عنوان: چراغِ زیست

صنف: کہانی
از قلم: زاریہ معشوق

سردیوں کی ایک کہر زدہ شام تھی۔ سورج کی کرنیں مغرب کے دامن میں چھپ چکی تھیں۔ در و دیوار پر خاموشی چھائی ہوئی تھی مگر صائمہ کے دل میں ایک طوفان برپا تھا۔ وہ خاموش بیٹھی آسمان کو تکتے ہوئے ماضی کے دریچے کھولے بیٹھی تھی۔
صائمہ، ایک متوسط گھرانے کی لڑکی تھی، جس کے خواب عام نہ تھے۔ وہ جانتی تھی کہ زندگی ہر ایک کے لیے آسان نہیں ہوتی مگر یہ بھی مانتی تھی کہ جدوجہد کے بغیر کوئی چراغِ زیست روشن نہیں ہوتا۔ والد ایک چھوٹی نوکری پر تھے اور ماں سلائی کر کے گھر کا بوجھ اٹھاتی تھیں۔ صائمہ نے غربت کو کبھی کمزوری نہیں بننے دیا۔ بچپن سے ہی اسے کتابوں سے محبت تھی۔ وہ ہر کتاب کو دل سے پڑھتی، لفظوں میں اپنا عکس ڈھونڈتی اور اکثر سوچتی تھی کہ کیا میرا بھی کوئی کردار ہوگا کسی کہانی میں؟
کیا میں بھی کسی کے لیے امید کی کرن بن سکوں گی؟
پھر ایک دن قسمت نے سخت امتحان لیا۔ والد کی اچانک وفات نے زندگی کا چہرہ بدل دیا۔ ماں کی آنکھوں کی چمک پھیکی پڑ گئی اور صائمہ کے کندھوں پر ذمہ داریوں کا بوجھ آن گرا مگر اس نے ہار نہ مانی۔ دن میں کالج اور رات کو بچوں کو ٹیوشن دینا اس کا معمول بن گیا۔ ہر دن ایک نیا چراغ تھا جسے وہ اپنی محنت سے روشن کرتی تھی۔ کچھ برس گزرے۔
صائمہ نے اپنی تعلیم مکمل کی اور ایک اسکول میں بطورِ استانی ملازمت اختیار کر لی۔ وہ صرف ایک معلمہ نہیں تھی بلکہ طلبہ کے دل کی آواز بن چکی تھی۔ اس کی باتوں میں وہ درد اور امید شامل تھی جو صرف وہی محسوس کر سکتے تھے جو زندگی کی تپتی دھوپ سے گزرے ہوں۔
ایک دن اسکول میں ایک ہونہار مگر خاموش لڑکی ’’حرا‘‘ سے اس کی خاص بات چیت ہوئی۔ حرا کے چہرے پر چھپا درد نمایاں تھا اور اس کی آنکھیں اکثر نمی سے بھیگی رہتیں۔ صائمہ نے نرمی سے پوچھا:
”سب ٹھیک ہے؟“
حرا پہلے تو خاموش رہی۔ پھر آہستہ سے بولی،
”میری امی کہتی ہیں کہ پڑھائی میں کچھ نہیں رکھا لیکن میرا دل چاہتا ہے کہ میں ڈاکٹر بنوں۔“
صائمہ کے لبوں پر ہلکی مسکراہٹ آ گئی۔ اسے اپنا ماضی یاد آ گیا۔ اس نے حرا کا ہاتھ تھاما اور کہا:
”یاد رکھو جو چراغ اندر جلتا ہے، وہ کبھی بجھنے نہ دینا۔ باقی سب خود بدل جائے گا۔“
اس دن کے بعد صائمہ نے حرا کی خصوصی رہنمائی کا بیڑا اٹھا لیا۔ گھر پر فری پڑھانا، نوٹس، مشورے سب کچھ۔ حرا میں نیا حوصلہ جاگ اٹھا۔ برسوں کی محنت رنگ لائی اور حرا میڈیکل کالج میں داخل ہو گئی۔ وقت گزرتا رہا۔
صائمہ اسی طرح کئی “حراؤں” کی زندگی بدلتی رہی ایک خاموش چراغ بن کر۔
پھر ایک دن اسکول میں سالانہ تقریب منعقد ہوئی۔ اسٹیج پر ڈاکٹر حرا بطور مہمانِ خصوصی موجود تھی۔ اس نے مائیک سنبھالا۔ ہال پر گہری خاموشی طاری تھی۔
وہ بولی:
”اگر آج میں یہاں کھڑی ہوں تو اس لیے نہیں کہ میرے خواب بڑے تھے بلکہ اس لیے کہ ایک استاد نے میرا ہاتھ تھاما تھا تب جب سب نے چھوڑ دیا تھا۔ صائمہ میم میرے لیے صرف ایک معلمہ نہیں، وہ چراغ تھیں جنہوں نے میرے اندھیرے میں روشنی کی لکیر کھینچی۔“
صائمہ کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر یہ آنسو شکر کے تھے، سکون کے تھے، اس روشنی کے تھے جو اس کی زندگی کا حاصل بن چکی تھی۔
تقریب کے بعد جب لوگ تصویر کشی اور مصافحوں میں مصروف تھے، صائمہ ایک کونے میں بیٹھ کر آسمان دیکھ رہی تھی۔ وہ ستارے جو بچپن میں اس کے خوابوں کے گواہ تھے، آج بھی جگمگا رہے تھے جیسے اس کی کامیابی پر مسکرا رہے ہوں۔
اُسی لمحے اسکول کی ایک ننھی بچی “ایمن” دوڑتی ہوئی آئی اور بولی:
”میم! میں بھی ڈاکٹر بنوں گی، آپ مجھے بھی پڑھائیں گی نا؟“
صائمہ نے جھک کر اس کا چہرہ تھاما اور نرمی سے کہا:
”ضرور مگر وعدہ کرو کہ جب تم کامیاب ہو جاؤ گی، تو کسی ایمن کا ہاتھ تم بھی تھامو گی۔“
ایمن نے معصومیت سے سر ہلایا اور لپٹ گئی۔
اس لمحے صائمہ کو یوں محسوس ہوا جیسے اس کی زندگی نے ایک نیا دائرہ مکمل کر لیا ہو۔ وہ صرف استاد نہیں رہی تھی بلکہ اب وہ ایک سلسلہ بن چکی تھی چراغ در چراغ جلنے والا، روشنی کا سفر۔
رات گئے جب وہ گھر پہنچی، تو امی نے اسے دیکھ کر کہا:
”بیٹا، آج تمہارے ابو ہوتے تو کتنا خوش ہوتے.۔“
صائمہ مسکرا دی مگر آنکھیں نم تھیں۔ اس نے قرآن کھولا اور زیرِ لب دعا کی:
”اے رب! مجھے اس وقت تک جلاتے رہنا، جب تک میری روشنی کسی دل میں امید نہ جگا دے۔“

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow