عنوان: معاشرتی دکھاوا اور ہماری بےحسی

ازقلم : سیدہ صالبیہ حسن ذیدی
یہ دُنیا محض ایک دکھاوا ہے اور ہم اپنی ساری زندگی یہ ثابت کرنے میں لگا دیتے ہیں کہ ہم سب سے بہتر اور سب سے مختلف ہیں۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ جس دکھاوے کے پیچھے ہم بھاگ رہے ہیں، کیا معاشرہ اور ہماری اقدار اس کی اجازت دیتے ہیں؟
شاید آپ کو میری بات ابتدائی طور پر سمجھ نہ آئی ہو۔ چلیں! میں اس کی تفصیل بیان کرتی ہوں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ سب سے زیادہ دکھاوا شادی بیاہ کی تقریبات میں کرتے ہیں۔ سب سے پہلے تو مخلوط تقاریب کا رواج ہے جس کی وجہ سے وہ خواتین اور مرد مشکل کا شکار ہوتے ہیں جو اسلامی طرزِ زندگی کو پسند کرتے ہوئے ان اصولوں پر قائم رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر اس بات پر اعتراض کیا جائے تو صاف الفاظ میں سنا دیا جاتا ہے کہ ایسے افراد شادی میں نہ آئیں۔
ایک نئی رسم جو آج کل بہت زیادہ عام ہو چکی ہے، وہ ہے سب کے سامنے دُلہن کو چومنے کی رسم۔ دُولہا سب کے سامنے گھونگھٹ اٹھاتا ہے اور دُلہن کا ماتھا یا گال چومتا ہے۔ اب مجھے یہ بتائیں کہ یہ سب کیا ہے؟ میں مانتی ہوں کہ نکاح ہو گیا تو تمام حقوقِ زوجیت آپ کو مل گئے لیکن کیا اسلام اس کھلے عام نمائش کو پسند کرتا ہے؟
آج سے چودہ سو سال پیچھے دیکھیے تو عرب کے مشرک لوگ سب کے سامنے اپنی بیویوں کے بارے میں چسکے لے کر بتاتے اور اس پر فخر محسوس کرتے تھے اور سننے والے جب ایک شوہر کے منہ سے اس کی بیوی کے بارے میں ایسی غلیظ باتیں سنتے تو بعض اوقات اس کی بیوی بطور لونڈی مانگ لیتے تھے کچھ دن کے لیے۔
تو اب آج کے دور میں اگر ہم نوجوان لڑکے یا لڑکیوں کے سامنے اپنی جائز منکوحہ کو گلے لگائیں اور بوس و کنار کریں۔ ذرا سوچیے! جو دیکھ رہے ہیں وہ کیا سوچیں گے؟ اُن کے جذبات کو ہوا کون دے رہا ہے؟
اب یہ مت کہیے گا کہ یہ ان کی غلطی ہے اور ان کو گناہ ملے گا۔ جو دِکھاؤ گے، وہی دیکھا جائے گا اور پھر وہ دیکھنے والا جو سوچے گا، اُس کا گناہ دکھانے والے کو بھی ملے گا اگر یہ بات کی جائے کہ ”اتنا تو چلتا ہے“ تو یاد رکھیے کہ چھوٹا اور تھوڑا گناہ ہمیشہ کم لگتا ہے مگر یہ وہی لکڑی بنتا ہے جو جہنم کے ایندھن کو بھڑکاتی ہے۔
شادیوں میں ڈانس اور گانے اس قدر عام ہیں اور جاتے ہوئے رُخصتی پر محض ایک دکھاوے کے طور پر قرآن پاک سر پر رکھ دیا جاتا ہے۔ کزنز کا مرد کزنز کے ساتھ ڈانس، دوپٹے غائب، آستین غائب اور سارے نظارے کھلے عام۔ دُولہے کی موجودگی میں ایک نامحرم دُلہن کو تصاویر کے پوز کے لیے ہاتھ لگا رہا ہوتا ہے۔ ٹھیک ہے سب چلتا ہے جناب! یہ پاکستان ہے، اسلامی جمہوریہ پاکستان! اس کا آئین اسلامی ہے، ملک اسلامی ہے اور ہم باشندے مغربی سوچ والے ہیں۔
اصل مشکل آج سے چودہ سو سال پہلے تھی، جب بے حیائی عام تھی اور اسلام کو پھیلانا مشکل تھا کیوں کہ سب کافر اور مشرک تھے مگر آج سب مسلمان ہیں لیکن گناہ اور بے حیائی عام ہے۔ اگر صاف بات کرو تو ”مُلا، مولوی، پینڈو“ کا ٹیگ ماتھے پر لگ جاتا ہے۔ خود سوچیں، تب پردہ مشکل تھا یا اب؟
اُس دور میں ایسی خواتین بھی موجود تھیں جنہیں طاہرہ کا لقب دیا گیا اور یہ لقب بھی اُس دور کے مشرک لوگوں نے دیا تھا اور آج کے دور میں لڑکے یہ کہتے ہیں کہ ”مان ہی نہیں سکتے کہ کسی لڑکی کا کوئی بوائے فرینڈ نہ ہو یا وہ لڑکوں سے بات نہ کرتی ہو۔“ وہ بھی دَور تھا اور یہ بھی دَور ہے۔ اب بتانا آپ کو ہے کہ کون سا دَور مشکل تھا؟ تب کا یا اب کا؟
علامہ محمد اقبال کیا خوب فرماتے ہیں کہ:
دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زرِ کم عیار ہوگا
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow