از قلم: نوازش علی گوندل
نعمتوں پر شکر ادا کرنا بذاتِ خود ایک عظیم نعمت ہے مگر ہم میں سے اکثر افراد اپنی حاصل شدہ نعمتوں کو محسوس نہیں کرتے اور ہمیشہ ان چیزوں کا شکوہ کرتے ہیں جو ہمارے پاس نہیں ہوتیں لیکن ان نعمتوں پر غور نہیں کرتے جو ہمیں بلا کسی مطالبے کے عطا کر دی گئی ہیں۔ خدارا حاصل شدہ نعمتوں کو محسوس کریں۔
ذرا سوچیے! اگر انسان تندرست ہے، کسی موذی بیماری کا شکار نہیں، اس کی خوراک بخوبی ہضم ہو جاتی ہے، جسم کے تمام اعضاء اور نظامِ ہضم درست طور پر کام کر رہے ہیں۔ روزانہ تین وقت کا کھانا میسر ہے، نیند کی گولیاں کھائے بغیر پُرسکون نیند آ جاتی ہے۔ خاندانی رشتے قائم و دائم ہیں اور باعزت طریقے سے روزی حاصل ہو رہی ہے، تو وہ درحقیقت دنیا کے خوش نصیب ترین لوگوں میں شامل ہے۔
افسوس کہ ہم ان نعمتوں کو اس وقت تک نعمت نہیں سمجھتے جب تک ان میں سے کوئی ایک ہم سے چھن نہ جائے۔ صحت و تندرستی، نیند اور رشتے ایسی دولت ہیں جن کی قدر انسان عموماً محرومی کے بعد ہی کرتا ہے حالاں کہ اگر روزانہ چند لمحے نکال کر اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ چھوٹی سے چھوٹی نعمت پر (حالاں کہ کوئی نعمت بھی چھوٹی نہیں ہوتی) بھی شکر ادا کیا جائے تو دل میں اطمینان اور زندگی میں توازن پیدا ہو سکتا ہے۔
قناعت اور شکر گزاری وہ اوصاف ہیں جو نہ صرف دل کو سکون دیتے ہیں بل کہ انسان کو ذہنی اور روحانی طور پر مضبوط بھی بناتے ہیں۔
لہٰذا! ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم شکوہ کناں ہونے کے بجائے شکر گزار بنیں، اپنے رب کی عطا کردہ نعمتوں کو پہچانیں، ان کی قدر کریں اور قناعت کے ساتھ ایک پُرسکون اور مطمئن زندگی گزارنے کی کوشش کریں۔ یہی طرزِ فکر درحقیقت حقیقی خوشی اور کامیابی کی ضمانت ہے۔
Latest Posts
