترقی رک جاتی ہے۔ مایوس قومیں کبھی مضبوط نہیں رہ سکتیں، اور مضبوط قومیں کبھی دنیا میں بے وقعت نہیں ہوتیں۔عالمی اداروں نے پاکستان کی کارکردگی پر جو رپورٹس جاری کی ہیں وہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ وہ حقیقی تصویر ہے جسے دنیا دیکھ رہی ہے۔ جب دنیا کو شفافیت نہیں دکھتی تو اعتماد ختم ہوتا ہے، اور جب اعتماد ختم ہو جائے تو پاسپورٹ کا مقام بھی کم ہو جاتا ہے۔پاکستان کی نااہلی، بدانتظامی اور کمزور فیصلوں نے دنیا کو یہی بتایا کہ یہ ملک نہ تو اندرونی اصلاحات کے لیے تیار ہے اور نہ ہی بیرونی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان عالمی درجہ بندیوں میں نیچے جا رہا ہے اور اس کے شہریوں کو سخت سفری پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اگر پاکستان واقعی دنیا میں عزت چاہتا ہے تو سب سے پہلے اسے اپنے اندرونی حکمراں ڈھانچے کو درست کرنا ہوگا۔ قانون سب کے لیے برابر ہو، ادارے طاقتور ہوں، اور فیصلے انصاف پر ہوں۔ جب ملک اپنے اندر مضبوط ہو جائے گا تو دنیا خودبخود اس کی عزت کرے گی۔پاکستان کے اداروں کو غیر جانبدار بنایا جائے، انہیں سیاسی دباؤ سے آزاد کیا جائے اور انہیں وہ اختیار دیا جائے جو انصاف تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے۔ ادارے مضبوط ہوں گے تو ملک مضبوط ہو گا، اور جب ملک مضبوط ہو گا تو پاسپورٹ بھی باوقعت ہوگا۔پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں ذمہ داری قبول نہیں کی جاتی۔ ہر طبقہ اپنا بوجھ دوسرے پر ڈال دیتا ہے۔ جب تک ہم سب اپنی اپنی ذمہ داری تسلیم نہیں کریں گے، تبدیلی کبھی نہیں آئے گی۔ قومیں اجتماعی شعور سے بنتی ہیں، انفرادی فائدوں سے نہیں۔دنیا میں عزت خود اعتمادی، شفافیت اور سچائی سے ملتی ہے۔ اگر پاکستان اپنے مسائل کا حل خود تلاش کرے، اپنی پالیسیاں درست کرے اور واقعی کرپشن کے خلاف سنجیدہ قدم اٹھائے تو پاکستان کی عزت بڑھنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔پاکستان کی بدنامی کا ذمہ دار پاسپورٹ نہیں بلکہ وہ رویے اور پالیسیاں ہیں جنہوں نے پاکستان کو اس حالت تک پہنچایا۔ اگر ہم راستہ درست کر لیں، انصاف قائم ہو جائے، تعلیم عام ہو جائے اور کرپشن کا خاتمہ ہو جائے تو پاکستان کی عزت دنیا میں بلند ہو سکتی ہے۔دنیا میں ہر قوم نے اپنی تقدیر خود بدلی ہے۔ پاکستان بھی بدل سکتا ہے، لیکن صرف اس وقت جب قوم ایمانداری، محنت اور سچائی پر کھڑی ہو جائے۔ یہ ملک بے شمار وسائل رکھتا ہے، بے شمار صلاحیتیں رکھتا ہے مگر ضرورت صرف ایمان دار قیادت اور بیدار قوم کی ہے۔اگر پاکستان آگے بڑھنا چاہتا ہے تو اسے یہ سوچ بدلنی ہوگی کہ عزت باہر سے آئے گی۔ عزت ہمیشہ اندر سے پیدا ہوتی ہے۔ قومیں خود کو بہتر کریں تو دنیا ان کی عزت کرتی ہے، اور اگر قومیں خود کو تباہ کر لیں تو دنیا انہیں کبھی بھی عزت نہیں دیتی۔
Latest Posts
