افسانہ: ادیب کی عزت

اخلاق احمد ساغر
گاؤں کی لائبریری کے پرانے کمرے میں ایک کرسی پر دبلا پتلا، لمبے قد کا ایک آدمی بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے بوسیدہ میز پر چند کتابیں، ایک روشن لالٹین اور کاغذوں کا ڈھیر رکھا ہوا تھا۔ وہ آدمی گاؤں کے سب لوگوں کے لیے “ادیب صاحب” کہلاتا تھا۔ اصل نام کوئی کم ہی جانتا تھا اور جو جانتے تھے وہ بھی عموماً بھول جاتے مگر جب بھی گاؤں میں کوئی ادبی مشاعرہ ہوتا یا کسی کو خط لکھوانا پڑتا تو سب ایک ہی دروازے پر جاتے “ادیب صاحب” کے۔
ادیب کی عزت تھی لیکن یہ عزت عجیب تھی۔ عزت تھی بھی اور نہیں بھی۔ لوگ لفظوں میں انھیں عزت دیتے، “واہ، کیا بات ہے” کہہ کر داد دیتے مگر جب کبھی زندگی کی اصل ضرورتوں کی باری آتی جیسے روٹی، مکان، کپڑا تو وہ عزت دھویں کی طرح اڑ جاتی۔
گاؤں کے چودھری اکثر کہتے:
“ارے بھئی! یہ ادیب لوگ بھی نرالے ہیں۔ بھوک سے نڈھال ہوں گے لیکن قلم سے دل بہلاتے رہیں گے۔”
مگر انھی چودھریوں کی محفلوں میں جب کوئی شادی یا تقریب ہوتی تو سب سے پہلے ادیب صاحب کو بلا کر تقریر لکھوائی جاتی۔ لوگ اپنی تقریر میں علمیت جھاڑتے اور داد پاتے مگر اس کے پیچھے کا لکھنے والا کون تھا، اس کا ذکر شاذ و نادر ہی ہوتا۔
ادیب صاحب کی زندگی یوں ہی گزر رہی تھی۔ چھوٹا سا کچا مکان، دو بچے، بیوی بیمار رہتی مگر آنکھوں میں خواب بڑے۔ خواب کہ کبھی وہ اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرے کو جگا پائیں گے۔ خواب کہ کبھی کتابیں ان کے لیے عزت بھی کمائیں گی، روزی بھی مگر خواب خواب ہی رہتے۔
ایک دن شہر سے ایک بڑے اخبار کا نمائندہ آیا۔ اس نے گاؤں میں خبر سنی تھی کہ یہاں ایک ایسا شخص رہتا ہے جس کی تحریریں دلوں کو بدل دیتی ہیں۔ وہ سیدھا لائبریری کے کمرے میں پہنچا۔
“کیا آپ ادیب صاحب ہیں؟” اس نے پوچھا۔
ادیب نے مسکرا کر جواب دیا: “جی، گاؤں والے تو مجھے اسی نام سے پکارتے ہیں۔”
نمائندہ کچھ دیر ان سے گفتگو کرتا رہا۔ پھر اس نے کہا:
“ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے اخبار کے لیے مضامین لکھا کریں۔ معاوضہ زیادہ تو نہیں ہوگا مگر آپ کا نام پورے صوبے میں پہچانا جائے گا۔”
ادیب کے لیے یہ لمحہ خواب کی تعبیر جیسا تھا۔ انھوں نے کاغذ قلم سنبھالا اور راتوں کو جاگ کر لکھنا شروع کر دیا۔ ان کی تحریریں اخبار میں چھپنے لگیں۔ گاؤں کے لوگ فخر سے کہتے:
“دیکھو، ہمارے گاؤں کے ادیب کا نام اخبار میں آیا ہے!”
اب ادیب کی عزت اور بھی بڑھ گئی مگر جیب اب بھی خالی تھی۔ اخبار والوں کا معاوضہ بہت قلیل تھا اور اکثر وقت پر بھی نہ ملتا۔ بیوی شکایت کرتی:
“عزت سے پیٹ نہیں بھرتا۔ بچے کتابیں مانگتے ہیں، دوائی چاہیے۔ آپ کی تحریریں لوگوں کے دل کو سکون دیتی ہیں مگر ہمارے گھر میں بے سکونی ہے۔”
ادیب صاحب خاموش رہتے۔ وہ جانتے تھے کہ بیوی سچ کہتی ہے مگر ان کا دل قلم کو چھوڑنے پر راضی نہ تھا۔
وقت گزرتا گیا۔ ایک دن گاؤں میں بڑی تقریب ہوئی۔ وزیرِ تعلیم آنے والے تھے۔ انتظامیہ نے ادیب صاحب کو تقریر لکھنے کی دعوت دی۔
چند دنوں کی محنت کے بعد انھوں نے ایسی تقریر لکھی کہ سب حیران رہ گئے۔ الفاظ موتیوں کی طرح جُڑ گئے تھے، خیالات میں آگ بھی تھی اور روشنی بھی۔ تقریب والے دن وزیر نے وہی تقریر پڑھی اور تالیاں گونج اٹھیں۔ وزیر نے تقریب کےاختتام پر میزبان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا:
“اس تقریر نے میرا قد بلند کر دیا ۔”
مگر کسی نے یہ نہ کہا کہ یہ تقریر کس نے لکھی تھی۔
وزیر چلا گیا، چودھری خوش ہو گئے مگر ادیب صاحب پھر وہیں لائبریری کے کمرے میں لوٹ آئے۔
اگلی صبح گاؤں کے ایک بچے نے پوچھا:
“ادیب چچا! آپ کو اتنی عزت کیوں نہیں ملتی جتنی ان بڑے لوگوں کو ملتی ہے جو آپ سے لکھواتے ہیں؟”
ادیب صاحب نے مسکرا کر کہا:
“بیٹا، عزت کبھی کبھی دکھائی نہیں دیتی۔ عزت وہ ہے جو لفظوں میں زندہ رہتی ہے۔ لوگ بھول جائیں گے کہ تقریر کس نے پڑھی مگر یاد رکھیں گے کہ اس میں سچائی کیا تھی۔”
بچہ خاموش ہو گیا مگر اس کے دل میں یہ سوال ہمیشہ کے لیے بیٹھ گیا۔
کچھ عرصہ بعد ادیب صاحب سخت بیمار ہو گئے۔ دوا کے پیسے نہ تھے۔ دوست احباب محفلوں میں تو آتے، داد دیتے لیکن مشکل وقت میں کوئی پاس نہ آیا۔
اسی دوران ایک روز شہر کے اخبار میں ان کا ایک افسانہ شائع ہوا “ادیب کی عزت”۔ یہ افسانہ دراصل ان کی اپنی زندگی کی جھلک تھا۔ اس میں ایک ایسے کردار کو دکھایا گیا تھا جو سب کے لیے لکھتا ہے مگر خود گمنام رہتا ہے۔ افسانہ شائع ہوتے ہی دھوم مچ گئی۔
شہر کے بڑے ادیبوں نے کہا:
“یہ قلم کار تو بڑا قیمتی ہے۔”
ادبی حلقوں میں بحث چھڑ گئی مگر جب تک یہ شور ہوا، تب تک ادیب صاحب بستر پر آخری سانسیں گن رہے تھے۔
گاؤں والوں نے ان کے جنازے پر بڑا مجمع اکٹھا کیا۔ ہر کوئی کہہ رہا تھا:
“واہ! کیا آدمی تھا۔ بڑا ادیب تھا۔”

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow